https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/05/20/feature-01
دہشتگردی

حکام کا کہنا ہے کہ ایرانی حکومت نے دہشت گردوں کو سرحد پار کر کے پاکستان جانے کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے

از عبدالغنی کاکڑ

image

پاکستانی اور ایرانی سرحدی دفاعی اہلکار 9 دسمبر کو صوبہ بلوچستان کے تفتان کے علاقے میں تبادلۂ خیال کرتے ہوئے۔ [عبدالغنی کاکڑ]

کوئٹہ -- حکام کا کہنا ہے کہ ایرانی حکومت پاکستانی سرحد کے قریب اپنی سرزمین پر دہشت گردوں کی پناہ گاہوں پر آنکھیں بند کر رہی ہے، جس سے دہشت گردوں کو بلوچستان کے ذریعے ملک میں گھسنے اور حملے کرنے کی کھلی چھوٹ مل رہی ہے۔

پنجگور کے مقامی ایک دفاعی اہلکار، طفیل بلوچ نے کہا، "پاک-ایران سرحد پر میرجاوا اور صوبہ بلوچستان کی مکران کی پٹی سے ملحق دیگر ایرانی سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کی کئی پناہ گاہیں ہیں۔"ان پناہ گاہوں میں چھپنے والے دہشت گرد بلوچستان میں حملے کرنے کے بعد واپس فرار ہو جاتے ہیں."

انہوں نے کہا، "ہم معلومات کے تبادلے کے ذریعے ایرانی سرحدی دفاعی حکام کو دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کی شناخت مسلسل کرواتے رہے ہیں، مگر وہ مشغولیت کے دو طرفہ اصولوں کی خلاف ورزی کر رہے ہیں اور اس معاملے میں مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔"

ان کا مزید کہنا تھا، "پنجگور، تربت، گوادر، چاغی، دالبندین اور صوبہ بلوچستان کے دیگر علاقوں میں بیشتر دہشت گرد حملے ان بلوچ دہشت گردوں کی جانب سے کیے گئے ہیں جن کی پناہ گاہیں ایران میں ہیں۔"

image

مئی 2016 میں ایک پاکستانی جوان ملکی سرحد پر پہرہ دیتے ہوئے۔ [پاکستان ڈیفینس]

بلوچ نے کہا، "طویل اور غیر محفوظ مسام دار پاک-ایران سرحد کو محفوظ بنائے بغیر خطے میں امن کو یقینی نہیں بنایا جا سکتا۔ پاکستان نے اپنے دائرۂ اختیار میں سرحدی علاقوں کے اندر تمام ممکنہ حفاظتی انتظامات کیے ہیں، مگر ایران میں ابھی تک اس پہلو پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی۔"

راولپنڈی کے مقامی ایک اعلیٰ دفاعی اہلکار، محمد نبیل نے کہا، "پاک-ایران سرحد پر غیر قانونی راستے خطے میں حفاظتی نظام کو وسیع طور پر متاثر کر رہے ہیں۔ ہمیں اطلاعات مل رہی ہیں کہ سرحد کی بندش کے باوجود، ان غیر قانونی راستوں پر نقل و حرکت جاری ہے، جس سے خطے کے امن کو خطرہ لاحق ہو رہا ہے۔"

نبیل نے کہا، "بلوچستان میں کئی پاک-ایران سرحدی علاقے جاری عسکریت پسندی سے متاثر ہو رہے ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی آگے پیچھے جانے کے لیے ان غیر قانونی راستوں کو استعمال کر رہے ہیں اور "سرحد کے آر پار دہشت گردی کے اس مسئلے پر دو طرفہ توجہ کی ضرورت ہے۔"

وائرس کی وباء نے سرحدی معاملے کو بدتر بنا دیا ہے

نبیل نے کہا کہ مسام دار سرحد کی وجہ سے، پہرے میں اضافہ کرنے کے لیے مزید ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔ اس تشویش نے پاکستانی حکومت کو ایک متبادل حکمتِ عملی وضع کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا، "ایران کے ساتھ 1000 کلومیٹر طویل سرحد پر باڑ نصب کرنا اس حکمتِ عملی کا حصہ ہے، اور ہم سرحد کے آر پار دہشت گردی اور غیر قانونی مہاجرت پر قابو پانے کے لیے پاک-ایران سرحد پر نگرانی کرنے کا ایک جامع نظام نصب کر رہے ہیں۔"

ان کا مزید کہنا تھا، "سرحد پار سے حملے اور پاک-ایران سرحد کے غیر قانونی راستوں پر غیر قانونی نقل و حرکت ہماری بنیادی تشویش رہے ہیں؛ لہٰذا، اس معاملے کو سفارتی ذرائع سے ہمارے ایرانی ہم منصبوں کے ساتھ کئی بار اٹھایا گیا تھا۔"

کوئٹہ کے مقامی، خفیہ ادارے کے ایک اعلیٰ اہلکار، جنہوں نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات چیت کی، نے بتایا کہ ایران کے ساتھ سرحدی مسئلہ کورونا وائرس کی وباء سے مزید بدتر ہو گیا ہے۔

پاکستانی حکام نے ملک میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا الزام تہران پر عائد کیا ہےجب ایران ان پاکستانیوں کی چھان بین اور جانچ کرنے میں ناکام رہا جو قُم کی زیارت کے بعد پاک-ایران سرحد پر واپس پہنچے تھے حتیٰ کہ اس وقت بیماری نے ایران کو پوری طرح جکڑا ہوا تھا۔

24 مارچ کو وزیرِ اعظم عمران خان کے معاونِ خصوصی برائے صحت، ڈاکٹر ظفر مرزا نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ پاکستان میں کورونا وائرس کی کوئی 80 فیصد انفیکشنوں کا آغاز ایران سے ہوا تھا۔

خفیہ ادارے کے گمنام اہلکار نے کہا، "ہم نے کووڈ-19 کی عالمی وباء کے سبب ایران کی ساتھ اپنی سرحد کو بند کر دیا ہے، مگر ایرانی حکام نے ہمارے ہزاروں زائرین کو بغیر چھان بین یا جانچ پڑتال کیے تفتان پر پاک-ایران دوستی گیٹ پر جبراً منتقل کیا۔ اگر اس حالت میں ایران ہمارے شہریوں کو سرحدی علاقوں میں منتقل نہ کرتا، تو ملک میں کورونا وائرس کی صورتحال آج اتنی بری نہ ہوتی۔"

انہوں نے مزید کہا، "پاک-ایران سرحد پر سیکیورٹی کی صورتحال ہماری کووڈ-19 کے خلاف جنگ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے۔ ہمارے پاس اطلاعات ہیں کہ انسانی سمگلر ایران سے شیعہ زائرین کو بڑی تعداد میں سرحد پر ان غیر قانونی راستوں کے ذریعے بلوچستان منتقل کر رہے ہیں۔"

اہلکار کا کہنا تھا، "لیویز، فرنٹیئر کور اور دیگر دفاعی ادارے ایران سے غیر قانونی سرحد پار کرنے کو روکنے کے لیے تمام ممکنہ کوششیں کر رہے ہیں۔ گزشتہ چند ہفتوں میں، غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے درجنوں افراد کو تربت، پنجگور، مشخیلی، اور بلوچستان کے دیگر سرحدی علاقوں سے حراست میں لیا گیا ہے۔"

ان کا مزید کہنا تھا، "ایران کے ساتھ ہماری سرحد پر باڑ لگانا ناصرف سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کی بیخ کنی کرے گا بلکہ غیر قانونی نقل و حرکت پر قابو پانے میں بھی کلیدی کردار ادا کرے گا۔"

غیر قانونی انسانی نقل و حمل کی روک تھام

فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق، پاکستانی چیف آف آرمی اسٹاف (سی او اے ایس) جنرل قمر جاوید باجوہ نے 12 مئی کو ایرانی مسلح افواج کے سربراہ، میجر جنرل محمد بغیری کو کال کی، اور 8 مئی کے دہشت گرد حملے کے متعلق تشویش کا اظہار کیا جس میں ضلع کیچ، بلوچستان میں چھ پاکستانی دفاعی اہلکار شہید ہو گئے تھے۔

بیان میں کہا گیا کہ پاکستان نے سرحد پر باڑ لگانی شروع کر دی ہے، مگر یہ سرحدی دفاع کو یقینی بنانے اور سمگلنگ کی سرگرمیوں کو روکنے کو یقینی بنانے کے لیے تعاون کی متقاضی ہو گی۔

آئی ایس پی آر نے کہا کہ باجوہ نے 13 مئی کو ہیڈکوارٹرز سدرن کمانڈ کوئٹہ کا دورہ کیا، جہاں انہیں سرحد پر دفاعی صورتحال کی تفصیلات اور پاک-ایران سرحد پر باڑ لگانے سمیت سرحدی انتظام کے منصوبوں پر بریفنگ دی گئی۔

تفتان میں ڈپٹی کمشنر، آغا شیر زمان نے کہا، "ہم نے اپنے سرحدی علاقوں میں تمام ممکنہ دفاعی اقدامات اٹھائے ہیں، اور تفتان میں پاک-ایران دوستی گیٹ کے ذریعے یہاں داخل ہونے والے تمام افراد کی مکمل چھان بین کی جا رہی ہے اور انہیں قرنطینہ مراکز میں منتقل کیا جا رہا ہے" اگر ان کی صحت پر کوئی تشویش ہوتی ہے۔

زمان نے کہا، "ہم سرحدی انتظام میں کسی غفلت کے متحمل نہیں ہو سکتے؛ لہٰذا، پاک-ایران سرحد پر تمام داخلی مقامات پر سیکیورٹی کو پہلے سے ہی سخت کر دیا گیا ہے۔"

انہوں نے کہا کہ غیر قانونی انسانی نقل و حمل ایک بڑھتا ہوا مسئلہ ہے اور پاک-ایران سرحد پر یہ ایجنٹوں کے لیے ایک پرکشش کاروبار ہے۔

انہوں نے کہا، "ہماری فوج غیر قانونی نقل و حمل کو روکنے کے لیے بیتابی سے مصروفِ عمل ہے، اور غیر قانونی انسانی نقل و حمل کو روکنے میں غفلت برتنے کے ارتکاب پر چند لیویز اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔

زمان نے کہا، "کاروبار اور کمائی کے دیگر مواقع کی کمی کی وجہ سے، پاک-ایران سرحد کے دونوں جانب مقامی آبادی سمگلنگ پر بہت زیادہ انحصار کر رہی ہے۔ یہ غیر قانونی تجارت کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے، جو ہماری معیشت کو نقصان پہنچنے کا سبب بن رہا ہے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 4
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 حروف باقی ہیں (حد 1500 حروف)

ایرانی پاکستان کے ساتھ باوفا ہیں لیکن چند دہشتگرد لوگ مسئلہ ہیں، جنہیں قتل کر دیا جانا چاہیئے۔

جواب

ہمیں اپنی آنکھیں کھولنی چاہیئں اور اس حقیقت کو سمجھنا چاہیئے کہ ایران ہمارا دوست نہیں ہے اور پاکستانی قوم کی جانب بالکل مخلص نہیں ہے۔۔۔۔ میں کہتا ہوں کہ بدبخت ایرانی سوؤروں کو دفع کرو!!!

جواب

انس و. جن. تمام اپنی جهنم. كو. تهندا كرين. اور خلاصي خدا. كي ليے. اپنی. جنت. بنا نے کیليے سرتور كو شش. كرين. جهنم كے. سانپ. بچہون اور اگ. پر. كيسے. تحمل. كر. سكتے. هين. توبه. كرين. اور شيطانون.کو راضي. كرنے.کے بجاے. اپنے. خالق. كو. راضي. كرين. يا رب. سمجہا دے جزاكم الله. {تمام مذهبي. جماعات. ايك. هو. جايين ورنه. مشكل ترين وقت. ا جاے گا؛ {{ختم نبوت اور ديگر. مسائل. حقه. كيليے. ایمانداری سے. اپنے الله و. رسول الله صلى الله عليه وسلم اور صحابه رضوان الله عليهم أجمعين. كيليے

جواب

اب پاکستان میں دہشتگردی رکش چکی ہے اور یہ صرف اللہ تعالیٰ کے کرم سے ہے، دوسری چیز یہ کہ جنوری 2020 میں کرونا وائرس کے آغاز سے اب تک دہشتگردی کے کسی واقعہ کی اطلاع نہیں ہے اور آپ جانتے ہیں ایسا کیوں ہوا؟ صرف اس لیے کہ اس تمام کے منصوبہ ساز امریکہ بھارت اور اسرائیل تھے۔ امریکہ کو فروری سے اب تک کرونا کے بہت زیادہ واقعات کا سامنا ہے اور وہ مسلمانوں کو قتل کرنے کے بارے میں سوچنے کے بجائے اپنے ہی لوگوں کی جانیں بچانے میں مصروف ہے۔

یہ بھارت کی وجہ سے ہے، لیکن اب طالبان نے بھارت کو دھمکی دی ہے کہ وہ عید الفطر کے بعد آ رہے ہیں، اس لیے غزوہٴ ہند کے لیے تیار رہیں۔ پاکستان زندہ باد

مہلک حملے کے بعد پاکستان نے ایران سرحد پر سخت تر سیکیورٹی کا مطالبہ کر دیا

جبکہ ایران اور پاکستان نے سرحدی سلامتی کو بہتر بنانے اور سمگلرز کو روکنے کے لیے نمایاں پیش رفت کی ہے، تاہم، پاکستانی فوجیوں پر ایک حالیہ حملہ ظاہر کرتا ہے کہ بہت کچھ ہونا ابھی باقی ہے۔

پاک فوج کے دفترِ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق، 13 مئی کی ایک فون کال میں باجوہ نے زور دیا کہ پاکستان "باہمی احترام، عدم مداخلت اور برابری کی بنیاد پر علاقائی امن و استحکام" کا خواہاں ہے۔

فوری کاروائی کے مطالبہ بعد فرنٹیئر کور کے جوانوں کو لے جانے والی گشتی گاڑی پر سرحد کے پاکستان کی جانب حملہ ہوا۔ پانچ پاکستانی سپاہی اور ایک افسر شہید ہوئے۔

مبینہ طور پر یہ فوجی "پہاڑوں اور مکران کے نہایت پرخطر راستوں میں دہشتگردوں کی جانب سے استعمال ہونے والے راستوں" کا جائزہ لے رہے تھے جب ایران کی سرحد سے نو میل کے فاصلے پر ایک دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلہ پھٹ گیا۔ بعد ازاں کالعدم علیحدگی پسند گروہ بلوچستان لبریشن آرمی نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی۔

بیان کے مطابق، باجوہ نے زور دیا کہ پاک ایران سرحد پر باڑ لگائے جانے کا عمل جلد از جلد مکمل کرنا ہو گا۔ سرحد پر سمگلنگ اور غیر قانونی تجارت کو بھی چیک کیا جانا چاہیئے کیوں کہ "دہشتگرد اور منشیات سمگلر اپنی حرکات پر پردہ ڈالنے کے لیے" ان سرگرمیوں کو استعمال کرتے ہیں۔

جواب