https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2018/05/18/feature-02
| مذہب

جکارتہ میں علماء کانفرنس نے طالبان کو عوام کی نظر میں گرا دیا

اشفاق یوسف زئی

image

پاکستان، افغانستان اور انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والے مذہبی علماء جکارتہ میں 11 مئی کو کانفرنس کے بعد مشترکہ اعلامیے کو پڑھ رہے ہیں۔ ]بہ شکریہ اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان[

اسلام آباد -- مذہبی علماء اور سیکورٹی کے تجزیہ نگار اس ماہ انڈونیشیاء میں ہونے والی کانفرنس کے نتائج کی تعریف کر رہے ہیں جس میں طالبان کے تشدد کی مذمت کی گئی اور افغان قیادت میں ہونے والے امن کے عمل کے لیے مدد کا عہد کیا گیا۔

پاکستان، افغانستان اور انڈونیشیاء سے تعلق رکھنے والے علماء نے 11 مئی کو جکارتہ کے صدارتی محل میں ملاقات کی۔

اس تقریب کے اختتام پر، تین ممالک سے تعلق رکھنے والے 75 علماء نے ایک 12 نکاتی اعلامیے پر دستخط کیے جس میں دہشت گردی کی اس کی ہر شکل اور توضیح میں مذمت کی گئی ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ "ہم اس بات کی دوبارہ تصدیق کرتے ہیں کہ تشدد اور دہشت گردی کو کسی مذہب، قومیت، تہذیب یا نسلی گروہ سے جوڑا نہیں جا سکتا یا اسے جوڑنا نہیں چاہیے کیونکہ متشدد انتہاپسندی اور دہشت گردی اپنی تمام اشکال اور توضیحات میں، جس میں شہریوں کے خلاف تشدد اور خودکش حملے شامل ہیں، اسلام کے مقدس قوانین کے خلاف ہے"۔

اس میں کہا گیا کہ افغانستان، پاکستان اور انڈونیشیاء کے علماء افغانستان کے صدر اشرف غنی کے امن منصوبے کی حمایت کرنے سے امن کے فروغ میں ایک اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ "ہم نے افغانستان میں امن کے لیے سازگار ماحول دیکھا ہے اور ہم تمام فریقین سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ براہ راست امن مذاکرات میں شامل ہوں"۔

علاقائی امن، عدم تشدد کو پھیلانا

اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان کے چیرمین اور پشاور یونیورسٹی کے سابقہ وائس چانسلر قبلہ ایاز نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "ہم نے اسلامی سیاق و سباق میں دہشت گردی کے مسئلے پر تفصیلی بات چیت کی اور افغانستان میں طالبان اور گروہوں پرزور دیا اور انہیں متنبہ کیا کہ وہ تشدد کو ترک کر دیں اور مذاکرات میں شامل ہوں تاکہ علاقے میں امن کے لیے راہ ہموار کی جا سکے"۔

مذہبی علماء نے "پیغامِ پاکستان" (پاکستان کا پیغام) نامی فتوی کی تعریف کی جس پر 1,800 سے زیادہ پاکستانی مذہبی عالموں نے جنوری میں دستخط کیے تھے۔ اس فتوی میں شریعت کے نام پر خودکش حملوں، مسلح بغاوت اور دہشت گردی کے کاموں کی مذمت کی گئی تھی۔

اگرچہ طالبان نے مسلمان علماء سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اس کانفرنس کا بائیکاٹ کریں مگر انہوں نے عسکریت پسندوں کو نظر انداز کر دیا کیونکہ انہیں اپنے ممالک کے مستقبل کے بارے میں گہری تشویش ہے۔ یہ بات پشاور سے تعلق رکھنے والےافغان مذہبی عالم عبدل رؤف نے کہی۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "مذہبی علماء اپنے ملک کو عسکریت پسندوں کے رحم و کرم پر کیسے چھوڑ سکتے ہیں جنہوں نے طاقت کے ذریعے اپنے ایجنڈا کو پھیلانے کی کوشش کی ہے"۔

طالبان کی ختم ہوتی ہوئی حمایت

پشاور سے تعلق رکھنے والے سیکورٹی کے تجزیہ نگار خادم حسین نے کہا کہ اگرچہ یہ اعلامیہ ممکنہ طور پر طالبان کو تشدد کرنے سے روک نہیں سکے گا مگر اس کا عوام کے اس گروہ کے بارے میں تصور پر اثر ضرور ہو گا۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "مذہبی علماء کے معاشرے میں بہت زیادہ پروکار ہیں کیونکہ وہ سماجی معاملات میں ان سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ اعلامیہ یہ پیغام بھیجے گا کہ دہشت گردی اسلامی قوانین کے خلاف ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "عسکریت پسند جنہیں پہلے ہی تنہائی کا سامنا ہے ان کی حمایت میں مزید کمی ہو جائے گی"۔

مولانا حافظ محمد طاہر محمود اشرفی جو کہ پاکستان علماء کونسل کے چیرمین ہیں، کانفرنس میں شریک نہیں ہو سکے مگر انہوں نے اس اعلامیے کی حمایت کی ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "مذہبی راہنماؤں نے ہمیشہ امن کی حمایت اور دہشت گردی کی مخالفت کی ہے۔ کوئی مذہب انتہاپسندی کی حمایت نہیں کرتا"۔

انہوں نے کہا کہ "عسکریت پسندوں کو مسلمان علماء کے مطالبے کو سننا چاہیے اور اگر وہ اسلام کے سچے پیروکار ہیں تو انہیں انتہاپسندی کو ترک کر دینا چاہیے"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
18
نہیں
تبصرے 2
تبصرہ کی پالیسی
Captcha

نفاذِ شریعتِ اسلامی کے لیے لڑنا جہاد ہے اور اس کی مخالفت کرنا کفر ہے۔ یہ قرآن شریف اور سنّہ سے واضح ہے۔

جواب

ہاں، اسلام بلاشبہ امن کا مذہب ہے۔ لیکن اس نام نہاد کانفرنس میں ان سوالات کے جواب کہاں ہیں۔ درحقیقت عسکریت پسندی ہے کیا؟ اور اس کا آغاز کس نے کیا؟؟؟ اصل دہشتگرد کون ہیں؟؟؟ اور درحقیقت دہشتگردی کا آغاز کس نے کیا؟؟ گن شپ ہیلی کاپٹر، بمبار، ٹینک اور مدربم وغیرہ استعمال کرتے ہوئے لوگوں کو قتل کرنے سے متعلق کیا فتویٰ ہے؟؟؟ اور کیا یہ کانفرنس درحقیقت دنیا بھر میں مسلمانوں پر امریکی اور اسرائیلی بربریت کی منظوری نہیں ہے؟؟؟ کیا یہ کانفرنس فلسطینیوں، کشمیریوں اور روہنگیاعوام کی زندگیوں کے خلاف نہیں؟؟؟ کیا یہ کانفرنس دنیا بھر میں متاثرہ مسلمانوں کے مفادات کو تباہ نہیں کر رہی؟؟؟ کیا انہیں نہیں معلوم کہ لفظ دہشتگردی ہر مقام پر مسلمانوں کے مفادات کے خلاف استعمال ہو رہا ہے؟؟؟ دنیا بھر میں امریکی دہشتگردی، فلسطین میں اسرائیلی دہشتگردی اور کشمیر میں بے گناہ، آفت زدہ اور بے قوت لوگوں پر بھارتی دہشتگردی کے خلاف ان نام نہاد علماء کا کیا فتویٰ ہے؟؟؟ ان نام نہاد علماء کی وجہ سے پوری مسلم امّہ ابتری اور پریشانی کا شکار ہے۔

جواب