https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/11/25/feature-01
تعلیم |

قبائلی یوتھ پراجیکٹ کو تعلیم سے انتہاپسندی کا مقابلہ کرنے کے لیے گرانٹ مل گئی

حنیف اللہ

image

طلباء 21 ستمبر کو امن کے عالمی دن کے موقع پر "امن کے لیے ماحولیاتی اقدام" نامی مقابلے میں تصاویر پر کام کر رہے ہیں۔ اس کا انعقاد خادم الخلق فاونڈیشین نے خیبر پبلک اسکول اور کالج باڑا میں کیا تھا۔ [حنیف اللہ]

خار، باجوڑ ڈسٹرکٹ -- خیبر پختونخواہ (کے پی) میں سماجی بھلائی کے ایک گروہ کو، جو قبائلی نوجوانوں کو بنیاد پرستی اور انتہاپسندی کے نقصانات کے بارے میں تعلیم دینا چاہتا ہے، امریکہ کی طرف سے سرمایہ حاصل کرنے والی ایک امن تنظیم کی طرف سے گرانٹ ملی ہے۔

یو ایس انسٹی ٹیوٹ آف پیس (یو ایس آئی پی)، جو دنیا بھر میں متشدد تنازعات کے انسداد، تخفیف اور حل کے لیے مقامی شرکا کو امداد فراہم کرتا ہے، نے خادم الخلق فاونڈیشن (کے کے ایف) کو اس کے "تنقیدی سوچ سے امن کو فروغ دینا" نامی منصوبے کے لیے گرانٹ دی ہے۔ یہ بات یو ایس آئی پی نے 22 اکتوبر کو ایک بیان میں کہی۔

کے کے ایف، یو ایس آئی پی کے پہلے یوتھ اینڈ پیس بلڈنگ گرانٹس مقابلے جو کہ اس کے جنریشن چینج فیلوز پروگرام کے دنیا بھر کے ارکان کے درمیان ہوا تھا، میں گرانٹ جیتنے والے دوسرے فاتحین میں سے ایک تھا۔

image

ایک شرکت کار 21 ستمبر کو امن کے عالمی دن کے موقع پر، خیبر کی قبائلی ڈسٹرکٹ میں، خیبر پبلک اسکول اور کالج باڑا میں منعقد ہونے والے "امن کے لیے ماحولیاتی اقدام" نامی مقابلے میں اپنی تصویر دکھا رہی ہے۔ [حنیف اللہ]

image

شرکا کے کے ایف کی طرف سے پشاور میں 31 جولائی 2016 کو منعقد کی جانے والی کانفرنس "تکثیریت اور مل جل کر رہنا" نامی کانفرنس میں شرکت کر رہے ہیں۔ [حنیف اللہ]

یو ایس آئی پی نے ایک بیان میں کہا کہ اس مقابلے کا مقصد امن کے قیام کے ایسے انتہائی اہم اقدامات کی تعداد اور وسعت کو بڑھانا ہے جن کی قیادت کرنے والے اور جن کا مرکزِ نگاہ نوجوان ہیں۔

کے کے ایف کو خیبر ڈسٹرکٹ میں نوجوان سول راہنماوں نے 2012 میں علاقے میں انتہاپسندی اور طالبان کے عروج میں آنے کے ردعمل کے طور پر قائم کیا تھا۔

یو ایس آئی پی نے کہا کہ "ہزاروں رضاکاروں کی توانائیوں کے ذریعے کے کے ایف پاکستان کے قومی نصاب میں امن کی تعلیم کو شامل کرنے کے لیے کام کر رہی ہے"۔

اس نے مزید کہا کہ "یو ایس آئی پی کی گرانٹ سے ایک ایسے پروگرام کو امداد ملے گی جو خیبر ڈسٹرکٹ، جو افغان سرحد پر واقعہ اہم اسٹریجک علاقہ ہے، جہاں انتہاپسند تنظیمیں نوجوانوں کو بھرتی کرتی ہیں، اس انضمام کو حاصل کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔ اس نصاب سے نوجوانوں میں تنقیدی سوچ بڑھے گی اور اس کے نتیجہ میں اس متشدد حکایات کے اثرات کو کم کرنے میں مدد ملے گی جن کا استعمال یہ گروہ کرتے ہیں۔

کے کے ایف کے چیرمین محمد فاروق آفریدی نے کہا کہ کے کے ایف کمزور نوجوانوں کے لیے موجود تعلیمی خلا کو پُر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے انیس نومبر کو کہا کہ "پاکستان کے قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف ایک دہائی تک جاری رہنے والی جنگ نے ثابت کیا کہ ہے ہمارے تعلیمی ادارے محدود تعلیم فراہم کر رہے ہیں، جدید تعلیم پر بہت کم یا نہ ہونے کے برابر زور ہے اور تنقیدی سوچ کو پیدا کرنے پر کوئی توجہ نہیں ہے"۔

علاوہ ازیں، تعلیم میں "تنازعات کو حل کرنے پر مکالمے اور اعتماد قائم کرنے" کی کمی ہے، آزادیِ اظہار کی بہت محددو آزادی اور کثرتیت اور مل جل کر رہنے کی کوئی تعلیم نہیں ہے۔ اس سے طلباء انتہاپسندی اور بنیاد پرست بیانیے کا نشانہ بن جاتے ہیں"۔

آفریدی نے کہا کہ "امن حاصل کرنے، نوجوانوں کو تنقیدی طور پر سوچنے کے لیے تیار کرنے، ان کے اعتماد کو بڑھانے اور امن کے بارے میں انہیں تعلیم دینے کے لیے ہمیں وسیع اور جامع تربیتی پروگرام متعارف کروانے کی ضرورت ہے جو اس خلا کو پر کر سکے"۔

انہوں نے کہا کہ اس قدم کا مقصد ہائی اسکول کے طلباء کو بنیاد پرست بیانیے کا تنقیدی سوچ اور امن کی تعلیم کے ذریعے مقابلہ کرنے کے قابلبنانا ہے۔ کے کے ایف اس منصوبے کے تحت آٹھویں، نویں اور دسویں کلاس کے طلباء کو ایک ہفتے کا کورس کروائے گا۔

اس قدم کو باجوڑ ضلعی تعلیمی دفتر کی حمایت حاصل ہے۔ آفریدی نے کہا کہ کے کے ایف اس منصوبے کے نفاذ کے لیے تعلیمی دفتر کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ دس مختلف اسکولوں سے تعلق رکھنے والے 30 نوجوان طلباء کو تربیت فراہم کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ طالبات، خیبر ڈسٹرکٹ میں ہدف بنائے جانے والے گروہ کا 30 فیصد ہوں گی۔

امن کے فروغ کی تقریبات

کے کے ایف مسلسل ایسی تقریبات منعقد کرتا ہے جن میں امن کی ضرورت پر زور دیا جاتا ہے۔

ستمبر میں، اس نے 2019 کے امن کے عالمی دن کے موقع پر، تصویر کشی کا مقابلہ منعقد کیا جس کا عنوان "امن کے لیے ماحولیاتی اقدام" تھا۔ اسے خیبر ڈسٹرکٹ کے، خیبر پبلک اسکول اور کالج باڑا میں منعقد کیا گیا تھا۔

اسکولوں کے تقریبا بیس طلباء نے تصویر کشی کے اس مقابلے میں شرکت کی جس میں انہوں نے امن اور ماحولیاتی تبدیلی کے بارے میں خاکے بنائے۔

کے کے ایف کے جنرل سیکریٹری احمد شاہ نے کہا کہ "اس تقریب کا مقصد امن کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور علاقوں میں تنازعات اور تشدد کی حوصلہ شکنی کرنا تھا۔ یہاں ہمارے علاقے میں، شہریوں کو متشدد انتہاپسندی کے باعث بہت مصائب کا سامنا کرنا پڑا ہے اور ہم بنیاد پرستانہ بیانیے کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے نوجوانوں کو امن کے اقدامات میں مصروف کر رہے ہیں"۔

خیبر پبلک اسکول اور کالج باڑا کے پرنسپل اصغر خان نے کہا کہ "ہمارے نوجوانوں میں صلاحیت موجود ہے کہ اگر انہیں مناسب پلیٹ فارم دیا جائے تو وہ امن اور ترقی کے عمل میں کردار ادا کر سکتے ہیں"۔

کے کے ایس نے جولائی 2016 میں سابقہ وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں اور بزرگوں کے لیے"اجتماعیت اور مل جل کر رہنے" کے بارے میں کانفرنس کا انعقاد کیا۔ مسیحی، مسلمان، ہندو اور سکھ برادریوں سے تعلق رکھنے والوں نے پشاور میں ہونے والے اجتماع میں شرکت کی۔

کے کے ایف کے چیرمین آفریدی نے کہا کہ دنیا عالمی گاوں ہے جہاں ہر کوئی ایک دوسرے پر انحصار کرتا ہے اور جہاں کسی بھی مذہبی گروہ کے لیے الگ تھلگ ہو کر رہنا ممکن نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ "ہم تنازعہ سے متاثرہ علاقوں میں ایک بہتر معاشرہ قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم اتحاد اور ایک ایسا معاشرہ چاہتے ہیں جہاں ہر کوئی خود کو آزاد محسوس کرے اور اپنے خیالات کا اظہار کر سکے"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
0
نہیں
تبصرے 2
تبصرہ کی پالیسی
Captcha

بہت خوب

جواب

پاک فوج میں شامل ہوں

جواب