https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/02/07/feature-01
سلامتی |

بہتر سیکیورٹی کے سبب پاکستان بطور چوٹی کی تفریحی منزل تسلیم

از عدیل سعید

image

ایک اطالوی سیاح خاتون 18 جنوری 2019 کو اپنے تاریخی پشاور کے دورے کے دوران روایتی ٹوپی پہنے ہوئے۔ امن و امان کی صورتحال میں بہتری کی وجہ سے پاکستان کی سیر کے لیے آنے والے سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ [ٹورازم کارپوریشن خیبر پختونخوا]

پشاور -- اپنے "انتہائی خوبصورت قدرتی مناظر" کہ وجہ سے پاکستان کو بین الاقوامی سیاحتی مطبوعات کی جانب سے سنہ 2020 کے لیے چوٹی کی سیاحتی منزل کے طور پر پرزور طور پر تجویز کیا جا رہا ہے -- یہ سب کچھ ملک کی امن و امان کو بہتر بنانے، عسکریت پسندی کو روکنے کوششوںاور ویزہ کی شرائط نرم کرنے سے ممکن ہوا ہے۔

ایک امریکی تجارتی جریدے، فوربز، نے پاکستان کو اپنے جنوری 2020 کے شمارے میں اپنی "2020 کے لیے 10 بہترین ریڈار کے تحت سیروں" کے لیے شامل کیا ہے۔ "دی ناٹ ہاٹ لسٹ" کے عنوان سے ایک سیکشن میں، جریدے نے ان منازل کا خلاصہ کیا ہے جن پر "بہت زیادہ لوگوں نے سفر نہیں کیا ہے اور جو سیاحوں کو ایک بڑھتی ہوئی یکسانیت والی دنیا میں روزمرہ کے معمولات کو ایک موزوں فرار فراہم کرتی ہیں۔"

برطانیہ کے ایک مقامی سفری ادارے جو پاکستان میں خدمات فراہم کرتا ہے، وائلڈ فرنٹیئرز، کا حوالہ دیتے ہوئے جریدے نے لکھا ہے کہ ملک سیاحوں کے لیے ایک تیزی سے پرکشش بنتی ہوئی سیاحتی منزل بن گیا ہے۔

image

ایک غیرملکی خاتون سیاح گزشتہ دسمبر میں اپنے خیبرپختونخوا کے ضلع چترال کے دورے کے دوران کیلاش قبیلے کے بچوں کو ایک کیمرہ دکھاتے ہوئے۔ [ٹورازم کارپوریشن خیبر پختونخوا]

image

برف پر پھسلنے کے مقابلے میں شریک ایک کھلاڑی 20 جنوری کو ضلع سوات میں منعقد ہونے والے مالم جبہ ونٹر سپورٹس فیسٹیول 2020 میں حصہ لیتے ہوئے۔ [ٹورازم کارپوریشن خیبر پختونخوا]

وائلڈ فرنٹیئرز کے بانی جونی بیلبائے نے فوربز کو بتایا، "پاکستان شاید مہم جوئی کی اصلی سفری منزل ہے۔"

ان کا کہنا ہے، "یہ قدیم وادیٔ سندھ کی تہذیب پیش کرتا ہے جو 4،000 سال پر محیط ہے، اور اپنے قلعوں، مساجد اور محلات کے ساتھ لاہور جیسے ولولہ انگیز شہر پیش کرتا ہے۔ لیکن سب سے بڑھ کر، یہ ناقابلِ یقین قدرتی مناظر پیش کرتا ہے، خصوصاً شمالی علاقہ جات میں جہاں تین سب سے بڑے پہاڑی سلسلے آپس میں ملتے ہیں۔"

سنہ 2020 کے لیے سیاحوں کی دیکھنے سے تعلق رکھنے والی منزل کے طور پر پاکستان کی حیاتِ نو کا اعتراف سب سے پہلے کونڈے ناسٹ ٹریولر (سی این ٹریولر) کی جانب سے گزشتہ دسمبر میں کیا گیا تھا، جو کہ ایک عیش و عشرت والے سفر کا ایک جریدہ ہے۔

جریدے نے پاکستان کی درجہ بندی سنہ 2020 کے لیے بہترین تعطیلاتی منازل کی اپنی فہرست میں برازیل اور آئرلینڈ جیسے ممالک سے پہلے سب سے اوپر کی ہے۔

'ایک نئے دور میں دخول'

اپنی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے ایک مضمون میں، جریدے نے پاکستان کو بطور "انتہائی خوبصورت قدرتی مناظر کی حامل ایک جگہ، جہاں سرسبز مقامات فلک بوس چوٹیوں سے دیکھے جا سکتے ہیں" کہہ کر سراہا ہے۔

مضمون میں کہا گیا ہے، "دہشت گردی اور طالبان کی حکومت کی کہانیوں سے تھمی ہوئی، پاکستان کی سیاحتی صنعت گزشتہ دو عشروں سے رکاوٹوں کا شکار رہی ہے۔ لیکن قدیم وادیوں، ویزہ کی نرم پابندویوں" کا مطلب ہے کہ "نئے عشرے کی ابتداء میں یہ غیرمعمولی ملک ایک نئے دور میں بھی داخل ہو رہا ہے۔"

یہ اعتراف پاکستان کی جانب سے حالیہ برسوں میں سیاحت کو فروغ دینے کی کوششوںکے نتیجے میں ہوا ہے، ایک ایسا کام جو ملک کی دہشت گردی اور عسکریت پسندی کے ساتھ جنگ نے دشوار بنا دیا تھا۔

دہشت گردوں کی جانب سے عوامی مقامات پر حملوں -- جیسے کہ سنہ 2014 میں پشاور میں آرمی پبلک سکول میں 150 سے زائد بچوں اور اساتذہ کا قتلِ عام -- نے ملک کے تشخص کو مسخ کر دیا تھا اور ترقی یافتہ ممالک کو مجبور کیا کہ وہ پاکستان جانے والے اپنے شہریوں کے لیے سفری انتباہ جاری کریں۔

خیبرپختونخوا (کے پی) کے وزیرِ سیاحت، عاطف خان نے کہا، "ایک دہائی طویل عسکریت پسندی اور دہشت گردی کی لہر کی وجہ سے ملک کے ساتھ منسلک منفی احساسات کے پیشِ نظر پاکستان کی سیاحتی قابلیت کا فروغ ایک خوفزدہ کر دینے والا کام تھا"۔

عاطف نے کہا کہ وہ نقطۂ نظر اور امن و امان کی خراب صورتحال نے ماضی میں سیاحت کو کچھ دیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا، تاہم، ملک میں بحالیٔ امن کے لیے سیکیورٹی فورسز کی جانب سے کیے گئے اقدامات اور سیاحوں کو سہولیات فراہم کرنے کی حکومتی کوششوں نے پاکستان کے ایک سیاحتی منزل کے طور پر تشخص کو اجاگر کرنے میں مدد کی ہے۔

بدلے ہوئے احساسات

عاطف نے کہا کہ بین الاقوامی بلاگرز اور ولاگرز کے دوروں نے لوگوں کے احساسات کو تبدیل کرنے میں مدد دی ہے اور سیاحوں کی تعداد میں اضافے پر منتج ہوئے ہیں۔

مزید برآں، سیاحتی پولیس کے قیام اور ویزہ کے قوانین میں نرمی نے بین الاقوامی سیاحوں کو ملک کے خوبصورت قدرتی مناظر دیکھنے اور اس ملک کے لوگوں کی مہمان نوازی اور ثقافت دیکھنے کے لیے راغب کیا ہے۔

ایک ٹور آپریٹر اور خیبر سٹیم سفاری ٹرین، جو 1990 اور 2000 کے درمیان بین الاقوامی سیاحوں کو اپنی طرف راغب کرتی تھی، کے بانی، پشاور کے ظہور درانی نے کہا، "ایک ایسے ملک میں سیاحت کا احیاء دیکھنا بہت زیادہ حوصلہ افزاء ہےجہاں بین الاقوامی سیاحت اپنے پست ترین نقطے تک گر گئی تھی"۔

ہمسایہ ملک افغانستان میں حالات کے زیرِ اثر، پاکستان اور خصوصاً کے پی میں امن و امان کی صورتحال خراب ہونے پر سنہ 2000 کے اوائل میں ٹرین سروس بند ہو گئی تھی۔

درانی نے کہا کہ کاروبار میں انتہائی مندی کی وجہ سے گزشتہ 15 برس ٹور آپریٹرز کے لیے انتہائی مشکل رہے ہیں کیونکہ سیاحت یہاں آنے سے ہچکچاتے تھے۔

درانی کا کہنا تھا، "صورتحال تبدیل ہو رہی ہے کیونکہ اب لوگ پاکستان کی سیر کے لیے آتے ہوئے خود کو محفوظ محسوس کر رہے ہیں، اور یہ ناصرف ملک کے لیے اچھا ہے بلکہ سفر کے کاروبار اور سیاحتی صنعت سے وابستہ لوگوں کے لیے بھی اچھا ہے۔"

ملک میں امن و امان کی بہتر صورتحال نے بین الاقوامی سوشل میڈیا پر اثرانداز ہونے والوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کروائی ہے۔

بینکاک کے مقامی ایک سفری اور فوڈ بلاگر، مارک وائنز، جنہوں نے گزشتہ اپریل میں پاکستان کا دورہ کیا تھا، نے یوٹیوب پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں کہا کہ ملک میں ان کے مثبت تجربات حقیقت میں امن و امان کی نئی صورتحال کا ثبوت ہیں۔

انہوں نے کہا، "پاکستان میں میرے 16 دن کے طویل سفر میں -- ایک بار بھی، حتیٰ کہ بڑے شہروں میں بھی، کسی بھی مقام پر -- میں نے خوف یا خطرہ محسوس نہیں کیا، ان کا مزید کہنا تھا کہ انہیں ملک میں جس چیز کا احساس ہوا وہ اس کے "بالکل متضاد" تھی جو انہوں نے پاکستان آنے سے قبل یہاں کے متعلق سن رکھا تھا۔

وائنز نے مزید کہا کہ پاکستان نے بہت سی مشکلات اور جنگوں کا سامنا کیا ہے، مگر گزشتہ چند برسوں میں اس نے سلامتی اور حفاظت میں بہت زیادہ بہتری کی ہے۔

ان کا کہنا تھا، "یہ ایک امتیاز تھا، اور درحقیقت، یہ ان سب سے زیادہ یادگار سفروں میں سے ایک سفر تھا جو میں نے اپنی زندگی میں کیے ہیں"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
3
تبصرے 1
تبصرہ کی پالیسی

ہاں، بہت اچھا کام ہے، پاکستان اور پھولوں کا شہر پشاور سیاحوں اور سیاحت کے لیے نہایت پرامن مقام ہے۔ متعدد سیاح پشاور اور پاکستان آ رہے ہیں، انہیں اس ملک سے پیار ہے اور لوگ دوست رکھنے والے ہیں اور پاکستان میں متعدد تاریخی مقامات، بطورِ خاص پشاور میزبانی کی سرزمین ہے، اگر آپ پشاور آئیں تو بہت سے لوگ آپ کو کسی بھی وقت بلا قیمت چائے کی پیشکش کریں گے۔
آداب: پرنس مہر اللہ
ٹورسٹ گائیڈ

جواب