https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2018/09/18/feature-02
جرم و انصاف

کراچی میں سٹریٹ کرائمز میں اضافہ پر سندھ حکام کا کریک ڈاؤن

ضیاء الرحمان

image

نئی بننے والی اینٹی سٹریٹ کرائم پولیس فورس کا عملہ کراچی میں 12 ستمبر کو پریڈ کر رہا ہے۔ ]ضیاء الرحمان[

کراچی -- کراچی میں قانون نافذ کرنے والے ادارے، جنہوں نے اس سے پہلے ٹارگٹ کلنگز اور دہشت گردی پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، اب اپنی کوششوں کی توجہ سٹریٹ کرائمز میں ہونے والے حالیہ اضافے پر مرکوز کر رہے ہیں۔

گزشتہ چند مہینوں میں، کراچی کے شہریوں نے سٹریٹ کرائمز جیسے کہ چوری چکاری میں قابلِ قدر اضافہ دیکھا ہے۔

مثال کے طور پر، شہری پولیس رابطہ کمیٹی (سی پی ایل سی) جو کہ ایک ایسا غیر سیاسی قانونی ادارہ ہے جو عوامی تحفظ کو بہتر بنانے کے لیے ہر ماہ جرائم کے اعداد و شمار مرتب کرتا ہے، کے مطابق اگست میں چور اچکوں نے تقریبا 1,506 موبائل فون چھینے اور تقریبا 1,930 موبائل فونز چوری کیے۔

یہ اعداد و شمار جولائی سے ہونے والے اضافہ کا اظہار کرتے ہیں جب تقریبا 1,363 موبائل فون چھینے گئے تھے اور دیگر 1,844 چوری ہوئے تھے۔

image

دیر زیریں، خیبر پختونخواہ میں 13 ستمبر کو سوگواران گل زدہ کے جنازے میں شریک ہیں۔ زدہ جو کہ ماہی گیر تاجر اور دیر زیریں کا رہائشی تھا، ایک دن پہلے کراچی میں مسلح چوری کی ایک کوشش میں ہلاک ہو گیا تھا۔ ]ضیاء الرحمان[

تاہم، سب سے زیادہ پریشان کن پیش رفت شہر میں ایسے جرائم میں اضافہ ہے جن میں مسلح تشدد شامل تھا۔ مجرموں کی بڑی تعداد، متاثرین کو مزاحمت کرنے کی صورت میں زخمی یا ہلاک کر رہی ہے۔

مثال کے طور پر، 12 ستمبر کو، مسلح ڈاکوؤں نے گل زدہ کو ہلاک کر دیا جو کہ کراچی کی مچھلی منڈی میں کام کرنے والا ایک تاجر تھا۔ اسے مائی کولاچی روڈ پر اس وقت ہلاک کر دیا گیا جب اس نے اپنا فون دینے سے انکار کیا۔

کراچی کے ایک پوش علاقے کے اہل محلّہ کے رکھوالی کے نِظام کے راہنما کفیل احمد نے کہا کہ مقامی شہری سٹریٹ کرائمز میں اضافے پر انتہائی پریشان ہیں۔

احمد نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "ہم نے پولیس افسران کے ساتھ اس مسئلے پر بات چیت کی ہے۔ ہمیں بہت زیادہ امید ہے کہ راہزنی اور قتل میں ملوث مجرموں کے خلاف پولیس کے اقدامات سے شہر میں سٹریٹ کرائمز کا خاتمہ ہو جائے گا"۔

صوبائی حکومت نے کوششوں میں اضافہ کر دیا

سندھ کے نئے صوبائی پولیس چیف سید کلیم امام جنہوں نے 12 ستمبر کو چارج سنبھالا، کہا ہے کہ شہر سے سٹریٹ کرائم کا خاتمہ کرنا ان کی اولین ترجیح ہو گی۔

امام نے 13 ستمبر کو ایک میٹنگ میں پولیس افسران کو بتایا کہ "ہر طرح کے سٹریٹ کرائمز جن میں ڈکیتیاں (مسلح چوریاں)، موبائل فون چھیننا اور گاڑیوں کی چوری سے پیشہ ورانہ طور پر نپٹا جانا چاہیے اور چور اچکوں کے خلاف ایک مکمل کریک ڈاون فوری طور پر شروع کیا جانا چاہیے"۔

اس مسئلے سے نپٹنے کے لیے، سندھ گورنمنٹ نے اگست میں ایک خصوصی اینٹی سٹریٹ کرائم فورس بنائی۔ پولیس نے ایک مخصوص وائٹس ایپ نمبر بھی جاری کیا جس سے مقامی شہریوں کو سٹریٹ کرائمز کی فوری طور پر اطلاع کرنے کا موقع مل جائے گا جس پر پولیس فوری ردِعمل کر سکے گی۔

کراچی کی جنوبی ڈسٹرکٹ کے پولیس چیف عمر شاہد حامد نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "نئی بنائی جانے والی فورس کا بنیادی مقص اچکوں، چوروں اور راہزنوں کو پکڑنا ہےجو کہ امیر علاقوں میں تعداد میں بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خصوصی اینٹی کرائم فورس سے تعلق رکھنے والے مختلف علاقوں اور قرب و جوار کا گشت کرنے کے لیے موٹر سائیکلوں کو استعمال کر رہے ہیں اور ایمرجنسی کی کالوں کا جواب دیتے ہیں۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بھی چور اچکوں کو پکڑنے کے لیے کراچی کے گرد چھاپوں کی تعداد کو بڑھا دیا ہے۔

حامد نے کہا کہ پولیس نے 12 ستمبر کو چار مجرموں کے ایک ایسے گروہ کو پکڑا جو سٹریٹ کرائمز میں ملوث تھا جن میں موبائل فون چھیننا بھی شامل ہے۔

انہوں نے فون کی شناخت کے لیے استعمال ہونے والے ایک منفرد نمبر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "کراچی میں موبائل فون چھیننے کے بعد، گروہ انتہائی جدید مشینری سے فون کے انٹرنیشنل موبائل ایکویپمنٹ آڈنٹٹی (آئی ایم ای آئی) نمبروں کو بدل دیتا تھا اور پھر انہیں ملک کے دوسرے حصوں میں فروخت کر دیتے تھا"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 حروف باقی ہیں (حد 1500 حروف)