https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/10/03/feature-02
| معاشرہ

تصاویر میں: امن کی بحالی کے بعد پشاور کے ریستورانوں میں لوگوں کا ہجوم

عالمگیر خان

image

یکم ستمبر کو پشاور میں ریستورانوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔ [عالمگیر خان]

image

یکم ستمبر کو ایک گاہک، پشاور میں ایک ریستوران پر ایک پکوان کا آرڈر دے رہا ہے۔ [عالمگیر خان]

image

پشاور میں ریستوران کا ایک ملازم، یکم ستمبر کو تکہ کڑاہی بنانے کے لیے گوشت کاٹ رہا ہے۔ [عالمگیر خان]

image

ریستوران کا ایک ملازم یکم ستمبر کو پشاور میں تکہ کڑاہی بنا رہا ہے۔ [عالمگیر خان]

image

یکم ستمبر کو پشاور کے ایک ریستوران میں تکہ کڑاہی کو دیکھا جا سکتا ہے۔ [عالمگیر خان]

image

یکم ستمبر کو پشاور میں ایک گرل پر تکہ کو دیکھا جا سکتا ہے۔ [عالمگیر خان]

image

یکم ستمبر کو کوئلے کی گرل پر تکہ پکایا جا رہا ہے۔ [عالمگیر خان]

image

یکم ستمبر کو ریستوران کا ایک ملازم، تکے کو برتن میں ڈال رہا ہے۔ [عالمگیر خان]

image

یکم ستمبر کو پشاور کے ایک ریستوران میں گاہک تکہ کڑاہی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ [عالمگیر خان]

image

یکم ستمبر کو پشاور میں ایک روایتی تکہ ریستوران دیکھا جا سکتا ہے۔ [عالمگیر خان]

پشاور -- پشاور کا کھانے پینے کا بازار، نمک منڈی نہ صرف مقامی گاہکوں کے لیے کشش رکھتا ہے بلکہ ملک بھر اور بیرونِ ملک سے لوگ، منفرد ذائقے کے باعث یہاں کھنچے آتے ہیں۔

اس کی مشہور ترین ڈش تکہ کڑاہی کہلاتی ہے اور یہ پکوان بکرے یا دنبے کے گوشت سے بنتا ہے۔

امن کی بحالی اور عسکریت پسندوں کو شکست دیے جانے کے بعد، گاہکوں کی بڑی تعداد اب ایسے ریستورانوں میں آتی ہے اوررات کو دیر گئے تک وہاں رہتی ہے۔

image

پشاور میں ایک دکاندار، یکم ستمبر کو گوشت کا ایک مشہور پکوان، تکہ کڑاہی تیار کر رہا ہے۔ [عالمگیر خان]

مردان کے ایک شہری، وقار احمد، نے یکم ستمبر کو پشاور کے ایک ریستوران میں کہا کہ "ذائقہ منفرد ہے اور یہ باقی سارے ملک میں ملنے والے تیز مرچ مسالوں کے کھانوں سے مختلف ہے"۔

پشاور کے ریستوران چرسی تکہ کے مالک، ناصر خان ان دونوں گاہکوں کی بڑی تعداد کے آنے پر بہت خوش ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "یہ بہت منافع بخش کاروبار ہے۔ ہر روز ہم سے دنبوں کا گوشت پکاتے ہیں۔ ہم پکوان کو بنانے کے لیے صرف نمک اور دنبے کی چربی استعمال کرتے ہیں"۔

خان نے مزید کہا کہ ہر رات ہزاروں گاہک ان کے ریستوران میں کھانا کھاتے ہیں۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
5
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha