https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/06/18/feature-01
دہشتگردی

وزارت کے مطابق پاکستان دہشت گردی کی مالی اعانت سے متعلقہ ایف اے ٹی ایف کی زیادہ تر شرائط پر پورا اترتا ہے

ضیاء الرحمان

image

کراچی پولیس 14 جون کو ایک گاڑی کی ڈگی کی تلاشی لے رہی ہے۔ [ضیاء الرحمان]

اسلام آباد -- پاکستان کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ ملک نے فنانشل ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی طرف سے، لگائی جانے والی ان شرائط میں سے اکثر کو پورا کر دیا ہے جن کا مقصد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی اعانت سے جنگ کرنا تھا۔

پیرس سے تعلق رکھنے والی بین الاحکومتی تنظیم نے جون 2018 میں پاکستان کو منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی اعانت کو روکنے کے لیے اقدامات کرنے میں ناکامی پر، باضابطہ طور پر اپنی گرے لسٹ میں ڈال دیا تھا۔

ایف اے ٹی ایس کی شرائط کو پورا کرنے کے لیے اسلام آباد کو دی جانے والی ڈیڈ لائن میں ستمبر تک توسیع کر دی گئی ہے۔

10 جون کو، وزیرِ داخلہ اعجاز شاہ نے وزیراعظم عمران خان کو 20 ماہ کی ایک پیشرفت رپورٹ پیش کی جس میں کہا گیا کہ حکام نے ایف اے ٹی ایف کی سفارشات پر پورا اترنے کے لیے، بہت سی پہل کاریوں کو مکمل کیا ہے۔

image

کراچی میں 10 جون کو ایک خیراتی کارکن کرونا وائرس سے متاثر ہونے والے شہریوں کے لیے راشن کا انتظام کر رہا ہے۔ وزارتِ داخلہ نے 13 گروہوں پر پابندی لگائی ہے جس میں کالعدم گروہوں سے تعلق رکھنے والے 11 خیراتی ادارے بھی شامل ہیں۔ [ضیاء الرحمان]

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ "تفویض کردہ کاموں کے چیلنجوں اور داخلی سیکورٹی سے متعلقہ تشویش کے باوجود، وزارت ایف اے ٹی ایف کی طرف سے لگائی جانے والی شرائط کی اکثریت پر پورا اترنے میں کامیاب رہی ہے"۔

اس کوشش کے حصہ کے طور پر، وزارتِ داخلہ نے مارچ اور مئی 2019 میں اٹھائے جانے والے اقدامات کے ایک سلسلے کے تحت، انتہاپسندوں سے تعلق رکھنے والے 11 خیراتی اداروں کو غیر قانونی قرار دیا۔

مارچ 2019 میں، وزارت نے جماعت الادعوہ (جے یو ڈی) اور فلاحِ انسانیت فاونڈیشن (ایف آئی ایف) پر پابندی لگائی۔ دونوں لشکرِ طیبہ (ایل ای ٹی) کے محاذ تھے جو کہ 2002 سے غیر قانونی قرار دی جانے والی تنظیم ہے۔

مئی 2019 میں، وزارت نے جے یو ڈی اور ایف آئی ایف سے تعلق رکھنے والے گروہوں: الانفال ٹرسٹ، ادارہِ خدمتِ خلق، دعوت وال ارشاد، احمد ٹرسٹ، مساجد و خیراتی ٹرسٹ، المدینہ فاونڈیشن ٹرسٹ اور معاذ بن جبال ایجوکیشن ٹرسٹ (جے یو ڈی سے وابستہ) اور اس کے ساتھ ہی الفضل فاونڈیشن ٹرسٹ اور العصر فاونڈیشن (ایف آئی ایف سے وابستہ) کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق، حکام نے کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والی 976 املاک کو منجمند کیا اور گروہوں کی طرف سے خیراتی اداروں کے بھید میں استعمال کیے جانے والے اسکولوں، کالجوں، ہسپتالوں، ڈسپنسریوں اور ایمبولینسوں کو قبضے میں لیا۔

علاوہ ازیں، پاکستانی عدالتوں نے دہشت گردی کی مالی اعانت اور منی لانڈرنگ میں ملوث 200 سے زیادہ افراد اور حامیوں کو سزا سنائی اور سہولیات پر قبصہ کر کے 2.4 بلین روپوں (14.5 ملین ڈالر) سے زیادہ کی رقم کو بازیاب کیا ہے۔

قانون سازوں نے 1997 کے انسداد دہشت گردی ایکٹ میں ترمیم کی ہے تاکہ اقوامِ متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی قرارداد اور کے نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے جو القاعدہ اور دیگر دہشت گرد گروہوں پر پابندیوں کو شامل کرتی ہیں۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وزارتِ داخلہ نے تمام صوبوں میں محفوظ خیراتی قانون کو متعارف کروایا ہے تاکہ کالعدم گروہوں سے تعلق رکھنے والے خیراتی اداروں کے ابھرنے کو روکا جا سکے جو اسلام کے مقدس مہینوں میں پیسے اکٹھے کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

کریک ڈاؤن اور سزائیں جاری

حکومت نے دہشت گردی کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کے خاتمے کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ایسے تازہ ترین قدم میں، جے یو ڈی کے چار راہنماؤں کو جمعرات (18 جون) کو لاہور میں دہشت گردی کی مالی معاونت پر سزا دی گئی۔

انسدادِ دہشت گردی کی ایک عدالت نے ظفر اقبال اور یحیی عزیز کو پانچ پانچ سال قید کی سزا سنائی جبکہ عبدالرحمان مکی اور عباس سیلم کو ایک ایک سال قید کی سزا سنائی گئی۔

پنجاب پولیس کے انسدادِ دہشت گردی کے شعبہ (سی ٹی ڈی) کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل رائے طاہر نے کہا کہ "انہیں سزاؤں کا دیا جانا، پاکستان میں دہشت گردی کی مالی معاونت کی نگرانی کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا"۔

امریکہ کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ بیورو آف ساوتھ اینڈ سینٹرل ایشین افیرز نے 12 جون کو ایک ٹوئٹ میں، ان افراد کو سزا دیے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کا مقابلہ کرنے کے لیے بین الاقوامی شرائط کو پورا کرنے کی طرف یہ ایک مثبت قدم ہے"۔

اس سال کے آغاز میں، ایک اور عدالت نےجے یو ڈی کے سربراہ حافظ سیدکو، دہشت گردی کے لیے مالی معاونت اور ایک کالعدم گروہ سے تعلق رکھنے پر، ساڑھے پانچ سال قید کی سزا سنائی تھی۔

پنجاب پولیس سی ٹی ڈی نے 2019 میں سید اور جے یو ڈی کے دیگر راہنماؤں کے خلاف، لاہور، گوجرانوالہ، ملتان، فیصل آباد، ساہیوال اور سرگودھا بھر میں 23 مقدمات درج کیے تھے۔ اس نے ان پر مدرسوں اور مساجد کو دہشت گردی کو مالی معاونت فراہم کرنے کے لیے استعمال کرنے کا الزام لگایا تھا۔

ایک سرگرم کارکن ابوبکر یوسف زئی جنہوں نے کراچی میں محفوظ خیرات کے منصوبوں پر کام کیا ہے، کہا کہ پاکستانی حکام کی طرف سے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کی حالیہ کوششوں سے نتائج حاصل ہو رہے ہیں۔

یوسف زئی نے کہا کہ "گزشتہ دو سالوں سے، ہم نے ایف آئی ایف اور عسکریت پسند گروہوں سے تعلق رکھنے والے دیگر خیراتی اداروں کو، اپنی تخریبی سرگرمیوں کے لیے عطیات اکٹھے کرتے نہیں دیکھا"۔

[لاہور سے عبدل ناصر خان نے اس رپورٹ کی تیاری میں حصہ لیا۔]

کیا حکومت پاکستان بھر میں سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کافی کام کر رہی ہے؟
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 حروف باقی ہیں (حد 1500 حروف)