https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/01/13/feature-02
دہشتگردی |

داعش کے دعوے کے باوجود، کوئٹہ کے مدرسے میں ہونے والے دھماکے کے پیچھے افغان طالبان نظر آتے ہیں

از عبدالغنی کاکڑ

image

10 جنوری کو سیکیورٹی حکام کوئٹہ میں بم دھماکہ ہونے والے مدرسے پر پہرہ دے رہے ہیں۔ [عبدالغنی کاکڑ]

کوئٹہ -- اگرچہ "دولتِ اسلامیہ عراق و شام" (داعش) نے 10 جنوری کو کوئٹہ میں ایک مدرسے میں ہونے والے خونریز خودکش بم دھماکے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے، حکام اور مبصرین پھر بھی شک میں مبتلا ہیں۔

عسکریت پسند گروہ نے دعویٰ کردہ بمبار کی ایک تصویر اس کے نام کے ساتھ جاری کی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ اس نے نمازِ مغرب کے دوران افغان طالبان کے ارکان کو نشانہ بنایا تھا۔

کوئٹہ کے مقامی سیکیورٹی اہلکار عظمت خان نے کہا کہ خودکش بمبار نے مدرسہ، دارالعلوم شرعیہ کے اندرونی حصے میں بارودی مواد پھاڑا تھا۔

image

10 جنوری کو طلباء کوئٹہ میں بم دھماکہ ہونے والے مدرسے کے سامنے جمع ہیں۔ [عبدالغنی کاکڑ]

image

داعش کے ایک مبینہ خودکش بمبار کی تصویر جس نے کوئٹہ میں کارروائی کی تھی۔ فوٹو اور داعش کی جانب سے کارروائی کی ذمہ داری قبول کرنے کے دعوے کے باوجود، حکام اور مبصرین کا کہنا ہے کہ حملے کے پیچھے افغان طالبان ہو سکتے ہیں۔ [فائل]

خان کے مطابق، دھماکے میں 15 افراد جاں بحق اور دیگر 25 زخمی ہوئے، اور ان میں کوئٹہ کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) امان اللہ اسحاق زئی شامل تھے۔

ان کا کہنا تھا، "نشانہ بنایا جانے والا مدرسہ ۔۔۔ افغان پناہ گزینوں کے زیرِ انتظام تھا، اور ہماری تحقیقاتی ٹیموں نے بمبار کی باقیات برآمد کر لی ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ ایک اعلیٰ سطحی ٹیم تحقیقات کر رہی ہے، اور حکام نے جائے وقوعہ کی جیو فینسنگ مکمل کر لی ہے، ان کا اشارہ دھماکے سے بالکل پہلے اور بعد میں جائے وقوعہ کے قریب استعمال ہونے والے موبائل فونوں کا سراغ لگانے کی مشق کی طرف تھا۔

داعش 'صورتحال کا فائدہ اٹھا رہی ہے'

خان نے کہا "کوئٹہ میں ہونے والے تازہ حملے عسکریت پسندی کی ایک نئی لہر کا حصہ ہیں،" ان کا مزید کہنا تھا کہ دھماکے میں جاں بحق ہونے والے ڈی ایس پی کے بیٹے، نجیب اللہ، پر 10 دسمبر کو کوئٹہ میں قاتلانہ حملہ ہوا تھا۔

حکام کا کہنا تھا کہ 10 جنوری کو ہونے والے دھماکے کی ذمہ داری قبول کرنے کی داعش کی چال پاکستان میں دیگر عسکریت پسندوں کی جانب سے کیے گئے پرتشدد حملوں سے "فائدہ اٹھانے" کی مہم کا ایک جزو ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ داعش خود کو متعلقہ دکھانے کے لیے ایسا کرتی ہے۔

گزشتہ دو برسوں میں پاکستان میں داعش نےدہشت گردی کی کئی کارروائیوں کی جھوٹی ذمہ داری قبول کیہے.

کوئٹہ کے مقامی، وزارتِ داخلہ کے ایک اہلکار، مزمل جاوید نے کہا، "داعش خطے میں اپنا اثرورسوخ اور غلبہ ثابت کرنے کی کوشش میں بلوچستان میں بے بنیاد دعوے کرنے کے لیے مشہور ہے"۔

انہوں نے کہا، "ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بلوچستان میں داعش کی جانب سے کیے گئے بہت سے دعووں کی پوری طرح تحقیقات کی ہیں، مگر ان میں سے کوئی بھی دعویٰ سچا ثابت نہیں ہوا۔ سوشل میڈیا داعش کے لیے ۔۔۔ جھوٹے دعوے کرنے کا ایک بڑا ذریعہ ہے"۔

جاوید کا مزید کہنا تھا کہ داعش کی خراسان شاخ "دیگر عسکریت پسند گروہوں کی جانب سے کیے گئے حملوں کا فائدہ اٹھا رہی ہے، اور گزشتہ چند برسوں میں دیگر فرقہ وارانہ عسکری گروہوں سے داعش میں شامل ہونے والے جنگجوؤں میں سے بیشتر ملک کے مختلف حصوں میں انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں میں مارے گئے تھے"۔

ان کا کہنا تھا، جبکہ داعش نے -- افغانسان اور شام میں وسیع شکستوں کے بعد -- خطے میں اثرورسوخ حاصل کرنے کی کوشش کی ہے، اس کی کوششیں ناکام ہو گئی ہیں۔

جاوید نے کہا، "ہماری انسدادِ دہشت گردی کی پالیسی بہت جامع اور بصیرت پر مبنی ہے، اوردفاعی اداروں نے داعش کے دوبارہ ظہور کی ہر ممکنہ کوشش کو ناکام بنایا ہےجاوید نے کہا

افغان طالبان کا انتقام

افغان طالبان کے ایک ساتھی اور تنظیم کے ایک سابق کمانڈر نے کہا کہ افغان طالبان اصل مجرم ہو سکتے ہیں۔

گمنامی کی شرط پر بات کرتے ہوئے، ان کا کہنا تھا، "افغان طالبان کو افغانستان میں جاری امن عمل پر شدید اختلافات تھے، اور افغان طالبان کا مُلا رسول دھڑا کوئٹہ کے سیٹلائیٹ ٹاؤن میں ہونے والے تازہ ترین حملے کی پشت پر ہو سکتا ہے"۔

مُلا (محمد) رسول دھڑا طالبان کے مرکزی دھڑے سے قیادت کی جانشینی پر تنازعہ کے لیے لڑ رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا، "میرے اندازے کے مطابق، یہ خودکش حملہ افغان فوج کے ایک حالیہ حملے کا انتقام ہو سکتا ہے جو [8 جنوری کو] افغانستان کے صوبہ ہرات کے ضلع شنداند میں ہوا تھا جس میں مُلا رسول کے دھڑے کا ایک اعلیٰ کمانڈر مُلا نانگیالئی دیگر 30 ملزمان کے ہمراہ مارا گیا تھا"۔

ان کا مزید کہنا تھا، "افغان طالبان کے مُلا رسول دھڑے کا تعلق ایران سے ہے اور انہیں شبہ ہے کہ ضلع شنداند میں طالبان کی موجودگی کی اطلاع افغان حکام کو اس کے مخالفین کے ساتھیوں کی جانب سے دی گئی تھی۔"

طالبان ذریعے نے بتایا کہ کوئٹہ میں 10 جنوری کو ہلاک ہونے والے طالبان ارکان میں طالبان کے اعلیٰ کمانڈر مولوی حکیم کے بھائی، مُلا اختر جان اور صوفی لالک شامل تھے۔

انہوں نے کہا، مزید برآں، افغان طالبان کی مالیاتی شاخ کے سربراہ، گل آغا کے بھائی، مولوی ظریف، نیز مولوی حکیم کے دو دیگر رشتہ دار بھی ہلاک ہو گئے تھے۔

ایک پریس ریلیز میں کوئٹہ سول ہسپتال کا کہنا تھا کہ مارے جانے والوں میں سے چھ کی شناخت ہونا ابھی باقی ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
14
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی