https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/05/28/feature-02
دہشتگردی

پاکستان نے انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کو بڑھاتے ہوئے داعش کے نئے سربراہ پر پابندی لگا دی

ضیاء الرحمان

image

پیراملٹری رینجرز 15 مئی کو کراچی میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ [ضیاء الرحمان]

اسلام آباد -- پاکستان نے "دولتِ اسلامیہ" (داعش) کے نئے سربراہ کو ملک میں داخل ہونے سے روک دیا ہے اور وہ اس کے اثاثوں کو ضبط کرنے کا منصوبہ بھی بنا رہا ہے۔ اسی دوران حکومت اپنی انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کو جاری رکھے ہوئے ہے۔

اسلام آباد میں وزارتِ خارجہ کے حکام نے اپنا نام نہ بتانے کی درخواست کرتے ہوئے کیونکہ انہیں ذرائع ابلاغ سے بات کرنے کی اجازت نہیں ہے، کہا کہ پاکستانی حکام نے پیر (25 مئی) کوامیر محمد سید عبدل رحمان ال مولا پر پابندی لگا دی اور انٹیلیجنس اور مالیاتی اداروں کو اس کی املاک اور سرمایہ کاری کو قبضے میں لینے کا حکم دیا ہے۔

ال مولا نے داعش کے سابقہ راہنما ابوبکر البغدادی کی امریکی افواج کے ہاتھوں گزشتہ اکتوبر میں شام میں ہلاکت کے بعد، جگہ لی ہے۔

اہلکار نے کہا کہ "یہ فیصلہ اقوامِ متحدہ کی سیکورٹی کونسل (یو این ایس سی) کی طرف سے اٹھائے جانے والے قدم کے بعد، جس کی داعش و القاعدہ پابندی کمیٹی نے ال مولا کو 21 مئی کو اپنی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا، کی بنیاد پر کیا۔

image

داعش-کے، کے ارکان کو 2019 میں افغانستان میں دیکھا جا سکتا ہے۔ [فائل]

image

صوبہ سندھ کے علاقے سہون میں صوفی بزرگ کے مزار پر ہونے والے خودکش دھماکے کے بعد، جس میں 70 سے زیادہ عقیدت مند ہلاک ہو گئے تھے، کراچی میں امن کے سرگرم کارکن فروری 2017 میں داعش اور دیگر عسکریت پسند گروہوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ [ضیاء الرحمان]

پاکستان کی حکومت نے ال مولا کی 13 عرفیات جس میں الحج عبداللہ قردیش، عبدل امیر محمد سید سلبی، ابو مسلم ال ترکمانی اور استاد احمد شامل ہیں، کو اپنی ان ایجنسیوں کے حوالے کیا ہے جو دہشت گردی کے واقعات کو دیکھتی ہیں۔

برطانیہ کے اخبار گارڈین نے 2020 کے آغاز میں اس کا نام امیر محمد عبدالرحمان المولا علی السبی بتایا تھا۔

اقوامِ متحدہ کے سٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے سات مارچ کو ال مولا کو عالمی دہشت گرد قرار دیا تھا۔

سٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے اپنی ویب سائٹ پر کہا کہ "ال مولا داعش کی پیشرو تنظیم، عراق میں القاعدہ میں سرگرم تھا اور داعش کی صفوں میں ترقی کرتے ہوئے نائب امیر بن گیا تھا"۔

اس میں کہا گیا ہے کہ عسکریت پسند نے شمال مغربی عراق میں یزدی، عیسائی اور دیگر مذہبی اقلیتوں اغوا، قتلِ عام اور اسمگلنگ کو بڑھانے اور اس کا جواز فراہم کرنے میں مدد فراہم کی اور گروہ کے عالمی آپریشنز کی نگرانی کی۔

عالمی لڑائی میں شامل ہونا

یو این ایس سی کے فیصلے کو دیکھتے ہوئے پاکستان نے داعش کے تین عالمی وابستگان کو مارچ میں اپنی دہشت گردی کی واچ لسٹ میں شامل کر دیا۔ان تنظیموں میں جامعہ انشورت دولہ جو کہ انڈونیشیا میں قائم دہشت گرد تنظیم ہے، داعش لیبیا اور داعش یمن شامل ہیں۔

انسدادِ دہشت گردی اتھارٹی جو کہ حکومت کا انسدادِ دہشت گردی کا ادارہ ہے کے مطابق، انسدادِ دہشت گردی کی عالمی کوششوں کے حصہ کے طور پر، پاکستان نے 2001 سے لے کر اب تک دہشت گردی کی 76 تنظیموں کو کالعدم قرار دیا ہے۔

کالعدم قرار دیے جانے والے 76 اداروں میں، کچھ بین الاقوامی دہشت گرد تنظیمیں ہیں جیسے کہ القاعدہ اور داعش۔

2003 میں، پاکستان نے القاعدہ کو کالعدم قرار دیا جسے اسامہ بن لادن نے بنایا تھا اور جنہیں امریکہ کے نیوی سیلز نے ایبٹ آباد کے ایک احاطے میں 2011 میں ہلاک کر دیا تھا۔

2013 میں، پاکستان نے وسطی ایشیاء کے دو عسکریت پسند گروہوں، اسلامک موومنٹ آف ازبکستان اور اسلامک جہاد یونین، کو اپنے کالعدم اداروں کی فہرست میں شامل کیا۔ اسی سال، اسلام آباد نے ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ جو کہ چین میں قائم عسکریت پسند تنظیم جس کا تعلق القاعدہ سے ہے، کو کالعدم قرار دیا۔

پاکستان نے القاعدہ کو اگست 2015 میں کالعدم قرار دیا تھا۔

پاکستان 11 ستمبر 2001 کو امریکہ میں دہشت گردانہ حملے کے بعد، انسدادِ دہشت گردی کی عالمی کوششوں کا سرگرم حصہ بن گیا تھا۔

کراچی سے تعلق رکھنے والے امن کے سرگرم کارکن عبدل حادی جو کہ شہر میں انسدادِ انتہاپسندی کے منصوبوں کو سنبھالتے ہیں، کہا کہ "داعش کے نئے سربراہ اور اس دہشت گردانہ تنظیم کے تین وابستگان کے داخلے پر پابندی لگانے کے حالیہ اقدامات عالمی کوششوں کا حصہ ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ "اس سے نہ صرف پہلے سے عالمی طور پر حصوں میں بٹی داعش مزید کمزور ہو جائے گی بلکہ اس سے پاکستان کی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کو داعش کی خراسان شاخ (داعش-کے) جو کہ پاکستان اور افغانستان کے لیے اس عسکریت پسند تنظیم کی مقامی شاخ ہے، پر کریک ڈاون کرنے میں مدد ملے گی"۔

داعش پاکستان میں کمزور ہو گئی ہے

داعش-کے کو عسکریت پسند گروہوں کے خلاف ملک بھر میں ہونے والے سیکورٹی کے آپریشنز سے نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

جنوری 2015 میں اپنے باضابطہ قیام کے بعد سے، داعش-کے نے پاکستان اور افغانستان میں بہت سے تباہ کن حملے کیے ہیں۔

تاہم، تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ داعش مشرقِ وسطی میں علاقائی طور پر شکست کھانے اورگزشتہ سال البغدادی کی ہلاکت کے بعد، دونوں ممالک میں اپنی قوتِ تحریک سے محروم ہو چکی ہے۔

کراچی کی انسدادِ دہشت گردی کی ایک عدالت نے 18 مئی کو داعش-کے کے دو عسکریت پسندوں کو، صوبہ سندھ کے علاقے سہیون میں صوفی مزار پر 2017 میں کیے جانے والے خودکش دھماکے کی منصوبہ سازی کرنے پر سزائے موت سنائی، جس میں 70 سے زیادہ عقیدت مند ہلاک ہو گئے۔

پنجاب کے انسدادِ دہشت گردی کے شعبہ (سی ٹی ڈی) کے اہلکاروں نے 16 مئی کو داعش-کے چار عسکریت پسندوں کو بہاولپور ڈسٹرکٹ میں فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک کر دیا تھا۔ اسے ون کی موجودگی کی اطلاع انٹیلیجنس کی خبروں سے ملی تھی۔

پنجاب سی ٹی ڈی کے ترجمان نے کہا کہ "داعش کے عسکریت پسند بہاولپور میں کچھ حساس جگہوں پر حملے کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے"۔ انہوں نے کہا کہ پولیس ہلاک کیے جانے والے عسکریت پسندوں کے ان تین ساتھیوں کو گرفتار کرنے کے لیے چھاپے مار رہی ہے جو فرار ہو گئے تھے۔

گزشتہ دسمبر میں، پنجاب سی ٹی ڈی نے مظفر گڑھ ڈسٹرکٹ میں انٹیلیجنس کی بنیاد پر کیے جانے والے ایک آپریشن میں داعش کے، کے دو ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 حروف باقی ہیں (حد 1500 حروف)