http://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/03/07/feature-02
| سلامتی

کالعدم عسکریت پسند گروہوں کے خلاف کریک ڈاؤن میں جے یو ڈی اور جے ای ایم کے خلاف کاروائی

عبدالناصر خان

عمارت پر قبضہ لینے کے بعد 7 مارچ کو لاہور میں پنجاب پولیس جماعت الدعویٰ (جے یو ڈی) کے ہیڈکوارٹرز کی نگرانی کر رہی ہے۔ [عبد الناصر خان]

لاہور – کالعدم عسکریت پسند تنظیموں کے خلاف ایک جاری کریک ڈاؤن کے باوجود، تجزیہ کار جیشِ محمّد (جے ای ایم) اور جماعت الدعویٰ (جے یو ڈی) کے خلاف مزید کاروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

حکومتِ پاکستان نے پیر (4 مارچ) کو اقوامِ متحدہ سیکیورٹی کاؤنسل (یو این ایس سی) کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی تنظیموں سے منسلک اثاثہ جات کو ضبط کرنے اور کھاتوں کو منجمد کرنے کا اعلان کیا۔ صوبائی حکومتیں اسلام آباد کے احکامات پر عملدرامد کر رہی ہیں۔

وزارتِ داخلہ نے جمعرات (7 مارچ) کو ایک پریس ریلیز میں کہا کہ کریک ڈاؤن کے آغاز سے اب تک نفاذِ قانون کی ایجنسیوں نے ملک بھر سے کالعدم گروہوں کے 121 فعالیت پسندوں کو گرفتار کیا ہے۔

حکومتِ پنجاب نے 6 مارچ کو راولپنڈی میں جماعت الدعویٰ (جے یو ڈی) کی یہاں دکھائی گئی ایک مفت ڈسپنسری قبضے میں لے لی۔ [عبدالناصر خان]

وزارت نے کہا، "حکومت نے 182 مدرسوں، 34 سکولوں/کالجوں، 163 ڈسپنسریوں، پانچ ہسپتالوں، 184 ایمبولینسوں اور کالعدم تنظیموں کے آٹھ دفاتر کا انتظام سنبھال لیا ہے۔"

وزارت نے مزید کہا، "اب حکومت ان سکولوں/کالجوں، تنصیباتِ صحت اور مدرسوں کے امور سرانجام دے گی۔"

اسلام آباد میں 24 – نیوز کے بیورو چیف صغیر چودھری نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ نے اسلام آباد وفاقی علاقہٴ عملداری (آئی سی ٹی) میں عسکریت پسند یا کالعدم تنظیموں سے کچھ روابط رکھنے والے چند آئمہٴ مسجد کو بھی تبدیل کیا ہے۔

جے ای ایم پر کریک ڈاؤن

جے ای ایم کریک ڈاؤن میں ہدف بننے والے گروہوں میں سے ایک ہے۔ اس عسکریت پنسد گروہ نے 14 فروری کو بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں 40 بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کا باعث بننے والے خود کش بم حملے کی ذمہ داری قبول کی، جس سے بھارت اور پاکستان کے درمیان کئی ہفتوں پر محیط تناؤ بھڑک اٹھا ۔

چند مشاہدین اس گروہ کے خلاف سخت تر اقدام کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ایک سینیئر صحافی اور ایکسپریس ٹربیون نے سابق ایگزیکٹیو ڈائریکٹر محمّد ضیاءالدین نے بدھ (6 مارچ) کو جے ای ایم کے بانی اور سربراہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، "کیا کوئی جانتا ہے کہ حکومت کیوں ابھی تک مسعود اظہر کو گرفتار کرنے میں بے اعتنائی برت رہی ہے؟"

ضیاءالدین نے کہا، "مسعود کے جرائم ہولناک ہیں۔ وہ پاکستان کو اپنی حتمی تباہی کے تقریباً روبرو لے آیا۔"

پاکستانی حکام نے بالترتیب مسعود اظہر کے بھائی اور بیٹے عبدلرؤف اور حمّاد اظہر سیمیت جے ای ایم کے 44 فعالیت پسندوں کو گرفتار کر لیا۔

وزارتِ داخلہ کے ایک عہدیدار نے اپنی شناخت پوشیدہ رکھے جانے کی شرط پربدھ کو پاکستان فارورڈ کو بتایا، "مولانا مسعود اظہر کو گرفتار کرنے کے سوال پر ۔۔۔ آئندہ چند روز میں فیصلہ ہو گا۔"

اس عہدیدار نے کہا، "وزیرِ اعظم عمران خان مولانا اظہر کو گرفتار کرنے یا نہ کرنے کا حتمی فیصلہ کریں گے۔"

جے یو ڈی اور ایف آئی ایف پر پابندی

بدھ کو وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک نوٹیفیکیشن کے مطابق، ایک الگ اقدام میں پاکستان کے قومی مقتدرہٴ انسدادِ دہشتگردی (نیکٹا) نے باقاعدہ طور پر جے یو ڈی اور اس کی خیراتی شاخ، فلاحِ انسانی فاؤنڈیشن (ایف آئی ایف) پر 1997 کے انسدادِ دہشتگردی ایکٹ کے تحت پابندی عائد کر دی ہے۔

پشاور سے تعلق رکھنے والی ایک سینیئر صحافی، رفعت اورکزئی نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "فی الوقت [2008 کے] ممبئی حملوں میں بھارت کو مطلوب شخص، حافظ سعید کی سربراہی میں [جے یو ڈی اور ایف آئی ایف] دو تنظیموں کے اضافے کے ساتھ، نیکٹا کی فہرست پر 70 کالعدم تنظیمیں ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا، "عسکریت پسند تنظیموں پر پابندی کا آغاز 1990 کی دہائی میں ہوا اور تاحال وقتاً فوقتاً جاری ہے۔ ان اڑھائی سالوں میں، تقریباً 200 تنظیموں کو کالعدم قرار دیا گیا؛ تاہم، حکومت نے چند گروہوں سے پابندی اٹھا لی۔"

اورکزئی نے کہا، "عسکریت پسند تنظیموں پر محظ پابندی عائد کر دینا حل نہیں، کیوںکہ جیسے ہم نے ماضی میں مشاہدہ کیا ہے کہ وہ نئے ناموں کے ساتھ ابھر آتی ہیں۔"

انہوں نے کہا، "پاکستان کو اقوامِ متحدہ سیکیورٹی کاؤنسل اور ہمسایہ ممالک کو مطمئن کرنے کے لیے چند ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے کہ پاکستانی قومیت کے حامل اور تنظیمیں کسی بھی قسم کی سرحد پار دہشتگردی میں ملوث نہیں۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
28
نہیں
تبصرے 18
تبصرہ کی پالیسی
Captcha
| 09-17-2019

یہ تنظیمیں بنی نوع انسان کے لیئے فلاحی کام کر رہی ہیں. میرا خیال ہے وہ کسی قسم کی خطر ناک سرگرمیوں میں ملوث نہیں.

جواب
| 09-15-2019

مجھے فوج سے پیار ہے۔

جواب
| 09-14-2019

میں فوج اور بحریہ میں شامل ہونا چاہتا ہوں

جواب
| 09-13-2019

مجھے پاک فوج پسند ہے

جواب
| 09-11-2019

میں بحریہ میں شامل ہونا چاہتا ہوں

جواب
| 09-08-2019

یہ مجھے پسند ہے۔

جواب
| 09-01-2019

میں تو ارمی کا سپاہی بننا چاہتا ہوں

جواب
| 09-06-2019

مجھے یہ ملازمت پسند ہے

جواب
| 05-01-2019

مجھے پاک بحریہ میں ملازمت کی درخواست دینی ہے۔

جواب
| 08-29-2019

ماڈل پاس

جواب
| 04-22-2019

مجھے فوج کی ملازمت کے لیے درخواست دینی ہے

جواب
| 08-27-2019

میں ایک سیکنڈ لفٹننٹ کے طور پر پاک فوج میں اپلائی کرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔

جواب
| 04-16-2019

یہ سب کے لیے اچھا ہے

جواب
| 04-15-2019

مجھے فوج کی ملازمتوں کے لیے درخواست دینی ہے۔

جواب
| 04-19-2019

Nahi

جواب
| 04-28-2019

یہ نہایت خوب کام ہے

جواب
| 04-10-2019

ان میں سے چند تنظیمیں دفاعِ پاکستان کے حق میں ہیں۔
لہٰذا ہمیں اپنے دفاع کا حق ہے۔

جواب
| 03-21-2019

Aoa
Me ne application de the dpo chiniot ko jes ke date 18. 1.19 asad ali k nam say application no 24 plz help me sir

جواب