https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/07/17/feature-01
سلامتی |

پاکستانی حکام نے دہشت گردی کے لیے سرمایہ کاری پر حافظ سید کو گرفتار کر لیا

عبدل ناصر خان

image

پاکستانی دہشت گرد تنظیم جماعت الدعوہ (جے یو ڈی) کے راہنما حافظ سید (بائیں سے دوسرے) گزشتہ سال 21 جولائی کو اسلام آباد میں انتخابی مہم کی میٹنگ کے لیے آتے ہوئے، حامیوں کی طرف ہاتھ ہلا رہے ہیں۔ [عامر قریشی/ اے ایف پی]

لاہور -- پنجاب پولیس کے انسدادِ دہشت گردی کے شعبہ (سی ٹی ڈی) نے بدھ (17 جولائی) کو، کالعدم عسکری گروہ لشکرِ طیبہ (ایل ای ٹی) اور اس سے متعلق سیاسی جماعت لشکرِ طیبہ (ایل ای ٹی) کے راہنما حافظ سید کو مبینہ طور پر دہشت گردی کے لیے سرمایہ فراہم کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا۔

ایڈیشنل انسپکٹر جنرل سی ٹی ڈی پنجاب رائے طاہر نے ایک بیان میں کہا کہ پولیس نے سید اور کئی دوسرے ساتھیوں کو اس وقت گرفتار کیا جب وہ گوجرانوالہ کی ایک عدالت میں ایک دوسرے مقدمے کے سلسلے میں ضمانت داخل کروانے کے لیے جا رہے تھے۔

طاہر نے کہا کہ انہیں دہشت گردی کے لیے سرمایہ فراہم کرنے کے 23 مختلف مقدمات پر گرفتار کیا گیا ہے۔

image

وڈیو سے لیے گئے ایک اسکرین شاٹ میں حکام 17 جولائی کو حافظ سید کو گوجرانوالہ کی عدالت میں لاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

ایک جج نے سید کو عدالتی ریمانڈ پر سات دنوں کے لیے جیل میں رکھنے کا حکم دیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "مقدمات لاہور، گوجرانوالہ اور ملتان میں سی ٹی ڈی پولیس اسٹیشنوں میں جولائی کے پہلے ہفتے میں درج کیے گئے تھے"۔

انہوں نے کہا کہ پولیس نے سید، اس کے بھائی حافظ مسعود اور ایل ای ٹی کے دوسرے راہنماؤں، جن میں عبدل رحمان مکی، امیر حمزہ، محمد یحیی عزیز، ملک ظفر اقابل اور دیگر شامل ہیں، کے خلاف دہشت گردی کے لیے سرمایہ فراہم کرنے کے مقدمات دائر کیے ہیں۔

پہلی معلوماتی رپورٹ (ایف آئی آر) کے مطابق، ملزمان نے "انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت، دہشت گردی کے لیے سرمایہ کاری اور منی لانڈرنگ کے کئی جرم کیے ہیں"۔

ایف آئی آر میں پانچ نمائشی خیراتی اداروں پر دہشت گردی کے لیے سرمایہ فراہم کرنے کا الزام لگایا گیا ہے -- دعوت ول ارشاد ٹرسٹ، معاذ بن جبل ٹرسٹ، ال انفعال ٹرسٹ، المدینہ فاونڈیشن ٹرسٹ اور الحمد ٹرسٹ۔

ایف اے ٹی ایف عملی قدم چاہتا ہے

اے ایف پی نے خبر دی ہے کہ سید کے خلاف یہ قدم اس لیے اٹھایا گیا ہے کیونکہ پاکستان کو مالیاتی ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) جو کہ پیرس میں قائم منی لانڈرنگ کے خلاف نگران ادارہ ہے -- کی طرف سے دہشت گردی کے لیے سرمایہ کاری سے لڑنے میں ناکافی کام کرنےپر تنقید کا سامنا ہے"۔

ایف اے ٹی ایف نے گزشتہ سال ملک کو نگرانی کی ایک فہرست میں شامل کر دیا تھا اور آنے والے مہینوں میں وہ اس کے مقدر کے بارے میں بتائے گا۔

لاہور سے تعلق رکھنے والے سیکورٹی کے تجزیہ نگار شہریار وڑائچ نے کہا کہ ان گرفتاریوں کا تعلق "ایف اے ٹی ایف کی طرف سے ملک اور اس کی سرحدوں کے پار، دہشت گردی کے لیے سرمایہ کاری میں ملوث افراد کے خلاف قدم اٹھانے کے بارے میں مستقل دباؤ سے ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "پاکستان اس دفعہ، ایران اور شمالی کوریا کے ساتھ، ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں شامل کیے جانے کے امکان سے بچنے کی مکمل کوشش کر رہا ہے"۔

پشاور میں بی بی سی کے ایک نمائںدے رفعت اللہ اورکزئی نے کہا کہ انڈیا اور امریکہ نے دہشت گردی کی مختلف سرگرمیوں، جن میں دہشت گردی کے لیے سرمایہ کاری بھی شامل ہے، سے تعلق پر سید کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ گرفتاری پاکستان کی طرف سے دہشت گردی کے خلاف جنگ اور دہشت گردی کے لیے سرمایہ کاری کے خلاف کوششوں کو تیز کرنے کے سلسلے میں، ایف اے ٹی ایف کی شرائط پر پورا اترنے کا حصہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ "میرا خیال ہے کہ پاکستان دنیا کو یہ بھی دکھانا چاہتا ہے کہ اس نے دہشت گردی کے خلاف کوششوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
5
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha