https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/01/31/feature-02
دہشتگردی |

داعش کے نئے امیر کی شناخت کی تفصیلات منظرِعام پر

پاکستان فارورڈ اور اے ایف پی

image

داعش کا نیا امیر ایک عراقی ترکمن امیر محمد عبدالرحمان المولٰی الصلبی ہے۔ دہشت گرد گروہ کی جانب سے پوسٹ کردہ اس فوٹو میں گروہ کا ایک رکن گزشتہ برس شام میں دکھایا گیا ہے۔ [فائل]

دو نامعلوم خفیہ اداروں کے حکام کے حوالے سے، برطانوی اخبار دی گارڈیئن نے خبر دی ہے کہ"دولتِ اسلامیہ عراق و شام" (داعش) کا نیا امیر، امیر محمد عبدالرحمان المولٰی الصلبی نامی ایک عراقی ترکمنہے۔

اخبار نے بتایا کہ الصلبی داعش کے بانی ارکان میں سے ایک ہے۔ وہ تنظیم کی عراقی یزیدی اقلیت کو غلام بنانے کی سربراہی کرتا تھا اور دنیا بھر میں تنظیم کی کارروائیوں کی نگرانی کرتا تھا۔

داعش نے اپنے سابقہ امیر ابو بکر البغدادی کے، اکتوبر میں امریکی خصوصی افواج کے ہاتھوں مارے جانےکے چند ہی روز بعد ابو ابراہیم الہاشمی القریشی کو اپنا نیا امیر نامزد کیا تھا۔

image

داعش کے ارکان کو یہاں سنہ 2018 میں شام کے اندر داعش کے خلاف ایک کارروائی کے دوران پناہ لینے کے لیے بھاگتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ [فائل]

دی گارڈیئن نے بتایا کہ القریشی ایک فرضی جنگی نام تھا جو دیگر اعلیٰ قائدین یا خفیہ اداروں کے علم میں نہیں تھا۔

کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تنظیم کو البغدادی کی ہلاکت سے بہت زیادہ دھچکا لگا تھا اور یہ کہ اس کے نئے امیر کی شناخت غیر یقینی رہی تھی۔

دیگر لوگ اندازے لگا رہے ہیں کہ القریشی کی حقیقی شناخت نے امیر محمد سید عبدالرحمان المولیٰ، عرف حاجی عبداللہ کا نام پیش کیا۔

گزشتہ اگست میں، امریکی وزارتِ خارجہ نے اسے اپنی مطلوب ترین دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا تھا، اور اسے البغدادی کا "ممکنہ جانشین" بیان کیا تھا اور اس کی گرفتاری پر منتج ہونے والی معلومات فراہم کرنے پر 5 ملین ڈالر کے انعام کی پیشکش کی تھی۔

داعش کا نیا امیر کون ہے؟

اب، البغدادی کی ہلاکت کے تین ماہ بعد، داعش کے نئے امیر کی ایک زیادہ واضح تصویر ظاہر ہو رہی ہے۔

دی گارڈیئن نے بتایا کہ الصلبی کو البغدادی کی ہلاکت کے چند گھنٹے بعد ہی منتخب کر لیا گیا تھا، اخبار نے اس کے بارے میں بتایا ہے کہ وہ "البغدادی کی طرح ہی متعصب ہے، اور انتہاپسند تنظیم کے ساتھ اس کی وفاداری بہت زیادہ ہے۔"

اخبار نے بتایا کہ وہ یونیورسٹی آف موصل سے شرعی قانون کی ڈگری کا حامل ہے، اور اپنے اسلامی محقق کے پس منظر کے صدقے درجہ بدرجہ داعش کی صفوں میں اوپر آیا ہے۔

دی گارڈیئن نے اسے "[داعش کے] نئے پُرکردہ عہدوں میں بااثر ترین ماہرِ نظریات میں سے ایک" قرار دیا ہے۔

امریکی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ اس نے "شمال مغربی عراق میں یزیدی مذہبی اقلیت کے اغواء، قتل اور ناجائز نقل و حمل کی مہم میں مدد کی اور اس کا جواز فراہم کیا اور یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ اس نے تنظیم کی کچھ عالمی دہشت گرد کارروائیوں کی نگرانی کی تھی"۔

دی گارڈیئن کا کہنا تھا کہ البغدادی کی ہلاکت کے بعد سے، الصلبی کے بارے میں ماننا ہے کہ وہ داعش کی نئی قیادت کو ایک جگہ جمع کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے، جن میں سے لگ بھگ سبھی لوگ "ایک نئی نسل سے تعلق رکھتے ہیں جو 2004 سے یا اس کے بعد عراق کی خانہ جنگی میں [داعش کی] امریکی افواج کے خلاف شروع کی لڑائیوں میں کردار ادا کرنے کے لیے بہت چھوٹی تھی"۔

رپورٹ کے مطابق، سنہ 2004 میں الصلبی کو امریکی فوج کی جانب سے جنوبی عراق میں کیمپ بیوکا جیل میں قید رکھا گیا تھا جہاں اس کی البغدادی کے ساتھ ملاقات ہوئی تھی۔

