https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/03/18/feature-02
دہشتگردی |

پاکستان نے داعش کی ساتھی 3 عالمی تنظیموں کو دہشت گردی کی نگرانی والی فہرست میں شامل کر دیا

از ضیاء الرحمان

image

13 مارچ کو پولیس اہلکار کراچی میں اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے۔ [ضیاء الرحمان]

کراچی -- اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) کی ہدایات کے بعد، پاکستان نے "دولتِ اسلامیہ عراق و شام" (داعش)کے ساتھیوں کو اپنی دہشت گردی کی نگرانی کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔

8 مارچ کو اسلام آباد نے انڈونیشیا کی مقامی دہشت گرد تنظیم جماعت انشورات دولہ (جے اے ڈی)، داعش-لیبیا اور داعش-یمن پر پابندی لگا دی تھی۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے داعش کے اتحادیوں پر 6 مارچ کو پابندیاں عائد کی تھیں۔

image

ایک تازہ فائل فوٹو میں حیدر آباد شہر میں ایک دینی جماعت کی جانب سے داعش کے مظالم کی وجہ سے اس کے خلاف احتجاج دکھایا گیا ہے۔ [ضیاء الرحمان]

پابندی کی تصدیق کرتے ہوئے وزارتِ خارجہ کے ایک اہلکار نے کہا کہ حکومتِ پاکستان اقوامِ متحدہ کی کارروائیوں کی بنیاد پر باقاعدگی سے کالعدم جنگجو تنظیموں کی اپنی فہرست کی تجدید کرتا ہے۔

گمنامی کی شرط پر اہلکار نے کہا کہ پابندی کا مطلب ہے کہ تنظیموں پر "عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نکتۂ نظر سے امتناعی اقدامات" کا اطلاق کرنا۔

اس کی داعش کی نامزد کردہ شاخوں اور افراد کی فہرست کے مطابق، امریکی وزارتِ خارجہ نے جے اے ڈی کو 2017 میں اور داعش-لیبیا اور داعش-یمن کو 2016 میں عالمی دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔

جے اے ڈی سنہ 2015 میں انڈونیشیاء میں تقریباً دو درجن انڈونیشی جنگجو گروہوں کے لیے ایک واحد گروہ کے طور پر بنی تھی جس نے اس وقت داعش کے امیر ابو بکر البغدادی کے ساتھ اتحاد قائم کیا تھا۔ 2019 میں شام میںامریکی افواج نے البغدادی کو ہلاک کر دیا تھا۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق، یہ تنظیم انڈونیشیاء میں داعش سے منسلک سب سے بڑا دہشت گردی کا نیٹ ورک ہے اور اپنے قیام کے بعد سے ان نے بہت سے حملے کیے ہیں۔ اس کا زیرِ حراست امیر، اومان روشمان سنہ 2018 سے انڈونیشیاء میں سزائے موت کا منتظر ہے۔

داعش-لیبیا کا ظہور نومبر 2014 میں ہوا تھا جب البغدادی نے اس کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ یہ گروپ کئی دہشت گرد تنظیموں کے ایک مقامی اتحاد، بن غازی انقلابی شوریٰ کونسل کا ایک رکن تھا۔

اسی مہینے، البغدادی نے داعش-یمن کی موجودگی کا بھی اعلان کیا تھا، ایک ویڈیو پیغام میں یہ اعلان کرتے ہوئے کہ اس نے وہاں موجود جنگجوؤں سے اتحاد کی بیعت قبول کر لی ہے۔

تنظیم نے مساجد پر حملے کیے ہیں، سنہ 2015 میں سناء، یمن میں امریکی سفارت خانے کے قریب ایک بم دھماکہ کیا ہے اور سنہ 2018 میں عدن، یمن میں یمنی انسدادِ دہشت گردی یونٹ کے ہیڈکوارٹرز کو نشانہ بنایا ہے۔

داعش کے خلاف عالمی جنگ میں شرکت

اقوامِ متحدہ کے مطابق، مئی 2019 کے بعد سے، اقوامِ متحدہ کے ارکان نے داعش کی چھ عالمی شاخوں کو بلیک لسٹ کیا ہے۔

انسدادِ دہشت گردی کے ایک سرکاری ادارے، نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کے مطابق، پاکستان انسدادِ دہشت گردی کی عالمی کوششوں کا حصہ ہے اور اس نے سنہ 2001 کے بعد سے 79 دہشت گرد تنظیموں پر پابندی عائد کی ہے۔

سنہ 2003 میں، پاکستان نے القاعدہ پر پابندی لگائی تھی، جو اسامہ بن لادن نے بنائی تھی، جو سنہ 2011 میں امریکی بحری افواج کے ہاتھوں ایبٹ آباد کی ایک عمارت میں مارا گیا تھا۔

سنہ 2013 میں، پاکستان نے دو وسط ایشیائی جنگجو گروہوں -- اسلامک موومنٹ آف ازبکستان (آئی ایم یو) اور اسلامک جہاد یونین (آئی جے یو) -- کو اپنی کالعدم تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔

اسی سال، اسلام آباد نے القاعدہ کے ساتھ منسلک چین کی مقامی ایک دہشت گرد تنظیم، ایسٹ ترکمن اسلامک موومنٹ (ای ٹی آئی ایم) پر پابندی لگائی تھی۔

پاکستان نے اگست 2015 میں داعش پر پابندی لگا دی تھی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ داعش کے بین الاقوامی اتحادیوں پر پابندی لگانے کا پاکستان کا عمل ناصرف دہشت گرد تنظیم کی دوبارہ جمع ہونے کی کوششوں کو کمزور کرے گا بلکہ ملک کے داعش کی خراسان شاخ (داعش-کے) کے خلاف سخت کارروائی کو بھی مضبوط کرے گاجو پاکستان اور افغانستان میں مصروفِ عمل دہشت گرد تنظیم کی مقامی شاخہے۔

انتہاپسندی کے خلاف منصوبوں کے کراچی کے مقامی ایک تجزیہ کار، عبدالہادی نے کہا، "پاکستان شروع سے ہی دہشت گردی کی بیخ کنی کرنے کی بین الاقوامی کوششوں کی معاونت کرتا رہا ہے کیونکہ یہ اسے ایک عالمی خطرہ تصور کرتا ہے۔"

ان کا کہنا تھا کہ پابندی پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد کرے گی، جو ملک میں داعش-خراسان کے نیٹ ورک کا قلع قمع کر رہے ہیں۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
3
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی