https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/03/28/feature-01
سلامتی |

پاکستانی حکام باڑ کو ایران سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسندوں کے مسئلہ کے حل کے طور پر دیکھ رہے ہیں

عبدالغنی کاکڑ

image

گزشتہ 8 مئی کو کوئٹہ بلوچستان کے قریب ایک پاکستانی فوجی پاک- افغان سرحد پر پہرا دے رہا ہے۔ پاکستان ایران کے ساتھ اپنی سرحد کے ساتھ ساتھ ایسی ہی ایک باڑ لگانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ [بنارس خان/اے ایف پی]

کوئٹہ – پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان سلامتی کو یقینی بنانے اور سرحد پار سے ہونے والی دہشتگردی پر قابو پانے کے لیے ایران کے ساتھ اپنی سرحد پر باڑ لگانے کو تیار ہے۔

پاک فوج کی سدرن کمانڈ کے کمانڈر لفٹننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے 18 مارچ کو کوئٹہ میں ایک سمینار کے دوران کہا، "ایران کے ساتھ سرحد پر باڑ لگانا ہمارے لیے وقت کی ضرورت ہے؛ اب ہمسرحد کے آر پار دہشتگردی غیر قانونی نقل و حرکت کی انسدادکے لیے مزید انتظار نہیں کر سکتے۔"

انہوں نے کہا، "پاکستان نے خطے میں دیرپا امن کا ہدف حاصل کرنے کے لیے ہمیشہ ہر ممکن قدم اٹھایا ہے، اور سیکیورٹی ایجنسیاں ہماری قومی سلامتی کو ناکام بنانے کی منصوبہ بندی کرنے والے عناصر کو سخت ردِّ عمل دے رہی ہیں۔"

image

بلوچستان کے علاقہ تافتان میں بنا تاریخ کی اس تصویر میں دکھایا گیا یہ دروازہ پاکستان اور ایران کے درمیان واحد سرکاری سرحدی پھاٹک ہے۔ [بشکریہ عبدالغنی کاکڑ]

انہوں نے کہا، پاکستانی- ایرانی سرحد کے ساتھ ساتھ، "ہمیں گزشتہ 10 سے 15 برسوں میں سلامتی کے مسائل رہے ہیں۔"

انہون نے مزید کہا، "ہم نے اپنی سرزمین کو مناسب حد تک محفوظ بنا لیا ہے، اور ایران کے ساتھ ہماری سرحد پر باڑ مکمل ہونے سے ہم بلا شبہ سلامتی کے چیلنجز سے نمٹ سکیں گے جو ہمارے استحکام اور معاشی ترقی میں بنیادی رکاوٹ ہیں۔"

ایران سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسندوں سے نمٹنا

راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے ایک سنیئر سیکیورٹی عہدیدار محمّد نبیل نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "افغانستان اور ایران کے ساتھ ہمارے تعلقات میں سرحد پار سے ہونے والے حملے ہمارا کلیدی خدشہ رہے ہیں۔"

نبیل نے کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی اور بلوچ لبریشن فرنٹ سمیت چند کالعدم عسکریت پسند گروہوں کی ایران میں سرحدی علاقوں میں مضبوط موجودگی ہے اور انہوں نے سرحد پار سے متعدد حملے کیے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی افواج نے سرحد کی اپنی جانب بڑے پیمانے پر ایسے گروہوں کو اکھاڑ پھینکا ہے۔

انہوں نے حوالہ دیتے ہوئے کہا، "گزشتہ برس 24 دسمبر کو ایران سے تعلق رکھنے والے 20 سے زائد عسکریت پسندوں نے ضلع تربت، بلوچستان کے قریب ہمارے سرحدی گشت کے کانوائے پر حملہ کیا، جس میں چھ اہلکار جاںبحق ہو گئے۔"

نبیل نے کہا، "ایران کے ساتھ سرحد پر باڑ لگانے سے نہ صرف ہماری سرحد کی سلامتی کو یقینی بنایا جائے گا بلکہ خطے میں امن کو درپیش خدشات پیدا کرنے والی غیر قانونی نقل و حرکت بھی ناکام ہو گی۔"

کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے ایک سینیئر انٹیلی جنس عہدیدار نے اپنی شناخت پوشیدہ رکھنے کی شرط پر پاکستان فارورڈ کو بتایا، "بلوچستان میں سیستان-بلوچستان صوبوں میں ایران کے ساتھ ہماری 950 کلومیٹر سرحد مشترکہ ہے۔ اس امر کو مدِ نظر رکھنا انتہائی اہم ہے کہکیوں ایران سرحد کی اپنی جانب کو محفوظ نہیں بنا رہا۔" انہوں نے رائے دی کہ ہو سکتا ہے کہ تہران قصداً اپنی سرحد کو غیر محفوظ رکھے ہوئے ہے۔

انہوں نے کہا، "ہماری سیکیورٹی ایجنسیاں ان گروہوں کی انسداد کے لیے قریب سے کام کر رہی ہیں جو مبینہ طور پر ایران سے منسلک ہیں اورزینبیون اور فاطمیون عسکریت پسندوںکے تحت محافظانِ انقلابِ اسلامی (آئی آر جی سی) کے لیے شعیہ جنگجو بھرتی کر رہے ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا، "ایرانی خاکوں کے لیے لڑنے والے عسکریت پسند گروہ پاک-ایران سرحد پر غیر قانونی راستے استعمال کر رہے ہیں۔" انہوں نے مزید کہا کہ سرحد کو محفوظ بنانا دونوں ملکوں کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے مزید کہا، "پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کرنے والے عناصر کے لیے بلوچستان ہمیشہ آسان ہدف رہا ہے۔ میری رائے کے مطابق، ایران کے ساتھ سرحد پر باڑ لگانا اس مشترکہ سرحد پر غیر قانونی نقل و حرکت پر قابو پانے میں نہایت کلیدی کردار ادا کرے گا۔"

انہوں نے کہا، "میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ بلوچستان میں کوئی ’نوگو‘ ایریا نہیں ہیں، کیوں کہ صوبے کے تمام شورش زدہ علاقوں کو ان عسکریت پسند گروہوں سے پاک کر دیا گیا ہے جو ریاست کی رٹ کو چیلنج کر رہے تھے۔"

سمگلنگ اور انسانی سمگلنگ سے متعلق خدشات

اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ایک سینیئر دفاعی تجزیہ کار محمّد عبّاس نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ باڑ لگانے سے دیگر مسائل بھی حل ہوں گے۔

انہوں نے کہا، "سرحد پر باڑ لگانے سے عسکریت پسندوں کی دراندازی اور غیر قانونی کراسنگ رک جائے گی، جو پاکستان کے لیے طویل عرصہ سے ایک مسئلہ رہی ہیں۔ سیکیورٹی کی کمی کی وجہ سے انسانی سمگلنگ بڑھ رہی ہے اور انسانی سمگلر اس سوراخ دار سرحد کے ذریعے غیر قانونی تارکینِ وطن کو بڑے پیمانے پر یورپی اور وسط ایشیائی ممالک میں منتقل کر رہے ہیں۔"

عبّاس نے کہا کہ پاکستان نے سرحد کی سیکیورٹی کے لیے پہلے ہی اضافی دستے تعینات کر دیے ہیں، لیکن ایران کو بھی مشترکہ سرحد کے لیے نتیجہ خیز سیکیورٹی اقدامات کرنے چاہیئں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی-ایرانی سرحد کی دونوں جانب کے باسیوں کو معاشی مواقع کے فقدان کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے ان میں سے بہت سے سمگلنگ اور منشیات سمگلنگ کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

انہوں نے حوالہ دیتے ہوئے کہا، "ہم اس امر کو نظرانداز نہیں کر سکتے کہ افغانستان میں پیدا ہونے والی منشیات میں سے 50 فیصد سے زائد پاک-ایران راستے کے ذریعے بین الاقوامی منڈیوں میں پہنچتی ہیں۔"

عبّاس نے کہا، "سرحدی سلامتی کسی ملک کی قومی سلامتی پالیسی کا ایک کلیدی عنصر ہے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
8
نہیں
تبصرے 1
تبصرہ کی پالیسی
Captcha

ایران میں پاکستان کی شاندار شراکت داری۔

جواب