تعلیم

ممد گٹ کالج: قبائلی باشندوں کے لیے امید کی ایک کرن

دانش یوسف زئی

image

خیبر پختونخواہ کے وزیرِاعلی محمود خان 2 نومبر کو ممد گٹ کیڈٹ کالج کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے ہیں۔ [دانش یوسف زئی]

یہ کالج جو کہ 77 ایکڑوں پر پھیلا ہوا ہے، میں 900 طلباء کی گنجائش ہے جس میں سے 400 کو رہائش فراہم کی جا سکتی ہے۔ اس کی تعمیر پر تقریبا 984 ملین روپوں (6.2 ملین ڈالر) کا خرچہ آیا ہے اور اس دو سال سے کم وقت میں مکمل کر لیا گیا ہے۔ اس میں ایک انتہائی اعلی معیار کی لائبریری بھی بنائی گئی ہے جس میں مختلف مضامین پر 11,000 سے زیادہ کتابیں موجود ہیں۔

پشاور -- مہمند ڈسٹرکٹ میں نیا قائم شدہ کیڈٹ کالج مقامی شہریوں کے لیے بہت بڑی امیدوں کا مرکز ہے۔

ممد گٹ کالج، جسے پاکستانی مسلح افواج کے تعاون سے قائم کیا گیا ہے، کا افتتاح خیبرپختونخواہ (کے پی) کے وزیراعلی محمود خان نے 2 نومبر کو افغانستان کے ساتھ سرحد کے قریب کیا۔

آٹھویں جماعت کے لیے کلاسوں کا آغاز ہو گیا ہے جبکہ اسکینڈری کلاسوں کا آغاز اگلے سال مارچ سے ہو گا۔ اس کالج میں آٹھویں جماعت سے بارہویں جماعت تک تعلیم دی جاتی ہے۔

image

خیبر پختونخواہ کے وزیرِ اعلی محمود خان کو 2 نومبر کو نئے کیڈٹ کالج میں کالج کے بارے میں بریفنگ دی جا رہی ہے۔ [عالمگیر خان]

image

مہمند ڈسٹرکٹ میں نیا قائم ہونے والا کیڈٹ کالج 2 نومبر کو دکھایا گیا ہے۔ [عالمگیر خان]

ابھی تک اس کالج میں 62 طلباء کو داخلہ دیا گیا ہے۔

کالج کا ہم نام گاؤں، سرحد کے ساتھ واقع ہونے اورماضی میں تعلیم کی سہولیات نہ ہونے کے باعثمختلف عسکریت پسند گروہوں کا ٹھکانہ رہا ہے۔

تاہم، اس وقت سے عسکریت پسندوں کے خلاف کامیاب فوجی مہمات اور 2018 میں قبائلی اضلاع کا، کے پی صوبہ کے ساتھ انضمام، نئی ترقیاتی کوششوں کی ایک لہر لے کر آیا ہے۔

کالج کے وائس پرنسپل اختر عزیز نے کہا کہ ماضی میں، کوئی بھی وقت بے وقت ممد گٹ جانے کی ہمت نہیں کرتا تھا کیونکہ ایسا کرنا خطرناک تھا۔

انہوں نے کہا کہ علاقے میں کیڈٹ کالج کا قائم ہونا، قبائلی افراد کے لیے امن کے قیام اور ایک ترقی یافتہ مستقبل کا اشارہ دیتا ہے۔

عزیز کے مطابق، ہر کلاس میں 20 نشستوں کا ایک خصوصی کوٹہ باجوڑ اور مہمند ڈسٹرکٹس کے طلباء، 10 کو خیبر ڈسٹرکٹ سے تعلق رکھنے والوں، شہیدوں کے بچوں کے لیے 10 اور چار کو صوبہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والوں کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ دیگر 20 نشستوں کو ملک بھر سے میرٹ پر آنے والے طلباء کے لیے رکھا گیا ہے۔

نئے مواقع

مہمند ڈسٹرکٹ سے تعلق رکھنے والے مقامی شہری جمیل خان نے کہا کہ حکام نے اس سے پہلے قبائلی پٹی کو ترقیاتی عمل سے باہر رکھا تھا اور اسے صرف پاکستان اور افغانستان کے درمیان بفر زون کے طور پر استعمال کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں ہر جنگ کے ساتھ، پاکستان کے سرحدی قبائلی علاقے نہ صرف امن سے محروم ہوئے بلکہ انہیں مالی اور سماجی نقصان بھی اٹھانے پڑے۔

خان نے کہا کہ "روزگار، تعلیم اور کاروبار کے مواقع کم ہونے کے باعث، نوجوان منشیات یا کسی دہشت گرد گروہ میں شامل ہونے کی طرف مائل ہو جاتے۔ کیڈٹ کالج کے قیام نے نہ صرف امن کی واپسی کا اشارہ دیا ہے بلکہ علاقے کو چھوٹی سرمایہ کاری اور کاروباروں کے قیام کے لیے بھی کھول دیا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی طرف سے شروع کی جانے والی ترقیاتی سرگرمیاںقبائلی ارکان کی سوچ کو بدل رہی ہیں جو اب ایک ترقی یافتہ مستقبل کی طرف دیکھ رہے ہیں اور وہ اپنے بچوں کو تعلیم، صحت اور کاروبار کے مواقع کے لحاظ سے آباد اضلاع کے شہریوں کے برابر دیکھا چاہتے ہیں۔

مہمند سے تعلق رکھنے والے صحافی شاہ نواز نے کہا کہ ممد گٹ کالج کے قیام سے قبل، باجوڑ اور مہمند سے تعلق رکھنے والے طلباء کیڈٹ کالج میں ہائی اسکول کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے رزمک، کوئٹہ یہاں تک کہ صوبہ پنجاب تک جاتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ داخلہ مشکل تھا اور بہت سے طلباء گھر سے دور تعلیم حاصل کرنے سے متعلقہ اخرجات کے باعث اپنے علاقے سے باہر تعلیم حاصل نہیں کر سکتے تھے۔

نواز نے کہا کہ "اب مہمند، باجوڑ اور خیبر کے لیے مختص نشستوں کے باعث بہت قابلِ رسائی اور سستا ہو گیا ہے۔ کیڈٹ کالج میں تعلیم حاصل کرنا روایتی طریقے سے مختلف ہے کیونکہ یہ طلباء کو عمارت کے اندر مکمل سہولیات فراہم کرتا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ امن کی بحالی نے قبائلی اضلاع کے کے پی کے ساتھ انضمام سے مل کر قبائلی نوجوانوں کے لیے ترقی اور مواقع کا ایک نیا دور کھول دیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اب وہ غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے اور عسکریت پسند گروہوں میں شرکت کی بجائے ملک کی ترقی میں حصہ لے سکتے ہیں۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرہ
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500