https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/03/03/feature-01
دہشتگردی |

قیادت کا بحران شدید ہونے پر مبہم شخصیات ٹی ٹی پی کو چلا رہی ہیں

از اشفاق یوسفزئی

image

پاکستانی سول سوسائٹی کا ایک کارکن 16 جنوری 2015 کو اسلام آباد میں ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران ایک پوسٹر اٹھائے ہوئے جس پر اس وقت کے تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے امیر مُلا فضل اللہ کی تصویر بنی ہوئی ہے۔ فضل اللہ سنہ 2018 میں افغانستان میں مارا گیا تھا۔ [فاروق نعیم/اے ایف پی]

پشاور -- تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو قیادت کے بحران کا سامنا ہے کیونکہ دہشت گرد جماعت قیادت کے لیے زیادہ تر مبہم شخصیات کا آسرا لے رہی ہے۔

پشاور کے مقامی ایک دفاعی تجزیہ کار، خادم حسین کا کہنا تھا کہ ٹی ٹی پی کے قائدین کی عوام میں کوئی جڑیں نہیں ہیں اور اس کی بجائے انہیں ذاتی اثرورسوخ اور طاقت کی بنیاد پر منتخب کیا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سیاسی یا سماجی تنظیموں جن میں قائدین اپنی طویل جدوجہد کے سبب قیادت کا سفر طے کرتے ہیں، کے برعکس ٹی ٹی پی اپنے قائدین اس بنیاد پر منتخب کرتی رہی ہے کہ کس کے پاس عوام کو خوفزدہ اور دہشت زدہ کرنے کی طاقت ہے۔

خادم حسین نے کہا کہ اقتدار کے خواہش مند سیاستدانوں کے برعکس، ٹی ٹی پی کے کمانڈروں کو قیادت کرنے کی صلاحیت یا فاتحانہ نظریئے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

پشاور کے مقامی دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر (ر) محمود شاہ نے کہا کہ دہشت گرد جماعت میں قائدین کی بنیادی قابلیت ان کی عوام الناس کو خوفزدہ کرنے میں بے رحمی کی سطح ہے۔

ان کا کہنا تھا، "ٹی ٹی پی یا دیگر دہشت گرد تنظیمیں اپنے قائدین کو میرٹ پر نہیں بلکہ ان کی جانب سے پھیلائے گئے خوف کی سطح پر منتخب کرنے کے لیے بدنام رہی ہیں۔"

شاہ کا کہنا تھا کہ اپنے مخالفین -- جیسے کہ ایسے علماء یا قبائلی عمائدین جو ان کے سامنے کھڑے ہونے کی جرأت کرتے ہیں -- کے سر قلم کرنا اور فوجیوں یا مبینہ جاسوسوں کو ہلاک کرنا ایسے افعال ہیں جن کے ذریعے وہ دہشت پھیلاتے ہیں اور عوام کو اپنے سامنے جھکنے پر مجبور کرتے ہیں۔

نامعلوم شخصیات

مولانا ولی محمد، المعروف عمری، کی حالیہ ترین تعیناتی اس بات کی مثال ہے کہ کیسے مبہم شخصیات ٹی ٹی پی میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہو رہی ہیں۔

ولی محمد، جو فروری میںافغانستان میں شہریار محسودکی ہلاکت کے بعد ٹی ٹی پی کا امیر بنا تھا، بالفرض ٹی ٹی پی کے سابقہ امراء بیت اللہ محسود اور حکیم اللہ محسود کا ایک قریبی ساتھی، اور تنظیم کے خودکش بمباری کے حصے کا سربراہ تھا۔ دونوں محسود برسوں پہلے مارے گئے تھے۔

تاہم، شمالی وزیرستان کا یہ باشندہ ابھی بھی نسبتاً نامعلوم شخصیت ہے۔

سنہ 2014 میں پاکستانی فوج کے انسدادِ دہشت گردی آپریشن ضربِ عضب کے بعد، ٹی ٹی پی کی قیادت افغانستان فرار ہو گئی تھی۔ وہاں، یہ اپنے قائدین سےامریکی فضائی حملوں میں یا مقامی دفاعی قوتوں کے ساتھ جھڑپوں میںمحروم ہوتی رہی۔

ٹی ٹی پی نے 6 فروری کو تسلیم کیا کہتنظیم کی مشاورتی کونسل کا ایک رکن، شیخ خالد حقانی، اور ایک اور رہنماء، قاری سیف اللہ پشاوری، 31 جنوری کو افغانستان میں فوج کے ساتھ ایک جھڑپ میں مارے گئے تھے۔

گزشتہ برسوں میں ٹی ٹی پی کے بہت سے قائدین دہشت گرد تنظیم کے امیر بننے سے قبل ناخواندہ اور چھوٹی موٹی ملازمتیں کرتے رہے ہیں۔

ٹی ٹی پی کا سابق امیر مُلا فضل اللہ، جو سنہ 2018 میں جلال آباد میں مارا گیا تھا، پولیو کے قطروں کے خلاف مہم چلانے سے قبل ایک لفٹ آپریٹر تھا، اور اس کے بعد جلد ہی سنہ 2007 میں ٹی ٹی پی کی سوات شاخ کا امیر بن گیا۔

جنوبی وزیرستان میں پہلے جنگجو کمانڈروں میں سے ایک، نیک محمد وزیر، ٹرانسپورٹ کے شعبے میں چھوٹی موٹی ملازمتیں کرتا تھا۔ اس نے ایک دینی مدرسے میں پانچ برس تعلیم حاصل کی تھی مگر بالکل ناخواندہ تھا، اور سنہ 2004 میں ایک فضائی حملے میں مارا گیا تھا۔

شاہ نے کہا، "یہ بنیادی وجہ ہے کہ ٹی ٹی پی کو متحد نہ رکھا جا سکا، کیونکہ نیٹ ورک بہت سے گروہوں میں تقسیم ہے جو پاکستان اور افغانستان دونوں جگہ فوج کے سامنے مزاحمت کرنے سے قاصر ہیں۔"

پشاور کے مقامی ایک دفاعی تجزیہ کار، اجمل خان نے کہا، "پاکستان میں، ٹی ٹی پی کی اتنی موجودگی نہیں ہے کہ وہ اپنا ایجنڈہ آگے بڑھا سکے۔"

ان کا کہنا تھا کہ وہ لوگ جو دہشت گردوں کا ساتھ دیتے ہیں وہ خوف کی وجہ سے دیتے ہیں اور جب وہ مارے جاتے ہیں تو وہ ان کی اموات کا سوگ نہیں مناتے۔

خان کا کہنا تھا کہ قیادت کے بحران نے تنظیم کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور یہ بہت کم معروف افراد کو اپنے قائدین کے طور پر نامزد کرنا جاری رکھے ہوئے ہے۔

دہشت گردی کے مسئلے کے ایک ماہر، اسلام آباد کے میجر جنرل (ر) جمشید ایاز خان نے کہا، "ٹی ٹی پی ان افراد کو قائدانہ کرداروں کی پیشکش کرنے کے لیے مشہور رہی ہے جن کے پاس زیادہ مسلح افراد ہوں اور ان کی غیر قانونی حکمرانی کی خاطر سبوتاژ کرنے کی کارروائیاں کرنے اور عوام کو خوفزدہ کرنے کے لیے وسائل ہوں۔"

ان کا کہنا تھا کہ دیگر دہشت گرد گروہوں کا بھی قیادت کا ایسا ہی نظریہ ہے۔

انہوں نے لشکرِ اسلامی کے امیر اور ایک ان پڑھ سابقہ ٹرک ڈرائیور، منگل باغ کا نام بطور مثال پیش کیا۔

خان نے کہا، "دیگر دہشت گرد قائدین کی طرح، منگل باغ کی کوئی تعلیم نہیں تھی، عوام میں اس کا کوئی مقام نہیں تھا اور نہ ہی کوئی خوبی تھی ۔۔۔ واحد قابلیت دہشت گردی کرنا تھی۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
2
تبصرے 5
تبصرہ کی پالیسی

درست بیانیہ

جواب

اچھا کام

جواب

ناقابل یقین

جواب

سچ ہے

جواب

متفق

جواب