https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/09/10/feature-01
حقوقِ نسواں

سخت محنت اور عزم سے پاکستانی خواتین روایتی کرداروں سے نکل رہی ہیں

عالم زیب خان

image

عوامی نیشنل پارٹی کی نئی متعین شدہ ترجمان ثمر ہارون بلور، 10جون کو پشاور میں باچا خان مرکز میں عہدہ سنبھالنے کے بعد ایک ہجوم سے خطاب کر رہی ہیں۔ [بہ شکریہ عالم زیب خان]

اسلام آباد -- اگرچہ سیکورٹی کے انتظامات بہتر ہونے کے باعث پاکستان میں عسکریت پسندی میں کمی آ گئی ہے مگر انتہاپسند اور معاشرے کے بہت سے حصے ابھی بھی خواتین کو جائیداد سمجھتے ہیں اور اگر وہ مرد کی عزت کو مبینہ طور پر پامال کریں تو اسے قتل کے قابل اور ایک کمتر صنف سمجھتے ہیں۔

ایسی ثقافتی اور سماجی-اقتصادی مشکلات کو عبور کرتے ہوئے پاکستان میں خواتین، جن میں زوہا ملک اور ان کی پانچ بہنیں بھی شامل ہیں، اس بات کو ثابت کر رہی ہیں کہ وہ پیشہ ورانہ طور پر کامیابیاں حاصل کر سکتی ہیں۔

زوہا ملک شیر، جو اپنی بہنوں میں سب سے چھوٹی ہیں، نے گزشتہ سال سینٹرل سوپیریر سروسز (سی ایس ایس) سول سروس امتحان میں اپنی بہنوں کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے کامیابی حاصل کی جن سب نے یہ امتحان پاس کیا ہے اور وہ ملک میں سول سروس کے مختلف عہدوں پر تعینات ہیں۔

شیر بہنوں کے والد، ملک رفیق اعوان نے ہمیشہ ان کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ اس سماجی اور روایتی دباؤ کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے، پیشہ ورانہ شعبوں کا انتخاب کریں جو انہیں دبائے ہوئے ہے۔ انہوں نے یہ بات نیا دور کی ویب سائٹ کو بتائی۔

image

ثمر ہارون بلور کو، 10 جون کو عوامی نیشنل پارٹی کے ترجمان کا عہدہ سنبھالنے کے لیے جاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ [بہ شکریہ عالم زیب خان]

image

نگار جوہر (بائیں) پاکستانی فوج کی پہلی خاتون لیفٹینٹ جرنل، کو راولپنڈی میں 2 جولائی کو لی جانے والی اس تصویر میں دکھایا گیا ہے۔ [نگار جوہر/ ٹوئٹر]

ان رکاوٹوں کو توڑنے میں، شیر بہنوں اور دوسری خواتین کی کامیابی اس بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتی ہے جو خواتین کئی دیہائیوں تک انتہاپسندانہ نظریات سے دبے رہنے کے بعد، پاکستان کے اداروں اور معاشرے میں ادا کر رہی ہیں۔

کے پی کی صوابی ڈسٹرکٹ کے پنجپیر گاؤں سے تعلق رکھنے والی نگار جوہر نے اس بات کو ثابت کیا ہے کہ اگر موقع دیا جائے توپاکستانی خواتین پیشہ ورانہ طور پر وہ بلندیاں حاصل کر سکتی ہیں جو اس سے پہلے صرف مردوں کے لیے ہی مخصوص تھیں۔

جوہر پاکستانی فوج کی وہ اولین خاتون ہیں جو لیفٹینٹ جرنل کے عہدے پر پہنچی ہیں۔ اس بات کا اعلان فوج کے ترجمان میجر جرنل بابر افتخار نے 30 جون کو کیا تھا۔

'انتہائی استقامت اور محنت'

رابیل کینیڈی جو کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو بورڈ (ایف بی آر) کے ایک ڈرائیور کی بیٹی ہیں، نے سی ایس ایس کا امتحان پاس کرنے سے پہلے درپیش آنے والی بہت سی مشکلات کو یاد کیا۔

انہوں نے کہا کہ "انتہائی محدود وسائل اور سماجی-معاشی دباؤ کے باعث میرے پاس تیاری کرنے کے بہت زیادہ اچھے مواقع موجود نہیں تھے۔ اس کے علاوہ مجھے امتحان میں ناکام ہونے کا ڈر بھی تھا جس سے میرے والدین کے خواب ٹوٹ جاتے"۔

رابیل نے کہا کہ "اس کے علاوہ، مجھے اپنی ملازمت، اپنی ماسٹرز کی ڈگری کی تیاری اور سی ایس ایس کی تیاری میں توازن نہ رکھ سکنے کا ڈر بھی تھا"۔

انہوں نے کہا کہ "مگر انتہائی استقامت اور محنت کے ساتھ، میں تمام مسائل سے لڑتی رہی اور میں نے سی ایس ایس کا امتحان پاس کر لیا اور مجھے فارن سروس آف پاکستان میں تعینات کیا گیا"۔

ان کے والد جان کینیڈی نے کہا کہ مسائل پر قابو پانے اور اپنے مقاصد کو حاصل کرنے میں مدد کے لیے خاندان کی مدد انتہائی اہم ہے۔

انہوں نے کہا کہ "ایک ایسے معاشرے میں جہاں بہت سے متنوع اصول ہیں، ایسے بہت سے روایتی دباؤ ہیں جن کا سامنا ایک ایسے والد کو کرنا پڑتا ہے جو اپنی بیٹی کو مصائب پر قابو پاتے ہوئے اور دنیا میں اپنا مقام بناتے ہوئے دیکھنے کا فیصلہ کرتا ہے"۔

"مگر اس سب کے باجود، میں نے ان سب مصائب پر قابو پانے اور اپنے عزم کو پورا کرنے کے لیے اپنی بیٹی پر اعتماد کیا اور اس کی مدد کی۔ میں نے اسے کبھی محسوس نہیں ہونے دیا کہ وہ کسی سے کمتر ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "میں نے اپنی ہر چیز سے اس کی مدد کی"۔

سیاست میں کامیابی

ثمر ہارون بلور اس بات کی ایک اور مثال ہیں کہ بھرپور عزم خواتین کو روایتی معاشرتی دباؤ سے آزاد ہونے میں کس طرح مدد کرتا ہے۔

بلور نے اپنے شوہر، جو کہ عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے راہنما تھے، کی خیبر پختونخواہ (کے پی) کےگاؤں یکاتوت میں جولائی 2018 میں ایک خودکش دھماکے میں ہلاکتکے بعد، سیاست میں داخل ہوئیں۔

اب وہ ایسی پہلی خاتون ہیں جو کے پی کی صوبائی اسمبلی کی نشست کے لیے عام انتخابات (کوٹہ کے بغیر) میں کامیاب ہوئی ہیں اور اے این پی کی ترجمان ہیں۔

بلور نے کہا کہ خواتین کی ترقی اور ملک میں انہیں کامیابی دلانے کے لیے، تعلیم تک رسائی انتہائی اہم ہے۔

انہوں نے کہا کہ "خواتین خود سامنے نہیں آ سکتیں اور اپنے آپ کو تعلیم نہیں دے سکتیں، یہ خاندان ہیں جنہیں انہیں تعلیم دینی ہے اور ان پر اس وقت توجہ دینی ہے جب وہ بچیاں ہوں اور انہیں ایسا ماحول فراہم کریں جس میں وہ اس بات پر یقین رکھیں کہ وہ معاشرے کے مردوں سے مقابلہ کر سکتی ہیں"۔

بلور نے کہا کہ "اگر آپ اپنے بچے کی نشوونما ٹھیک طریقے سے کریں تو جب اور اگر ضرورت ہو تو اپنی چاردیواری سے باہر نکل آتی ہے اور ایسی دنیا میں مقابلہ کرتی ہے جس پر مردوں کی اجارہ داری ہوتی ہے"۔

کیا آپ پاکستان کے مستقبل سے متعلق پرامید ہیں؟
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 حروف باقی ہیں (حد 1500 حروف)