سلامتی

پاکستانی خاتون سیاح کی جانب سے پاکستان میں اکیلے سفر کرنے کی منظوری

از عدیل سعید

image

ماریہ سومرو 21 ستمبر کو گلگت بلتستان میں شمشال وادی میں سفر کے دوران ایک وین کی چھت پر سوار ہیں۔ [تصویر بشکریہ ماریہ سومرو]

پشاور -- مہم جو اور متجسس ماریہ سومرو نے پاکستان میں اکیلے سفر کرنا منظور کیا ہے۔

30 سالہ سومرو گزشتہ چھ ماہ سے پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں اپنی سواری کے بغیر سفر کرتی رہی ہیں، جہاں انہیں ہر طرف خوبصورتی نظر آئی -- خوبصورت نواحی علاقہ جات کے لوگوں میں جو کہ پیار کرنے والے، شفیق، مہمان نواز اور احترام کرنے والے ہیں۔

گلگت بلتستان کے دارالحکومت، گلگت سے گفتگو کرتے ہوئے سومرو نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "مارچ 2020 سے، جب میں نے لاہور سے اپنی سواری کے بغیر سفر کرنا شروع کیا تھا، میری ملاقات مختلف پس منظر کے حامل کوئی 300 افراد کے ساتھ ہوئی اور لگ بھگ سبھی بہت تعاون کرنے والے، شفیق، بامروت اور احترام کرنے والے تھے۔"

ان کا کہنا تھا، "میں اپنے جیسی مہم جوئی کو پسند کرنے والی خواتین کو مشورہ دوں گی کہ آگے بڑھیں، منصوبہ بنائیں، اپنے سفری تھیلے اٹھائیں اور آسانی کے ساتھ پاکستان کے حسن کو کھوجیں، مقامات کے لحاظ سے بھی اور گروہوں کے لحاظ سے بھی۔"

image

ماریہ سومرو 12 ستمبر کو پاسو، گلگت بلتستان میں ایک لکڑی کے پُل پر کھڑی ہیں۔ وہ گزشتہ چھ ماہ سے اکیلی پاکستان کے شمالی علاقہ جات، بشمول خیبرپختونخوا میں سفر کرتی رہی ہیں۔ [تصویر بشکریہ ماریہ سومرو]

image

8 ستمبر کو، روایتی لباس زیبِ تن کیے، ماریہ سومرو ضلع چترال کی وادیٔ کیلاش کی سیر کے دوران مقامی لڑکیوں سے محوِ گفتگو ہیں۔ [تصویر بشکریہ ماریہ سومرو]

انہوں نے مزید کہا، "میں سوات، چترال، بالائی دیر اور گلگت بلتستان کے پہاڑی علاقوں میں دم بخود کر دینے والے خوبصورت مقاماتدیکھ کر ششدر رہ گئی، جو کہ اگر میں یہ پہل نہ کرتی تو میرے لیے ان دیکھے رہ جاتے۔"

کراچی کی رہائشی، سومرو نے اپنی سواری کے بغیر ملک کے مختلف حصوں کی سیر کرنے کے اپنے خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے کے لیے اپنی بینک کی ملازمت کو خیرباد کہا۔

"یہ پہلا موقع ہے کہ میں نے اکیلے سفر کیا ہے۔ اس سے پہلے، میں نے اپنے دوستوں کے ہمراہ مختلف علاقوں کی سیر کی ہے۔"

انہوں نے کہا کہ اپنی سواری کے بغیر سفر کرنا ایک بہترین طریقہ ہے کیونکہ اس سے پیسوں کی بچت ہوتی ہے، جس سے سیاح اپنے سفر کو وسعت دینے اور زیادہ علاقوں کی سیر کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔

حفاظتی مشورہ

پھر بھی، انہوں نے خواتین سیاحوں کو ایسی سیاحی کا آغاز کرنے سے قبل حفاظت کے بنیادی اصول سیکھنے کا مشورہ دیا۔

وہ صرف دن کے اجالے میں سفر کرتی ہیں اور ہمیشہ بھیڑ بھاڑ والی جگہوں پر گاڑی والوں سے لفٹ مانگتی ہیں۔ اس کے علاوہ، جب وہ کیمپ لگاتی ہیں، وہ آبادی والے علاقوں کے قریب خیمہ زن ہوتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سیاحوں کو چاہیئے کہ اپنی آمد کے متعلق مقامی پولیس کو مطلع کریں اور جس گاڑی میں سفر کرتے ہیں اس کی تفصیلات بمعہ جی پی ایس لوکیشن ایک انچارج افسر یا ایک بااعتماد دوست کو بتائیں۔

اضافی حفاظت کے لیے، وہ ایک چاقو اور مرچوں والا سپرے اپنے پاس رکھتی ہیں، تاہم انہیں کبھی بھی اس کے استعمال کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ سومرو نے خواتین سیاحوں کے لیے اپنا حفاظتی مشورہ اپنے انسٹا گرام چینل (@MariaSoomro_) پر پوسٹ کیا ہے۔

اپنے سفر کے دوران، سومرو نے خیبرپختونخوا (کے پی) کے مختلف حصوں کی سیر کیبشمول سوات، جو حالیہ برسوں میں دہشت گردوں کی نرسری رہا تھا جس کے بعد فوج نے خطے میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنایا۔

انہوں نے اپنے مشاہدہ بیان کیا کہ، "میں پاکستان سے تعلق رکھنے والی بغیر اپنی سواری کے سفر کرنے والی پہلی خاتون سیاح ہوں جس نے اکیلے ان علاقوں میں سفر کیا ہے، اور مجھے پتہ چلا کہ سیاحوں کے لیے وہاں کوئی خطرہ نہیں ہے کیونکہ مقامی افراد ۔۔۔ مہمانوں کی بھرپور مہمان نوازی کرتے ہیں۔"

اپنے سفر کے دوران، ان کی ملاقات اپنی سواری کے بغیر سفر کرنے والے تین غیر ملکیوں سے ہوئی جو الگ الگ گلگت بلتستان کی وادیٔ شمشال میں سفر کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ اگر غیر ملکی آ سکتے ہیں اور پاکستان میں خوبصورت مقامات کی سیر کر سکتے ہیں، تو پاکستانی -- خصوصاً خواتین -- کو اپنے وطن میں ایسی مہمات کا فائدہ اٹھانا چاہیئے۔

اب جب وہ گلگت پہنچ گئی ہیں، ان کا ارادہ ہے کہ وہ اپنا سفر مکمل کریں اور کراچی واپس لوٹ آئیں۔ جب وہ گھر پہنچ جائیں گی، تو ان کا ارادہ ہے کہ پاکستان اور اس کے باسیوں کا اصل چہرہ دکھانے کے لیے اپنے تجربات پر مشتمل ایک سفرنامہ لکھیں۔

کے پی کی ساکھ بڑھانا

پشاور کے مقامی سفری منتظم سحری ٹریول کے انتظامی ڈائریکٹر، ظہور درانی نے کہا کہ کے پی میں سومرو کا سفر ان اقدامات کا ثبوت ہے جو سیکیورٹی فورسز نے خطے میں امن و امان کو بہتر بنانے کے لیے کیے ہیں۔

انہوں نے کہا، "یہ سن کر بہت ہمت بڑھی کہ اکیلی خاتون سیاح نے کرائے کی سواریاں پکڑ پکڑ کر ہمارے صوبے کی سیر کی اور یہ کہ ان کا تجربہ بہت مثبت ہے۔"

انہوں نے کہا کہ عسکریت پسندی میں اضافے اور سنہ 2000 سے 2017 تک دہشت گردی کی واقعات نے ملک، خصوصاً کے پی کے تشخص کو مجروح کیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ بہت سے سیاح ان کی کمپنی سے رابطہ کرتے ہیں اور کے پی میں حسین مناظر والے مقامات کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں مگر ابھی بھی امن و امان کی صورتحال کے متعلق محتاط ہوتے ہیں۔

درانی نے کہا کہ ذرائع ابلاغ کو چاہیئے کہ خطے کے تشخص کو اجاگر کرنے کے لیے سومرو کے سفر کی تشہیر کریں اور بہتر امن و امان کو اجاگر کریں، ان کا مزید کہنا تھا کہ اس سے مزید پاکستانی اور بین الاقوامی سیاحوں کو سیر کرنے کی ترغیب دینےمیں مدد ملے گی۔

سومرو کے ساتھ اتفاق کرتے ہوئے،گلفشاں طارق، جنہوں نے سنہ 2017 میں موٹرسائیکل پر اکیلے سوات کا سفر کیا تھا، نے کہا کہ شمالی علاقہ اور بحیثیت مجموعی پاکستان کھوجنے کے لیے بہت محفوظ ہو گیا ہے۔

گلفشاں نے کہا کہ ان کی سیر کا مقصد اس تاثر کو زائل کرنا تھا کہ پاکستان -- خصوصاً کے پی -- بہت سے انتہاپسند عناصر کی آماجگاہ ہے۔

گلفشاں طارق نے کہا کہ پاکستان اور کے پی سیاحوں کے لیے بہت محفوظ ہیں، ان ثقافتی اقدار کی وجہ سے جو مہمانوں کو اللہ کی رحمت تصور کرتی ہیں۔

انہوں نے سیاحوں کو ترغیب دی کہ وہ پاکستان اور اس کے لوگوں کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہوں۔

پشاور کے ایک صحافی، اعجاز خان، جو گزشتہ تین دہائیوں سے بندرگاہوں اور سیاحت کے شعبوں کو کور کرتے رہے ہیں، نے کہا کہ پاکستان میں بہتر امن و امان کا سیاحت پر مثبت اثر پڑ رہا ہے۔

انہوں نے کہا، "امن و امان کی صورتحال میں بہتری کے ساتھ، ہر سال پاکستان آنے والے سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔"

خان نے سوات اور بالائی دیر سمیت ان علاقوں میں اپنی سواری کے بغیر اکیلے سفر کرنے پر سومرو کی ہمت کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ ان کی سیاحت سے ناصرف دیگر خواتین مہم جوؤں کی حوصلہ افزائی ہو گی بلکہ پاکستان میں سیاحوں کی حفاظت کے متعلق بین الاقوامی سیاحوں کو بھی ایک مثبت پیغام جائے گا۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرہ
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500