https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2018/12/10/feature-02
رواداری |

پاکستانی علماء انتہاپسندی کا مقابلہ کرنے کے لیے پیغامِ پاکستان کو فروغ دے رہے ہیں

عبدل غنی کاکڑ

image

مذہبی علماء 7 دسمبر کو صوبہ بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں انسدادِ دہشت گردی کی ایک کانفرنس میں اکٹھے ہوئے۔ ]عبدل غنی کاکڑ[

کوئٹہ -- نمایاں پاکستانی مذہبی راہنماؤں اور علماء نے قوم پر زور دیا ہے کہ وہ پیغامِ پاکستان -- پاکستان کا پیغام -- کو فروغ دیں اور ملک سے بنیاد پرستی اور انتہاپسندی کا خاتمہ کرنے کے لیے تعمیری کردار ادا کریں۔

پاکستان کے 1,800 سے زیادہ مذہبی علماء نے جنوری میں پیغامِ پاکستان نامی فتوی جاری کیا تھا جس میں خودکش حملوں، مسلح بغاوت اور شریعت کے نام پر دہشت گردی کے کاموں کی مذمت کی گئی تھی۔

سینکڑوں مذہبی علماء، اراکینِ پارلیمنٹ اور مقامی عورتوں اور مردوں کی غالب اکثریت نے کوئٹہ میں 3 سے 7 دسمبر کے درمیان ہونے والی ایک کانفرنس میں شرکت کی تاکہ پیغامِ پاکستان اور انتہاپسندی کے خلاف پاکستان کی کوششوں پر بات چیت کی جا سکے۔

image

صوبہ بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں 7 دسمبر کو انتہاپسندی کے انسداد کے لیے ہونے والی کانفرنس میں شرکاء ملاقات کر رہے ہیں۔ ]عبدل غنی کاکڑ[

ایک بڑا خطرہ

کانفرنس سے خطاب کرنے والوں نے زور دیا کہ حکومت کو مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہیں۔

کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے عالم اور پاکستان کی اسلامی نظریاتی کونسل کے ایک رکن قاری عبدل رشید الزہری نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "پیغامِ پاکستان، ملک میں انتہاپسندی کے خلاف پاکستان کا ایک پرجوش اور نظریاتی بیان ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "انتہاپسندی پاکستان کو درپیش بڑے خطرات میں سے ایک ہے"۔

الزہری نے کہا کہ پیغامِ پاکستان "ایک طاقت ور پیغام ہے جس کے ذریعے ہم دہشت گردی، نفرت، انتہاپسندی اور تشدد کے مسائل کو امن کے ماحول، مذہبی ہم آہنگی اور بھائی چارے میں بدل سکتے ہیں"۔

اسلام آباد کے ڈاکٹر عطاء الرحمان جو کہ سینئر مذہبی عالم ہیں اور جنہوں نے کانفرنس میں شرکت کی تھی، کہا کہ "امن، بھائی چارہ، برداشت اور معاف کر دینا اسلام کی اصل روح ہے مگر انتہاپسند اور بنیاد پرست عناصر ہمارے مذہب کی اس ساکھ کا استحصال کر رہے ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ "پاکستان میں انتہاپسندی کے انسداد کے بیانیے کی جستجو وقت کی ضرورت ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "اگر حکومت نے پیغامِ پاکستان کی کوشش کو نافذ کرنے میں تاخیر کی تو انتہاپسندی میں اضافہ ملک کے ڈھانچے کو تباہ کر دے گا"۔

انہوں نے بتایا کہ "میری رائے میں انتہاپسندی پاکستان کی ترقی کی راہ میں کھڑی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ قوم کے لیے ضروری ہے کہ وہ امن اور ہم آہنگی کے اس پیغام کو سمجھے جسے قرآن اور حضرت محمد (صلی اللہ و علیہ وسلم) کی تعلیمات میں دیا گیا ہے"۔

انتہاپسندی کا مقابلہ

کوئٹہ کے ایک اور اسلامی عالم قاری عبدل رحمان نورزئی، جنہوں نے کانفرنس میں شرکت کی، پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ پیغامِ پاکستان کا پیغام انتہاپسندی کے خلاف اس کی جنگ میں مدد کرے گا"۔

انہوں نے کہا کہ "پاکستان میں بڑھتی ہوئی انتہاپسندی، تشدد، بنیاد پرستی اور فرقہ ورانہ تعصب نے پہلے ہی قوم کو منقسم کر دیا ہے اس لیے انتہاپسندی کا خاتمہ کرنے کے لیے مذہبی ہم آہنگی کا فروغ ایک قومی ضرورت ہے"۔

نورزئی نے کہا کہ "انتہاپسندوں کی طرف سےکیا جانے والا اسلام مخالف اور پاکستان مخالف خودغرضانہ پروپیگنڈا ہمیں نفرت، مذہبی عدم ہم آہنگی اور دہشت گردی کی طرف لے آیا ہے"۔

نورزئی نے کہا کہ مدرسوں میں طلباء اور اساتذہ امن اور ہم آہنگی کو حاصل کرنے میں ایک اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ "ہمیں مدرسوں کے اس منفی تصور کا خاتمہ کرنا ہے جو کہ ہمارے مذہب کے اصل نظریات پر منفی طور پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ اسلام امن کا مذہب ہے اور یہ ہمیں امن اور بھائی چارے کو پھیلانے کا درس دیتا ہے"۔

امن کی طرف ایک قدم

کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے مذہبی عالم اور شیعہ تنظیم نظام وفاق الشیعہ کے ایک رکن اکبر حسین زاہدی نے کہا کہ "پاکستان کا آئین اسلامی نطریات پر بنیاد رکھتا ہے اس لیے کوئی بھی اسلام کے نام پر اپنے تشریح کو زبردستی نافذ نہیں کر سکتا"۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "انتہاپسند گروہ ہمارے معاشرے پر اپنا بنیاد پرستانہ ایجنڈا نافذ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں"۔

زاہدی نے کہا کہ "میری رائے میں، پیغامِ پاکستان پرامن پاکستان کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ حکومت کو اپنی کوششوں میں اضافہ کرنا چاہیے تاکہ ہم اس پلیٹ فارم کے ذریعے اپنی مشترکہ تشویش پر قابو پا سکیں اور برداشت اور ہم آہنگی کو پھیلانے سے دشمن کو ناکام بنا سکیں"۔

اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے، مذہبی امور کی وزارت کے سینئر اہلکار محمد ایاز نے پاکستان فاروڈ کو بتایا کہ پیغامِ پاکستان کی پہنچ میں وسعت آئی ہے کیونکہ اب یہ عربی میں بھی دستیاب ہے۔

ایاز نے اس بات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہ "حکومت مدرسوں میں ہمارے طلباء کو جدید تعلیم دینے کے لیے خصوصی اقدامات کر رہی ہے" کہا کہ "اس سے ہماری حکمتِ عملی کی کامیابی ظاہر ہوتی ہے کہ آج دنیا انتہاپسندی کے خلاف جنگ میں ہمارے اہم کردار کو تسلیم کرتی ہے

انہوں نے کہا کہ ان اصلاحات میں مدرسوں کے طلباء کو فارغ وقت کے دوران غیر نصابی سرگرمیوں میں مشغول کرنا شامل ہے "تاکہ انہیں انتہاپسند نظریات سے دور رکھا جا سکے

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
11
نہیں
تبصرے 4
تبصرہ کی پالیسی
Captcha

شدّت پسند وجود نہیں رکھتے، شدّت پسند وہ یہودی ہیں جو دنیا پر حکمرانی کرنا چاہتے ہیں، جو غیر مسلح فلسطینیوں پر بربریّت کرتے ہیں، وہ امریکی ہیں جنہوں نے ہیروشیما اور ناگاساکی میں دسیوں لاکھوں افراد کو قتل کیا، جو عراقی عوام اور بچوں کو قتل کرتے ہیں، جو افغانی عوام کو قتل کرتے ہیں؛ شدت پسند وہ روسی ہیں جو شامی اور چیچن عوام کو قتل کرتے ہیں؛ وہ بھارتی ہیں جو کشمیریوں کو قتل کرتے ہیں۔ اگر ان مافیہ کا بنایا ہوا کوئی شدّت پسند وجود رکھتا ہے تو وہ تمام عالمِ اسلام کو شدّت پسندی کے نام پر بے وقوف بنا رہے ہیں۔

جواب

امن کو فروغ دینے والا

جواب

ہاں، یہ کسی بھی صورت میں تمام مذہبی افراد کی جانب سے مثبت رویہ ہے۔ حالیہ ماحول پاکستان کے اسلامی نظریہ کے لیے موزوں نہیں۔

جواب

دنیا، بطورِ خاص اپنی مسلمان مخالف خواہشات کو حاصل کرنے کے لیے چند دیگر ممالک کی پشت پناہی کے حامل مغرب، جو مختلف پراپیگنڈا کے ذریعے ہمیشہ الزام تراشی کرتا رہتا ہے، کو اسلام اور پاکستان کا حقیقی چہرہ پیش کرنے کے لیے علمائے دین اور معاشرے کے مختلف طبقات کی جانب سے پیغامِ پاکستان ایک شاندار اقدام ہے۔
ان قوتوں کا بنیادی مقصد مسلمان ممالک کو قابو کرنا/بلیک میل کرنا/غیر مستحکم کرنا اور انہیں ترقی یافتہ ممالک بننے سے روکنا ہے۔۔۔
جیسا کہ ترکی، پاکستان، ایران، عراق، شام، سعودی عرب، قطر وغیرہ۔

نتیجہ: مسلم متحدہ اتحاد ایک اچھی کاوش ہے، لیکن تمام ممالک میں تعاون کو سو فیصد تک بڑھانے کی ضرورت ہے۔۔۔

جواب