https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/01/01/feature-02
تجزیہ

داعش کا نیا امیر ہنوز پراسراریت کے پردوں میں چھپا ہوا ہے

AFP

image

ابو ابراہیم الہاشمی القریشی کی حقیقی شناخت ابھی بھی پراسراریت کے پردوں میں چھپی ہوئی ہے، اور تنظیم کی حکمتِ عملی ایسے ہی آگے بڑھ رہی ہے۔ [فائل]

"دولتِ اسلامیہ عراق و شام" (داعش) کے امیر ابو بکر البغدادی کےامریکی خصوصی افواج کی جانب سے اکتوبر کی ایک کارروائیکے دوران اپنے انجام کو پہنچنے کے چند روز بعد ہی، تنظیم نے اس آدمی کے نام کا اعلان کیا تھا جس نے بطور امیر اس کی جگہ سنبھالی تھی۔

مگر ابو ابراہیم الہاشمی القریشی کی حقیقی شناخت ابھی بھی پراسراریت کے پردوں میں چھپی ہوئی ہے، اور تنظیم کی حکمتِ عملی ایسے ہی آگے بڑھ رہی ہے۔

داعش کے عراقی تجزیہ کار ہشام الہاشمی کا کہنا تھا، "ہمیں اس کے بارے میں بہت زیادہ معلوم نہیں ہے ماسوائے اس کے کہ وہ داعش کا ایک ممتاز جج ہے اور وہ 'شرعی' کمیٹی کی سربراہی کرتا ہے"۔

لیکن یہاں تک بھی شبہات ہیں کہ ایسے کسی شخص کا وجود ہے بھی یا نہیں۔

کچھ لوگوں کی رائے ہے کہ تنظیم اس غیر متوقع صورتحال پر ششدر رہ گئی تھی اور اس نے اپنی گرفت قائم رکھنے کی چال کے طور پر اس نام کا اعلان کیا تھا، یہ تاثر دینے کے لیے کہ معاملات اس کے قابو میں ہیں۔

پیرس کی سائنسز-پو یونیورسٹی میں دنیائے عرب کے ایک ماہر جین-پیرے فیلیو نے کہا، "تنظیم البغدادی کے بہیمانہ قتل پر ششدر رہ گئی تھی۔"

ان کا کہنا تھا، "اس نے اس واقعہ کے بعد سے ایک ایسے جانشین کی شناخت عام کی ہے جس کے بارے میں ہم نہیں جانتے آیا کہ وہ واقعی موجود ہے یا آیا کہ یہ اس وقت تک ایک دھوکا دیا گیا ہے جب تک کہ شام اور عراق میں ایک حقیقی جانشین کے تقرر کا عمل مکمل ہو جائے"۔

تزویراتی رہنمائی

واشنگٹن میں مرکز برائے تزویراتی و بین الاقوامی مطالعات کے سیتھ جونز نے کہا، "اس دنیا میں، آپ یہ راز نہیں رکھ سکتے کہ آپ کا قائد کون ہے، کوئی بھی دہشت گرد تنظیم آج یا ماضی میں یہ راز نہیں رکھ سکتی کہ اس کی قیادت کا ڈھانچہ کیا ہے۔ کوئی بھی اتنا اچھا نہیں ہوتا"۔

خواہ اس کا کوئی وجود ہے یا نہیں، جانشین نے نمایاں قیادت فراہم نہیں کی ہے۔

البغدادی کی قیادت میں، جو کہ خود بھی منظرِ عام پر آنے سے گریز کرتا تھا، داعش نے –سکولوں کی درسی کتب تیار کرتے ہوئے اور اپنی ہی کرنسی تخلیق کرتے ہوئے – ایک پروٹو-سٹیٹ چلانے کا تجربہ کیا تھا۔

جب سے انتہاپسند تنظیم کو، مارچ میں، اس کے زیرِ تسلط آخری شامی علاقے، بغوز سے نکال باہر کیا گیا، اس نے بنیادی طور پر گوریلا حربوں میں پناہ لی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ القریشی نے اگر قیادت کی اندرونی مشکلات سے بچنا ہے، تو اسے مجبوراً سائیوں سے باہر آنا پڑے گا۔

واشنگٹن میں جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے ایک محقق، ڈینیئل بے مین نے کہا،"اس کے اپنا حکم چلانے اور مؤثر ہونے، اور اس کی تحفظ کی خواہش کے درمیان ایک تناؤ ہونے والا ہے"۔

جانشین کے لیے انتخاب کرنا مہنگا پڑ سکتا ہے، جس سے انتہاپسند تنظیموں کے لیے برتری کی رسہ کشی کی خاطر اختلاف پیدا ہو سکتا ہے۔

بے مین نے کہا، "ہم نے دیگر [انتہاپسندوں] کی جانب سے پہلے ہی کافی تنقید دیکھی ہے، جو کہہ رہے ہیں کہ اگر آپ کی خلافت نہیں ہے تو آپ کسی بھی طرح خلیفہ نہیں بن سکتے۔ اس شخص کو قیادت قائم کرنے کے لیے بہت مشکل وقت دیکھنا پڑے گا"۔

فیلیو کے مطابق، مصر کے سینائی اور صحارہ اعظم کے خطے میں داعش کے اتحادیوں کی جانب سے کیے گئے غلیظ حملے مرکزی قیادت کو دوبارہ منظم ہونے کا وقت دینے میں مدد دے رہے ہیں۔

ایک 'فیصلہ کن موڑ'

امریکہ میں ہیریٹیج فاؤنڈیشن کے ایک محقق، رابن سمکوکس کا کہنا ہے کہ ایک کمزور ہو جانے والی داعش کی مستقبل قریب میں علاقے کو دوبارہ فتح کرنے کی امید بہت کم ہے، مطلب یہ کہ اس کے جنگجو میدان میں جائیں گے اور "باغی" حربے اختیار کریں گے"۔

انہوں نے کہا، "جبکہ یہ چند طریقوں سے اسے سراغ لگانے کی ایک زیادہ مشکل رقابت بناتا ہے، یہ ان کے لیے اتنی ہی تعداد میں رنگروٹوں کو اپنی طرف راغب کرنے کو بھی مشکل تر بنا دیتا ہے کیونکہ غیر ملکیوں کے سفر کرنے کے لیے کوئی 'خلافت' اب موجود نہیں ہے"۔

ان کا کہنا تھا، "یہ پیسے جمع کرنے کو بھی مشکل تر بنا دیتا ہے، کیونکہ داعش نے ماضی میں ان لوگوں سے جو 'خلافت' میں اس کے زیرِ تسلط زندگی گزارتے تھے، ٹیکسوں اور بھتہ خوری سے کافی بڑی مقدار میں محاصل جمع کر لیے تھے"۔

بے مین کی نظر میں، یہ "تنظیم کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ" ہے۔

انہوں نے کہا، "مگر امیر کے متعلق بہت کچھ جانے بغیر، یہ جاننا بہت مشکل ہے کہ وہ کس طرف موڑ مڑیں گے"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 حروف باقی ہیں (حد 1500 حروف)