https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/02/20/feature-01
سلامتی |

افغانستان میں ٹی ٹی پی رہنماؤں کے حالیہ قتل نے اس گروہ کو مفلوج کر دیا

ضیاءالرّحمٰن

image

25 نومبر 2019 کو لی گئی اس تصویر میں پاکستانی سرحد کے قریب صوبہ ننگرہار میں افغان سیکیورٹی فورسز ایک جاری آپریشن میں حصّہ لے رہی ہیں۔ [نوراللہ شیرزادہ/اے ایف پی]

کراچی – مشاہدین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے کمانڈروں کی حالیہ ہلاکتوں نے اس گروہ کو شدید کمزور اور بلا سمت کر دیا ہے۔

TTP نے 6 فروری کو اعتراف کیا کہگروہ کی مشاورتی کاؤنسل کے ایک رکن شیخ خالد حقانی اور ایک دیگر رہنما قاری سیف اللہ پشاوری افغانستان میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ ایک تصادم میں مارے گئے۔

درایں اثناء،ٹی ٹی پی کے ہلاک رہنما حکیم اللہ محسود کے قریبی ساتھی اور ایک عسکریت پسند دھڑے، جو TTTP کے حلقہ کا ایک جزُ ہے، کے رہنما شہریار محسود 12 فروری 2020 کوصوبہ کنڑ، افغانستان میں سڑک کنارے ایک بم حملے میں ہلاک ہو گئے۔

image

28 جنوری کو کراچی میں نیم فوجی رینجرز سیکیورٹی فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ ملک بھر میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے ملک بھر میں ٹی ٹی پی کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد عسکریت پسندوں نے افغانستان کے ہمسایہ صوبوں میں اپنی کمین گاہیں منتقل کر لی ہیں۔ [ضیاءالرّحمٰن]

image

ایک فائل فوٹو میں دسمبر 2017 میں کراچی میں طالبان عسکریت پسندوں کی بربریت کے خلاف احتجاج کرتے سول سوسائٹی کے فعالیت پسند دکھائے گئے ہیں۔ [ضیاءالرّحمٰن]

پاکستان بھر میں متعدد دھڑوں پر ایک کریک ڈاؤن کے بعد، عسکریت پسندوں نے اپنی کمین گاہیں افغانستان کے ہمسایہ صوبوں میں منتقل کر لیں۔

یہاں یہ پاکستان میں کیے جانے والے دہشتگردانہ اقدامات کی منصوبہ سازی کرتے ہیں اور سرحد پار حملے کرتے ہیں، جس سے پاکستانی اور افغان حکومتوں کے مابین تناؤ پیدا ہوتا ہے۔

ٹی ٹی پی نے اپنی حالیہ کتاب "انقلاب محسود" میں خود بھی اعتراف کیا کہ گزشتہ چند برسوں میں سرحد کے ساتھ ساتھ مشترکہ آپریشنز میں اس کے متعدد کلیدی رہنما مارے جا چکے ہیں۔

ٹی ٹی پی امیر مفتی نورولی المعروف منصور عاصم کی تصنیف، جنوری میں شائع ہونے والی، اس کتاب کے تیسرے اور تازہ ترین شمارے میں ان متعدد رہنماؤں کے نام دیے گئے جو ضلع برمل، صوبہ پاکتیکا، افغانستان میں ہلاک ہوئے۔

ولی خود بھی جون 2018 میں اس وقت رہنما بنے، جب ان کے پیش روملّا فضل اللہ صوبہ کنڑ، افغانستان میں امریکہ اور افغان فورسز کے مشترکہ آپریشن میں مارے گئے۔

اس فہرست کے مطابق، مرکزی نائب امیر خان سعید محسود، المعروف ساجنا فروری 2018 میں ضلع برمل میں اپنے پاسداران کے ہمراہ مارے گئے۔

اس کتاب کے مطابق، 2018 میں اس ضلع میں مزید نو کلیدی ٹی ٹی پی رہنما مارے گئے۔

افغانستان میں ٹی ٹی پی کی کمین گاہوں سے واقفیت رکھنے والے ایک سیکیورٹی عہدیدار کے مطابق، ٹی ٹی پی محسود دھڑے کے رہنما ضلع برمل میں کمین گاہیں چلا رہے ہیں، جبکہ سوات دھڑے کے ارکان کنڑ اور نورستان میں روپوش ہیں۔

انہوں نے کہا، "افغانستان میں [ٹی ٹی پی کے] کے فضل اللہ اور سجنا جیسے کلیدی رہنماؤں کی ہلاکتپہلے سے مفلوجاور دھڑے بنتی ٹی ٹی پی کے لیے ایک بڑا دھچکہ تھی۔"

سرحد پار سے دہشتگردی

پاکستان نے بارہا افغان حکومت کو سرحد کے قریبی علاقوں میں ٹی ٹی پی کی کمین گاہوں کے خاتمہ کے لیے کہا ہے۔

گزشتہ اگستپاکستان کے دفترِ خارجہ نے باضابطہ طور پر افغانستان کو سرحد کے ساتھ ساتھ دہشتگرد کیمپوں کے مقامات سے متعلق آگاہ کیااور درخواست کی کہ افغان حکومت ان علاقوں میں افواج تعینات کرے۔

کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک تاجر مجتبیٰ سرحدی، جو افغانستان کے ساتھ کاروبار کرتے ہیں، نے کہا، "وہاں سے [افغانستان کے ہمسایہ صوبوں] ٹی ٹی پی اور دیگر طالبان دھڑے پاکستانی کی سیکیورٹی فورسز اور شہریوں پر حملوں کی منصوبہ بندی اور عملدرامد کرتے ہیں—جن کا بنیادی مقصد پاکستان اور افغانستان کے مابین تعلقات کو خراب کرنا ہے۔"

سرحدی نے کہا، "گزشتہ برس کے دوران سرحد پار سے دہشتگردی کے یہ واقعات سرحدی پھاٹکوں کی بندش اور سامان اور لوگوں کی نقل و حمل پر پابندیوں کا باعث بنے۔"

انہوں نے کہا، "محسوس ہوتا ہے کہ عسکریت پسند ہمسایہ ممالک کے درمیان انسانی روابط اور تجارت کو خراب کرنا چاہتے ہیں۔"

ٹی ٹی پی کے کمزور پڑنے سے سرحد پار سے ہونے والے حملوں میں کمی آئی ہے۔

ایک اسلام آباد اساسی تھنک ٹینک پاک ادارہ برائے علومِ امن (پی آئی پی ایس) کی ایک سالانہ سیکیورٹی رپورٹ کے مطابق، 2019 میں خیبر پختونخوا (کے پی) کے متعدد اضلاع میں افغانستان سے چار سرحد پار کے حملے کیے گئے جو گزشتہ برس سے 75 فیصد کم ہیں۔

ان حملوں میں چھ پاکستانی شہدی ہوئے – جو تمام فوجی سپاہی تھے – اور 14 فوجیوں اور پانچ شہریوں سمیت 19 دیگر زخمی ہوئے۔ ان تمام واقعات میں عسکریت پسندوں نے سیکیورٹی فورسز اور ان کی چوکیوں کو نشانہ بنایا جو زیادہ تر کے پی کے ان حصوں میں تھیں جو افغانستان کی سرحد کے قریب ہیں۔

پی آئی پی ایس کے مطابق، 2018 میں افغانستان سے سرحد پار کے 16 حملے ہوئے۔ ان حملوں میں 21 سیکیورٹی اہلکار اور 22 عسکریت پسند ہلاک ہوئے اور 22 دیگر افراد زخمی ہوئے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
3
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی