تعلیم

تصاویر میں: کے پی کے نوجوان آئی ٹی ماہرین تنقیدی سوچ کی اہم صلاحیتوں کی تعمیر کر رہے ہیں

دانش یوسف زئی

یہاں 13 نومبر کی تصویر میں نظر آنے والے، اسد خان اور واجد علی جو دونوں گورنمنٹ شہید شہزاد اعجاز ہائی اسکول پشاور میں آٹھویں جماعت کے طالبِ علم ہیں، نے ای اے پی کے حصہ کے طور پر فٹ بال کی ایک کھیل بنائی ہے۔ [دانش یوسف زئی]

نوڈیہ پیان ، پشاور کے گورنمنٹ ہائر اسکینڈری اسکول میں ساتویں جماعت کے طلباء 14 نومبر کو کمپیوٹر کی بنیادی صلاحیتیوں کے بارے میں ایک کلاس میں شریک ہیں۔ [دانش یوسف زئی]

وزیر باغ پشاور کے گورنمنٹ گرلز ہائر اسکینڈری اسکول میں، 13 نومبر کو اسکول کی بچیاں کمپیوٹر پروگرام بنا رہی ہیں۔ [دانش یوسف زئی]

پشاور کے شہید شہزاد اعجاز ہائی اسکول میں 14 نومبر کو، آٹھویں جماعت کا طالبِ علم حسیب خان (دائیں) ایک کمپیوٹر پر کام کر رہا ہے۔ اگرچہ اس نے ای اے اپی شروع کرنے سے پہلے، کبھی کمپیوٹر کو ہاتھ نہیں لگایا تھا مگر اس کا کہنا ہے کہ "اب وہ ویب سائٹس اور کمپیوٹر گیمز بنا سکتا ہے"۔ [دانش یوسف زئی]

پشاور کے گورنمنٹ شہید شہزاد اعجاز ہائی اسکول میں 13 نومبر کو ایک طالبِ علم اپنا پراجیکٹ جو کہ "کیٹ رن" نامی گیم ہے، اپنی کلاس کے سامنے پیش کر رہا ہے۔ [دانش یوسف زئی]

پشاور کے گورنمنٹ شہید شہزاد اعجاز ہائی اسکول میں 14 نومبر کو اسکول کی طالبات ایک ایپ پر کام کر رہی ہیں۔ [دانش یوسف زئی]

ساتویں جماعت کی طالبہ، وجیہہ خان، 14 نومبر کو پشاور کے گورنمنٹ شہید شہزاد اعجاز ہائی اسکول میں اپنی کمپیوٹر گیم کی کوڈنگ کی وضاحت کر رہی ہیں۔ انہوں نے دو مہینوں میں بھول بھلیوں کی ایک گیم بنائی ہے۔ [دانش یوسف زئی]

گورنمنٹ ہائی اسکول سفید ڈھیری میں چھٹی جماعت کے طلباء 14 نومبر کو ایک گیم پر کام کر رہے ہیں۔ [دانش یوسف زئی]

پشاور -- خیبر پختونخواہ (کے پی) میں بچے، انفرمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کے نصاب کے ذریعے تنقیدی سوچ کی اہم صلاحیتوں کو سیکھ رہے ہیں جو انہیں انتہاپسندی سے بچنے اور متشدد سرگرمیوں سے بچنے میں مدد فراہم کر سکتا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان میں تعلیم کا پرائمری نظام اکثر اختراع کے اہم عناصر کو نظر انداز کر دیتا ہے جس میں بنیادی انفرمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی) اور دوسرے ایسے دائرہ کار شامل ہیں جو تنقیدی سوچ اور تخلیق کو بڑھانے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

کے پی کی حکومت نے 2017 میں "ارلی ایچ پروگرامنگ اینڈ آئی ٹی ایسینشیل فار چلڈرن آف گورنمنٹ اسکولز" کا آغاز کیا تھا جس کا مقصد چھٹی سے آٹھویں کے طلباء میں تخلیقی سوچ اور اختراع کے ذریعے امن کو نشوو نما دینا تھا۔

ای اے پی کے پراجیکٹ منیجر ذیشان مظہر نے کہا کہ "ای اے پی کے پہلے مرحلے میں جو جنوری 2017 سے دسمبر 2017 تک جاری رہا، 3،000 طلباء اور 13 اضلاع سے تعلق رکھنے والے 57 گورنمنٹ اسکولوں کے مُتعلّقہ آئی ٹی اساتذہ کو ای اے پی کے نصاب پر تربیت فراہم کی گئی"۔

image

آئی ٹی کے ایک استاد، محمد قادر، 13 نومبر کو گورنمنٹ شہید شہزاد اعجاز ہائی اسکول پشاور میں ای اے پی کے طلباء کو مسائل حل کرنے کے بارے میں لیکچر دے رہے ہیں۔ [دانش یوسف زئی]

انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے دوسرے مرحلہ -2019-2018، میں اس قدم کو 14 اضلاع کے 300 سرکاری اسکولوں تک بڑھا دیا گیا جہاں متعلقہ اسکولوں کے 17،000 طلباء اور آئی ٹی کے اساتذہ نے ای اے پی کے نصاب پر تربیت حاصل کی۔

نوجوانوں کے لیے اعلی درجے کی مہارتیں

مظہر نے کہا کہ "پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں، بڑے پیمانے پر پھیلے ہوئی انتہاپسندی کو حل کرنے اور امن کو قائم رکھنے کے لیے، نوجوان نسل کو مارکیٹ کی اہم جدید اور انتہائی مانگ رکھنے والی صلاحیتوں جیسے کہ کمپیوٹر پروگرامنگ کے بارے میں تربیت دینے کی ضرورت ہے"۔

ای اے پی کے پراجیکٹ کوارڈینیٹر محمد یوسف نے کہا کہ ای اے پی کا نصاب اساتذہ اور آئی ٹی کے ماہرین کے مشورے سے بنایا گیا ہے۔

جدید نصاب نے طلباء کو موبائل فون اپلیکیشنز، اینیمیشن اور گیمز بنانے کے قابل بنایا ہے۔

یوسف نے کہا کہ "ای اے پی کے طلباء نے کمپیوٹر پراجیکٹ ایگزیبیشن اینڈ کمپیٹیشن (کومپیک) 2019، جو کہ ڈپارٹمنٹ آف کمپیوٹر انجنیرئنگ نسٹ (نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی) اسلام آباد کی طرف سے منعقد کی جانے والی سالانہ تقریب ہے، میں سارے پاکستان میں ارلی ایج پروگرامنگ کی کیٹیگری میں پہلی تین پوزیشنز حاصل کر کے تاریخ رقم کر دی۔

انہوں نے بتایا کہ ای اے پی کے طلباء نے پاشا (پاکستان سافٹ ویئر ہاوسز ایسوسی ایشن فار آئی ٹی اینڈ آئی ٹی ای ایس) کے آئی سی ٹی ایوارڈز 2019 جو کہ آئی سی ٹی میں اعلی ترین کارکردگی دکھانے والوں کو انعام دیتا ہے، میں پہلی اور دوسری پوزیشن حاصل کی۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 1

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500

حکومتِ کے پی کا وقعی حیرت انگیز اقدام ۔۔۔ برائے مہربانی اس منصوبے کو انصمام شدہ اضلاع تک توسیع دینے کا مسئلہ وزیرِ تعلیم کے سامنے رکھیں

جواب