https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/12/05/feature-01
کاروبار |

مجوزہ ٹیکس قوانین کے تحت صرافوں اور پراپرٹی ڈیلروں کو مشکوک لین دین کی خبر دینا ہو گی

محمد شکیل

image

نومبر میں پشاور کے صرافہ بازار جو کہ پشاور میں زیورات کا لین دین کرنے والوں کا بازار ہے، دکھایا گیا ہے۔ پاکستان کے ٹیکس کے حکام نے ترامیم کا ایک مسودہ پیش کیا ہے جس کے تحت صرافوں اور پراپرٹی ڈیلروں کے لیے لازمی ہو گا کہ وہ کسی بھی مشکوک لین دین کی خبر کریں۔ [محمد شکیل]

پشاور --پاکستان کے ٹیکس حکام صرافوں اور پراپرٹی ڈیلروں کی نگرانی کرنے کے لیے قوانین میں ترمیم کر رہے ہیں جو کہ دہشت گردی کے لیے سرمایہ کاری اور منی لانڈرنگ کو روکنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) نے پراپرٹی ڈیلروں اور صرافوں کی نگرانی اور دستاویز کاری کے لیے، 8 نومبر کو انکم ٹیکس قوائد 2002 کے لیے ترامیم کا ایک مسودہ جاری کیا۔

اس مسودہ کو قانون بننے کے لیے وفاقی کابینہ کی منظوری کی ضرورت ہو گی۔ حکومت نے اس مسودہ پر کام کرنے کے لیے کابینہ کے شیڈول کا ابھی اعلان نہیں کیا ہے۔

یہ قدم فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی ضروریات پوری کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے تاکہ پاکستان منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے سرمایہ کاری کے معاملے میں انسدادِ بدعنوانی کے عالمی ادرے کی بلیک لسٹ میں شامل کیے جانے سے بچ سکے۔

اس تبدیلی کے تحت، متعین کردہ افراد -- صرافوں اور پراپرٹی ڈیلروں-- کے لیے ضروری ہو گا کہ وہ ایک مخصوص مالیت سے زیادہ کے لین دین کے لیے دستاویز سازی کریں اور ریکارڈ رکھیں۔

صرافوں کے لیے، ایسے لین دین میں قیمتی اشیاء، سونے، ہیروں، پلاٹینم، موتیوں اور نیم قیمتی پھتروں کی لین دین جس کی کل مالیت ایک ملین رپووں (6,450 ڈالر) سے زیادہ ہو شامل ہے۔

پراپرٹی ڈیلروں کو غیر منقول املاک جن کی مالیت دو ملین روپوں (12,900 ڈالر) سے زیادہ ہو، کے لین دین کا ریکارڈ رکھنا ہو گا۔

لین دین کے لیے کی جانے والی دستاویز سازی میں خریدار اور فروخت کنندہ کی مکمل دستاویزات بشمول کمپیوٹرازڈ قومی شناختی کارڈ (سی این آئی سیز) غیر ممالک میں رہنے والے پاکستانیوں کے لیے قومی شناختی کارڈ (این آئی سی او پیز)، الین رجسٹریشن کارڈز، پاکستان اوریجن کارڈز اور پاسپورٹ کی کاپی یا قانونی قیام کی دستاویزات، شامل ہیں۔

صرافوں اور پراپرٹی ڈیلروں، دونوں کے لیے ضروری ہو گا کہ وہ اپنے لین دین کا حساب رکھیں اور کسی بھی مشکوک لین دین کی خبر ایف بی آر کی آئرس آن لائن ٹیکس ریٹرن سسٹم میں کریں۔

ٹیکس افسران کی ٹیموں کے پاس اختیارات ہوں کہ وہ صرافوں اور پراپرٹی ڈیلروں کے ریکارڈز کا جائزہ لیں اور کسی ابہام کی صورت میں ان کا لائسنس منسوخ کر دیں۔

ڈپٹی کمشنر ہیڈکواٹرز ریجنل انکم ٹیکس آفس پشاور محسن خان نے کہا کہ "اب، ایسے کاروباری مالکان جن کے دستاویز سازی نہیں ہے اور جو زدپذیر ہیں کا ریکارڈ قائم کرنا ممکن ہو گا" جن پر مجرمان دباؤ ڈالتے ہیں یا انہیں بلیک میل کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "ٹیکس دہندگان کے ریکارڈ کو رکھنے کے لیے نظام کو خودکار بنانے کے آغاز سے بھی ہمیں ریکارڈ کی نگرانی اور تجزیہ کرنے میں مدد ملے گی"۔

خان نے کہا کہ "غیر قانونی سرمایے کو چھپانے کا آسان ترین طریقہ املاک کی خریداری اور سونا ور دیگر قیمتی پتھر خریدنا رہا ہے جو کہ آسانی سے کسی کو پتہ چلائے بغیر فروخت کیے جا سکیں"۔

'ہر ایک شخص کی ذمہ داری'

خان کے مطابق، ایسے کاروبار کی اکثر دستاویز سازی نہیں کی جاتی جس سے اس بات کا امکان بڑھ جاتا ہے کہ اس میں شامل سرمایہ غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس میں دہشت گردی کے لیے سرمایہ کاری بھی شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ "نیا نظام بلیک مارکیٹ کی معیشت کی نگرانی کرے گا، تمام چور دروازے بند کرے گا اور ایف اے ٹی ایف کے بارے میں تشویش کو حل کرے گا اور ملک کی معیشت کو طاقت ور بنائے گا اور ملکی برادری میں اس کی ساکھ کو بہتر بنائے گا"۔

پشاور کے زیورات کے بازار، صرافہ بازار میں ایک دکان کے مالک حاجی محمد یوسف نے کہا کہ "یہ ہر ایک شخص کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کوششوں میں حکومت کی مدد کریں تاکہمنی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے سرمایہ کاری کا خاتمہ کیا جا سکے

انہوں نے کہا کہ "دہشت گردی کی برائی کو پھلنے پھولنے کے لیے وسائل کی ضرورت ہوتی ہے اور ہمیں برادری کے ارکان کے طور پر اس کی لائف لائن کو لازمی طور پر کاٹنا ہو گا"۔

یوسف نے کہا کہ حکومت کی طرف سے صرافوں اور پراپرٹی ڈیلروں کی حکومتی نگرانی کو بڑھانے کے دوران، ایک اور عنصر جسے ذہن میں رکھنا چاہیے وہ ان کی اس امر کے بارے میں آگاہی ہے کہ وہ اس ساری مشق کی اہمیت اور مستقبل کے مضمرات کے بارے میں جانیں۔

انہوں نے کہا کہ "انہیں ٹیکس حکام کی طرف سے دہشت گردی کی سرمایہ کاری اور منی لانڈرنگ کا خاتمہ کرنے میں کوششوں کے ساتھ مدد فراہم کرنے کے لیے واقفیت اور رہنمائی فراہم کی جانی چاہیے۔ تجویز کردہ ترامیم کے مطلوبہ نتائج اس وقت سامنے آئیں گے اگر کاروباروں کے مالکان اس کے لیے تیار ہوں گے اور اگر اہم اعتماد قائم کرنے والے اقدامات نافذ کریں گے"۔

حیات آباد میں کام کرنے والے پراپرٹی ڈیلر محمد ضیاء نے کہا کہ "نامزد کردہ شخص کی شناخت کی حفاظت کے لیے حکومت کی طرف سے یقین دہائی سے ترامیم کے مقصد کی پیدواریت متاثر ہو گی"۔

انہوں نے کہا کہ "اس شخص کی شناخت جس نے حکومت کو مشکوک لین دین کے بارے میں بتایا ہے کی حفاظت کو لازمی طور پر مدِنظر رکھنا چاہیے اور اس کی شناخت کی حفاظت کی جانی چاہیے"۔

انہوں نے کہا کہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے سرمایہ کاری ہر اس شخص کے لیے تشویش کا باعث ہے جو اپنی مادرِزمین میں امن چاہتا ہے"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
2
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی