سلامتی

کامیاب امن-21 مشقیں خطے میں زیادہ استحکام لانے والی تصور کی گئی ہیں

از ضیاء الرحمان

image

امن-21 مشقوں میں شامل کئی ممالک سے تعلق رکھنے والے جہاز 16 فروری کو کراچی کے قریب ایک اختتامی تقریب میں شریک ہیں۔ [پاکستانی بحریہ]

کراچی -- حکام اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کامیاب کثیر ملکی امن-21 بحری مشقیں امن کو یقینی بنانے اور سمندری دہشت گردی کے خلاف لڑنے کے لیے علاقائی اور علاقے سے باہر کی بحری افواج کے مابین مزید دفاعی تعاون کی راہ ہموار کریں گی۔

پینتالیس ممالک نے -- بحری جنگی جہازوں، تباہ کاروں، جنگی ہوائی جہازوں، خصوصی کارروائیوں کی ٹیموں، بارودی ماہرین اور عسکری مبصرین کے ساتھ -- امن-21 مشقوں میں حصہ لیا، جن کا آغاز 12 فروری کو کراچی کے ساحل سے باہر بحیرۂ عرب میں ہوا تھا۔

امن کثیر ملکی مشقوں کے ساتویں ایڈیشن کا اختتام منگل (16 فروری) کو حصہ لینے والے جہازوں کے جائزے کے بعد ہوا۔

مشقوں کو دو مراحل میں تقسیم کیا گیا تھا: بندرگاہ پر اور سمندر میں۔ بندرگاہ پر ہونے والی سرگرمیوں میں سیمینارز، مباحثے، مظاہرے اور بین الاقوامی اجتماعات شامل تھے، جبکہ سمندر میں ہونے والی سرگرمیوں میں تکنیکی مشقیں، فائرنگ کی مشقیں، اور تلاش اور ریسکیو کے مشن شامل تھے۔

image

16 فروری کو پاکستانی بحریہ کا ایک جہاز امن-21 کے سمندری مرحلے کے دوران براہِ راست فائرنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے۔ [پاکستانی بحریہ]

image

16 فروری کو پاکستانی بحریہ کے جنگی جہاز امن-21 کے سمندری مرحلے کے دوران پرواز کرتے ہوئے۔ [پاکستانی بحریہ]

وزیرِ اعظم عمران خان نے سوموار کے روز ٹویٹ کیا کہ مشق "کامیابی کے ساتھ پاکستان کی پُرامن بقائے باہمی اور کثیر طرفہ تعلقات کے ساتھ وابستگی کا مظاہرہ کرتی ہے، جو [email protected] کے علاقائی امن و استحکام کے ویژن سے ہم آہنگ ہے۔"

خان نے پرچم بردار مشقوں میں حصہ لینے پر تمام شریک ممالک کو مبارک باد دی۔

کموڈور خان محمود آصف نے کہا کہ امن-21 کا مقصد علاقائی اور علاقے سے باہر کی بحری افواج کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنا اور مل کر کام کرنے کی صلاحیت میں اضافے کے لیے تخمینہ کاری کی کارروائیاں کرنا ہے۔

انہوں نے ذرائع ابلاغ کو بتایا، "مشق کا مقصد دہشت گردی کے خطرات، قذاقی ور سمندری دفاع اور استحکام کے لیے خطرہ بننے والے دیگر جرائم کا مقابلہ کرنے کے لیے بحری افواج کو اکٹھا کرنا تھا۔"

علاقائی استحکام میں اضافہ

پاکستانی بحریہ نے سمندروں کو محفوظ تر بنانے میں مدد کے لیے سنہ 2007 کے بعد سے ہر دو سال بعد امن مشق کا انعقاد کیا ہے۔

تب سے، مشقوں میں شرکاء کی تعداد میں متواتر اضافہ ہوا ہے۔ سنہ 2007 کی مشقوں میں، 28 ممالک نے حصہ لیا تھا، جبکہ اس سال 45 ممالک مشقوں میں شریک ہوئے۔

بحری امور کے ایک تجزیہ کار، کراچی کے سید اصغر بخاری نے کہا، "برسوں سے شرکاء کی تعداد میں اضافہ سمندر میں دورِ حاضر کی مشکلات، خصوصا دہشت گردی اور قذاقی کا مقابلہ کرنے کے لیے عسکری تعاون کے آغاز میں، سمندری اقوام، علاقائی اور غیر علاقائی دونوں، میں بڑھتی ہوئی ترغیب کی عکاسی کرتا ہے۔"

بخاری نے کہا، "امن مشقیں علاقائی استحکام میں اضافہ کرنے میں بھی مدد کر رہی ہیں۔"

پاکستانی سینیٹ کی کمیٹی برائے خارجہ امور کے چیئرمین، مشاہد حسین سید نے کہا کہ پاکستان کی بحری سفارتکاری ملک کی 45 متنوع ممالک اور ان کی بحری افواج کو بحرِ ہند کے علاقے میں امن کے ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر لانے کی صلاحیت کی کلیدی مثال ہے۔

سنہ 2015 میں، پاکستان کی سمندری حدود میں تقریباً 50،000 مربع کلومیٹر کا اضافہ ہوا تھا جب اقوامِ متحدہ کے کمیشن برائے کانٹیننٹل شیلف کی حدود نے سمندری حدود کی توسیع کا اسلام آباد کا دعویٰ تسلیم کر لیا تھا۔

اس تبدیلی سے پاکستان کی سمندری حدود 200 ناٹیکل میل سے بڑھ کر 350 ناٹیکل میل ہو گئی تھیں۔

دی نیوز انٹرنیشنل کے مطابق، کراچی میں 15-13 فروری کو ہونے والی بین الاقوامی بحری کانفرنس میں مشاہد حسین نے کہا کہ پاکستان کے لیے ایک بحری تجارتی پالیسی کا اطلاق کرنا لازمی ہے جو بحرِ ہند میں کانٹیننٹل شیلف کو بنیاد بنائے اور اس کی بحریہ کو قائدانہ کردار دے۔

سمندری دہشت گردی کے خلاف کوششیں

سمندری دہشت گردی کو نمایاں بین الاقوامی توجہ ملی ہے، خصوصاً 11/9 کے حملوں کے بعد، جب القاعدہ نے بحری اور تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی۔

القاعدہ اور دیگر دہشت گردوں کی جانب سے خطرے کو شکست دینے کے لیے، سنہ 2004 میں، پاکستان امریکی قیادت میں مشترکہ بحری افواج (سی ایم ایف) میں شامل ہوا تھا، 33 ممالک کا اتحاد جو سی ایم ایف کی ویب سائٹ کے مطابق، "کھلے سمندر میں ممنوعہ غیر سرکاری کرداروں کا مقابلہ کر کے ۔۔۔ بین الاقوامی اصول پر مبنی نظم برقرار رکنے کے لیے موجود ہے۔"

سی ایم ایف "بین الاقوامی پانیوں کے اندازاً 3.2 ملین مربع میل" کی حفاظت کرتا ہے اور اس کا ہیڈکوارٹر بحرین میں امریکی بحری بیس پر ہے۔

پاکستان سی ایم ایف کی تین ٹاسک فورسز میں سے دو میں شریک ہے، اور کئی بار ان کی سربراہی بھی کر چکا ہے: سی ٹی ایف 150، جو خلیج سے باہر سمندری امن کی حفاظت کرتی ہے، اور سی ٹی ایف 51۔ جو خلیجِ عدن اور صومالیہ کے مشرقی ساحل سے باہر قذاقی کے خلاف لڑتی ہے۔

بحریہ دہشت گردی کے کئی واقعات کا نشانہ بن چکی ہے۔

ستمبر 2014 میں، القاعدہ کے ساتھ منسلک عسکریت پسندوں نے پاکستانی بحریہ کا ایک جنگی جہاز، پی این ایس ذوالفقار ہائی جیک کرنے کی کوشش کی، لیکن بحریہ کے اہلکاروں نے سازش کو ناکام بنا دیا۔ ایک پاکستانی افسر شہید جبکہ تین دہشت گرد مارے گئے تھے۔

اس وقت رائٹرز نے خبر دی تھی کہ القاعدہ نے بعد ازاں کہا تھا کہ اس نے ذوالفقار نو امریکی بحری جہازوں پر حملے کرنے کے لیے استعمال کرنے کا منصوبہ بنا رکھا تھا۔

مئی 2011 میں، القاعدہ کے ساتھ منسلک تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے عسکریت پسندوں نے کراچی میں پاکستانی بحریہ کی مہران بیس پر حملہ کیا تھا، جس میں دو پی-3سی اوریون سمندری نگرانی کے ہوائی جہاز تباہ کر دیئے گئے تھے۔

اس لڑائی میں پاکستانی فوج کے سولہ اہلکار شہید ہوئے تھے اور چار دہشت گرد مارے گئے تھے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500