وہ تل افر، عراق میں پیدا ہوا تھا، اور مانا جاتا ہے کہ وہ کم از کم ایک بیٹے کا باپ ہے۔ وہ داعش کی قیادت میں چند غیر عربوں میں سے ایک ہے۔

مالی ابتری

عراق، شام، افغانستان اور باقی تمام جگہوں میں بڑے علاقوں سے محروم ہونے کے بعدداعش دوبارہ گروہ بند ہونے کے لیے ہاتھ پاؤں مارتی رہی ہے۔

جس علاقے پر اس کا کبھی قبضہ رہا تھا وہاں سے نکالے جانے اور بڑی شکستوں کا سامنا کرنے کے بعد، تنظیم اب اپنی آمدن کے بنیادی ذرائع -- تیل کی سمگلنگ، بینکوں کو لوٹنا، اور ناجائز طور پر قبضے میں لیے گئے اثاثہ جات اور ناقابلِ بدل قومی خزانوں -- سے محرومی کے بعد مالی مشکلات کا شکار ہے۔

البغدادی کی ہلاکت کے بعد، امریکی وزارتِ خزانہ کے نائب سیکریٹری برائے دہشت گردی میں سرمایہ کاری مارشل بلنگسلیا نے کہا کہ تنظیم کے مالی امور غالباً "مرکزی" نظام سے زیادہ منتشر نظاموں پر منتقل ہو جائیں گے۔

عراقی سیاسی تجزیہ کار عیاد الانبار نے کہا، "فساد، اغواء، بلیک میل، اور جبری ٹیکس اور عطیات وصولی کی طرف واپس پلٹنا، جو کہ پیسہ کمانے کے بنیادی طریقے ہیں، تنظیم کے لیے آخری چارہ ہو سکتا ہے، جو اپنے زیادہ تر وسیع وسائل سے محروم ہو چکی ہے"۔

نومبر میں، اس کی خراسان شاخ نے افغانستان میں جہاں اس نے اپنی "خلافت" قائم کرنے کے لیے کئی برس تک کوششیں کی تھیں، یہ کہتے ہوئے اپنی شکست کا اعتراف کیا تھا کہ اس کے ارکان کے پاس ہفتوں سے کھانے پینے کو کچھ نہیں تھا اور ان کی بندوقوں میں کوئی گولی باقی نہیں بچی تھی۔

میڈیا مشین کا رکنا

داعش کے تیزی کے ساتھ ختم ہوتے وسائل نے اس کی کبھی بہت تیز پراپیگنڈہ مشین کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے، جسے ابھی الصلبی نے بحال کرنا ہے۔

پچھلی گرمیوں سے ٹیلی گرام اور دیگر پلیٹ فارموں پر داعش کے میڈیا چینل نمایاں طور پر بہترین معیار کی تصویروں اور ویڈیوز کے ساتھ غائب ہیں۔

منگل (21 جنوری) کو جاری کردہ خفیہ قومی دفاعی دستاویزات کے مطابق، داعش کے پراپیگنڈے کے بند ہونے کی ایک وجہ کم از کم سنہ 2016 میں امریکی فوج کی جانب سے انجام دیا گیا ہیکنگ کا ایک آپریشن ہے۔

بہت زیادہ ترمیم شدہ، ماضی کی انتہائی خفیہ دستاویزات میں کہا گیا کہ امریکی سائبر کمانڈ نے "معلومات کے شعبے میں داعش کا کامیابی کے ساتھ مقابلہ کیا" اور تنظیم پر "وقت اور وسائل کی لاگتوں کا اطلاق کرتے ہوئے" اس کی شدت پسندی اور بھرتی کرنے کی آن لائن کوششوں کو محدود کر دیا۔

تخمینہ کاری نے داعش کی جانب سے چلائی گئی آن لائن مہم میں "نمایاں کمی" کی نشاندہی کی۔

کاظم المقدادی، جو عراق میں الفارابی یونیورسٹی کالج میں ماس کمیونیکیشن کے استاد ہیں، نے کہا کہ بڑھتے ہوئے دفاعی دباؤ نے تنظیم کو اس کے دیگر اہلکاروں کے علاوہ، زیادہ تر میڈیا پلیٹ فارموں، ٹیکنالوجی، ویڈیو گرافرز، ساؤنڈ ٹیکنیشنز سے محروم کر دیا۔

گزشتہ سال اگست میں ان کا کہنا تھا کہ حکام نے داعش کے عناصر اور ان کے حامیوں کو تنظیم کے نظریئے کو پھیلانے اور اپنے پیغامات کو آن لائن پھیلانے اور "خصوصاً سوشل میڈیا پر" اسے روکنے کے لیے رکاوٹیں کھڑی کرنے کی اہدافی کوششیں کی ہیں۔

انہوں نے کہا، "داعش کی میڈیا مشین بند ہو رہی ہے،" ان کا مزید کہنا تھا کہ تنظیم "اپنی ساکھ کھو چکی ہے اور اب کوئی مزید اس سے خوفزدہ نہیں ہے"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
4
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی