پاکستان میں افغانیوں کی وطن واپسی کا دوبارہ آغاز

اے ایف پی

اسلام آباد — پاکستان نے ماضی میں زبردستی کرنے کے الزامات کے باوجود پیر (3 اپریل) کو افغان پناہ گزینوں کی بڑے پیمانے پر وطن واپسی کو دوبارہ شروع کر دیا۔

یہ آپریشن جس میں 2016 میں 380,000 درج شدہ پناہ گزینوں کو پاکستان سے واپس بھیج دیا گیا، دسمبر میں سردیوں کے عمومی توقف کے لیے روک دیا گیا تھا۔

پناہ گزینوں کے امدادی ادارے کی خاتون ترجمان دنیا اسلم خان نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا، ”درج شدہ افغان پناہ گزینوں کے لیے یو این ایچ سی آر کا رضاکارانہ طور پر وطن واپسی کا پروگرام آج دوبارہ شروع ہوا۔“

انہوں نے ”دنیا بھر میں فلاحِ انسانی کے آپریشنز کو درپیش مالی قیود“ کا حوالہ دیتے ہوئے تصدیق کی کہ اقومِ متحدہ نے واپس لوٹنے والوں کے لیے نقد گرانٹ 400 ڈالر (40,940 روپے) سے کم کر کے 200 ڈالر (20,970 روپے) کر دی ہے۔

اقومِ متحدہ نے کہا کہ 2016 میں یہ گرانٹ دوگنا کر دی گئی تھی جو کہ گزشتہ برس جولائی کے بعد افغانستان کے ساتھ تمام تر سرحد پر وطن واپس لوٹنے والوں میں فوری اضافہ کا ایک عنصر بن گیا۔

لیکن پناہ گزینوں، جن میں سے متعدد نے کئی دہائیاں قبل افغانستان چھوڑا، پر پاکستان کے کریک ڈاؤن کے خوف نے بھی کردار ادا کیا۔

ہیومن رائیٹس واچ نے فروری میں ایک تنقیدی رپورٹ میں پاکستان کو زبردست ملک سے نکالے جانے، بڑے پیمانے پر وطن واپس بھیجے جانے کے دوران دھمکیوں اور بدسلوکی اور اقوامِ متحدہ کو ملی بھگت کے لیے موردِالزام ٹھہرایا۔

اقوامِ متحدہ نے قبل ازاں تنقید کو مسترد کیا۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرہ
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500