https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/12/30/feature-03
سیاست

مسیحی قانون ساز قبائلی اقلیتوں کے لیے نمائندگی اور عطائے اختیار لائے

حنیف اللہ

image

قبائلی اضلاع سے کے پی اسمبلی کے پہلے اقلیتی رکن، ولسن وزیر اکتوبر میں باجوڑ مائناریٹی ایسوسی ایشن کی جانب سے ان کے اعزاز میں منظّم کیے گئے ایک پروگرام سے خطاب کر رہے ہیں۔ [حنیف اللہ]

کھر، ضلع باجوڑ – اقلیتوں کی نمائندگی، سابقہ وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات (FATA) کے خیبر پختونخوا (کے پی) کے ساتھ انضمام کے ذریعے لائی گئی کلیدی پیش رفتوں میں سے ایک ہے، جس کا ثبوت کے پی اسمبلی میں ان اضلاع کے پہلے اقلیتی قانون ساز ہیں۔

45 سالہ ولسن وزیر، جن کا تعلق لنڈی کوتل، ضلع خیبر سے ہے، قبائلی اضلاع سے پہلے اقلیتی سیاست دان ہیں جنہوں نے کے پی اسمبلی میں جگہ بنائی۔ وہ جولائی میں منتخب ہوئے۔

پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے ایک رکن، وزیر، جنہوں نے اقلیتوں کے لیے مختص ایک نشست جیتی، نے کہا، "حکومتِ کے پی نے قبائلی اضلاع کی اقلیتوں کے لیے ایک سالانہ ترقیاتی پروگرام میں 200 ملین روپے (1.2 ملین ڈالر) منظور کیے، اور ہم یہ رقم منظور کرنے پر وزیرِ اعلیٰ محمود خان کے مشکور ہیں۔"

وزیر نے دسمبر میں کہا کہ حکومتِ کے پی قبائلی اضلاع میں گرجہ گھروں اور گُردواروں جیسے مذہبی مراکز اور اقلیتوں کے لیے دیگر کمیونیٹی سنٹرز کی تشکیل کے لیے 50 ملین روپے (324,149) ڈالر مختص کرے گی۔

image

ایک قبائلی بزرگ 12 اکتوبر کو باجوڑ میں ولسن وزیر کا خیر مقدم کر رہے ہیں۔ [حنیف اللہ]

انہوں نے مزید کہا، "ہم بیواؤں اور یتیموں کے لیے بھی اور اس کے ساتھ ساتھ ایسے فنڈ بھی مختص کریں گے جن کی مدد سے طلبہ اور نوجوان درون و بیرونِ ملک تعلیمی دورے کر سکیں گے۔"

وزیر نے کہا کہ انہوں نےمقامی اقلیتوں کے مسائل سننے کے لیےاکتوبر میں باجوڑ کا دورہ کیا، انہوں نے مزید کہا کہ وہ حکومت کو ترقیاتی سکیمیں بھی تجویز کریں گے۔

انہوں نے کہا، "میں نے باجوڑ کی انتظامیہ کو ایک قبرستان اور ایک گرجہ گھر کے لیے جگہ تلاش کرنے کی ہدایت کی ہے کیوں کہ باجوڑ کی اقلیت [زیادہ تر مسیحیوں] کے لیے یہ دونوں موجود نہیں۔"

وزیر نے کہا، "قبائلی اضلاع میں اقلیتیں آزادانہ طور پر اپنے مندروں اور عبادت گاہوں میں جا سکتی ہیں اور انہیں مسلمانوں کی جانب سے کوئی مسئلہ نہیں۔ ضم شدہ اضلاع کے باشندوں کے اقلیتوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، اور تاحال کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔"

باجوڑ مائناریٹی ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل جمیل بسمل نے کہا، "ہم خوش ہیں کہ ہمارے اپنے رکنِ صوبائی اسمبلی ہیں، اور یہ پاکستان کی 72 سالہ تاریخ میں کسی اقلیتی نمائندہ کا ضلع باجوڑ کا پہلا دورہ ہے۔"

انہوں نے کہا کہ ضلع باجوڑ میں پہلی مرتبہ ضلعی انتظامیہ نے اقلیتوں کے مسائل سننے کے لیےکھلی کچہریکا انتظام کیا۔

بسمل نے کہا، "ہمیں امّید ہے کہ یہ حکومت ہمارے مسائل حل کرے گی کیوں کہ صوبائی حکومت نے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں اقلیتوں کے لیے فنڈ مختص کیے ہیں۔"

بسمل کے مطابق، ضلع باجوڑ میں 272 اقلیتی افراد ہیں – 270 مسیحی اور دو ہندو۔

ان میں باجوڑ کی پہلی اقلیتی معلمہ آسیہ چنن بھی شامل ہیں۔

چنن، جو گورنر ماڈل سکول فار گرلز میں پڑھاتی ہیں، نے کہا، "میں مسلمان طلبہ کے ساتھ کام کر کے خوش ہوں، اور وہ میری عزت کرتے ہیں۔ مجھے فخر ہے کہ میں اسلامی تعلیم بھی پڑھاتی ہوں۔"

اس سکول میں تیسری جماعت کی ایک طالبہ مسکان نے کہا، "ہم اپنی استانی چنن کی پڑھائی سے خوش ہیں، اور میں نے ان سے بہتر طور پر سکیھا ہے۔"

چنن نے کہا کہ وہ سابقہ فاٹا کی ایک رہائشی کے طور پر کے پی اسمبلی میں نمائندگی ملنے پر خوش ہیں۔ رواں برس کے اسمبلی انتخابات تک، فاٹا کے باشندوں کی وہاں کوئی نمائندگی نہ تھی۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 2
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 حروف باقی ہیں (حد 1500 حروف)

بہت اچھا

جواب

قلیتوں کے لیے کلیسا اور گرودوارے اور دیگر کمیونیٹی سنٹرز تعمیر ہونے چاہیئں، لیکن بت پرستی کے لیے مندر نہیں، جنہیں خود حضرت محمّدؐ نے تباہ کیا تھا۔

جواب