https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/02/13/feature-01
دہشتگردی |

افغانستان میں دھماکے سے ایک اور ٹی ٹی پی رہنما ہلاک

اشفاق یوسفزئی

image

ٹی ٹی پی کے ہلاک رہنما حکیم اللہ محسود کے قریبی ساتھی اور ایک عسکریت پسند دھڑے، جو ٹی ٹی پی کے حلقہ کا ایک جزُ ہے، کے رہنما شہریار محسود 13 فروری 2020 کو سڑک کنارے ایک بم حملے میں ہلاک ہو گئے۔ یہاں دیکھا جا سکتا ہے کہ 2017 میں صوبہ ننگرہار میں سڑک کنارے ہونے والے ایک بم حملے کی جائے وقوعہ پر ملبہ کا معائنہ کرنے والے سیکیورٹی فورس اہلکاروں کو راہگیر دیکھ رہے ہیں۔ [نوراللہ شیرزادہ/اے ایف پی]

پشاور – تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے جمعرات (13 فروری) کو تصدیق کی کہ اس کالعدم عسکریت پسند گروہ کے ایک چوٹی کے رہنما افغانستان میں مارے گئے ہیں۔

ٹی ٹی پی کے ہلاک رہنما حکیم اللہ محسود کے قریبی ساتھی اور ایک عسکریت پسند دھڑے، جو ٹی ٹی پی کے حلقہ کا ایک جزُ ہے، کے رہنما شہریار محسود بدھ (12 فروری) کو صوبہ کنڑ، افغانستان میں ایک ریموٹ کنٹرولڈ بم حملے میں ہلاک ہو گئے۔

ایک پاکستانی انٹیلی جنس اہلکار، جنہوں نے اے ایف پی کو محسود کی موت کی تصدیق کی، نے بتایا کہ محسود 2016 میں فرار ہو گر افغانستان گئے تھے۔

فوری طور پر یہ امر واضح نہ ہو سکا کہ اس قتل کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔

31 جنوری کو افغانستان میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ تصادم میں ٹی ٹی پی کی مشاورتی کاؤنسل کے ایک رکن،شیخ خالد حقانیاور ایک دیگر رہنما قاری سیف اللہ پشاوری کی ہلاکت کے بعد محسود کی موت سامنے آئی۔

جون 2014 میں پاکستان کے قبائلی اضلاع میں پاک فوج کی جانب سے آپریشن ضربِ عضب کے آغاز کے بعد سے ٹی ٹی پی کو بھاری نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ایک سنیئر سیکیورٹی تجزیہ کار لفٹننٹ جنرل (ریٹائرڈ) طلعت مسعود نے کہا، "[ٹی ٹی پی کے] زیادہ تر رہنما فرار ہو کر افغانستان جا چکے ہیں۔ متعدد سینیئر رہنما یا تو روپوش ہو چکے ہیں یا مارے جا چکے ہیں، جو دہشتگردی کے واقعات میں تیزی سے اضافے کی بنیادی وجہ ہے۔"

انہوں نے کہا کہ وہ دن گئے کہ جب ٹی ٹی پی ایک بڑی فوج سمجھی جاتی تھی، کیوں کہاب یہ سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جنگ لڑنے کی حالت میں نہیں ہے۔

انہوں نے کہا، "ٹی ٹی پی کی قیادت پاکستان میں پہلے ہی غائب ہو چکی ہے، جبکہ افغانستان میں وہ مفرور ہے۔ ٹی ٹی پی کو متعدد اموات کا سامنا ہے، جن میں سے زیادہ تر کی خبر نہیں آتی۔۔۔ صرف اس کے رہنماؤں کے قتل کے بارے میں ہی خبریں آتی ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں ٹی ٹی پی کے جنگجو اور مقامی رہنما سیکیورٹی فورسز کے سامنے ہتھیار ڈال رہے ہیں، جو اس امر کی عکاسی ہے کہ وہ کس قدر کمزور ہیں۔ پاکستان میں بھی دہشتگردی ترک کرنے سے قبل ہزاروں طالبان ہتھیار ڈال چکے تھے۔

جامعہ پشاور میں انٹرنیشنل ریلیشنز کے ماسٹرز کے ایک طالبِ علم نمائر خان نے کہا، "شہریار محسود کی مبینہ موت ٹی ٹی پی کے لیے ایک شدید دھچکہ ہو گی، اور اس سے اس کی صفیں اور حالیہ قیادت کا ڈھانچہ مزید بد دل ہو جائے گا۔"

خان نے کہا، "ان کے قتل کی خبر – جس کی تصدیق ٹی ٹی پی نے کی – افغانستان اور پاکستان میں ان کی سرگرمیوں پر طویل عرصے تک اثر انداز ہو گی۔"

اس نے کہا، "اس سے ٹی ٹی پی کی مسلسل ابتری ظاہر ہوتی ہے کیوں کہ وہ سیکیورٹی فورسز سے نہیں لڑ سکی۔ گزشتہ کئی ماہ سے ٹی ٹی پی کا انٹیلی جنس نظام بھی فعال نہیں ہے، لہٰذا آئے روز اس کے ارکان قتل ہو رہے ہیں۔"

پشاور سے تعلق رکھنے والے ایک سیکیورٹی تجزیہ کار خادم حسین نے کہا کہ 2018 میں افغانستان میں ایک امریکی حملے میںٹی ٹی پی رہنما ملّا فضل اللہ کے خاتمہ اور وقتاً فوقتاً ان کے دیگر کمانڈروں کی ہلاکت نے اس گروہ کے جنگجوؤں کو روپوش ہونے پر مجبور کردیا۔

انہوں نے کہا، "یہ جنگ لڑنے کا اپنا عزم کھو چکی ہے اور اب عوام میں دہشت پھیلانے کی غرض سے بم حملوں اور خود کش حملوں پر منحصر ہے۔ یہ جاننے کے بعد کہ ٹی ٹی پی عوام کی حقیقی دشمن ہے، اب عوام اس کے ساتھ نہیں ہے۔"

انہوں نے کہا کہ یہ نظریہ غلط ثابت ہو گیا ہے کہ ٹی ٹی پی کا مقصد ایک اسلامی حکومت کا قیام اور اسلامی اقدار کا فروغ تھا، کیوں کہ اس کی سرگرمیاں دینی تعلیمات کے خلاف تھیں، انہوں نے مزید کہا کہ ٹی ٹی پی عسکریت پسندوں کی جانب سے دہشتگردی کے اقدامات نے پاک افغان سرحد کی دونوں جانب سے عوام کے غم و غصہ کو بھڑکایا۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
1
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی