https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/04/15/feature-01
جرم و انصاف

لاک ڈاؤن کی وجہ سے انٹرنیٹ پر جانے والے بچوں کے والدین کو سائبر کرائمز سے انتباہ

از عدیل سعید

image

6 اپریل کو پشاور میں ایک شخص اپنے سیل فون پر انٹرنیٹ دیکھتے ہوئے۔ ایف آئی اے نے والدین اور بچوں کے لیے ایک مشورہ دیا ہے کہ وہ سائبر کرائمز سے باخبر رہیں۔ [عدیل سعید]

پشاور -- پاکستان کی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے والدین اور بچوں کے لیے ایک مشورہ دیا ہے کہ وہ کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن کے دوران سائبر کرائمز کے خطرے سے آگاہ رہیں کیونکہ نوجوانوں میں سوشل میڈیا کے استعمال میں اضافہ ہو گیا ہے۔

خطرات میں جلد متاثر ہو جانے والے نوجوانوں کو تلاش کرتے انتہاپسندوں کی جانب سے بھرتی کرنے کی کوششیں بھی شامل ہیں۔

24 مارچ کو بین الاقوامی اخبار دی نیوز میں شائع ہونے والے مشورے میں کہا گیا ہے، "کورونا وائرس کی تازہ ترین وباء کے تناظر میں، طلباء و طالبات کو اس وقت چھٹیاں ہیں اور غالباً وہ اپنا زیادہ وقت انٹرنیٹ پر ادھر ادھر گھوم پھر کر گزارتے ہیں۔"

اس میں کہا گیا ہے، "ممکنہ خطرات سے بچنے کے لیے، سائبر کرائم کے خطرے سے آگاہ رہیں،جس کی زد میں بچے اور نوجوان آ سکتے ہیںجبکہ وہ انٹرنیٹ پر موجود ہوتے ہیں۔"

مشورے میں والدین اور بچوں، دونوں کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ "محتاط رہیں کہ کچھ مرد اور خواتین مجرمان خود کو ویسا بنا کر پیش کرتے ہیں جیسے وہ ہوتے نہیں ہیں اور پھر سوشل میڈیا چینلز پر [دوست بن کر] نوجوانوں/بچوں کو اپنے جال میں پھنسا لیتے ہیں۔"

مشورے میں کہا گیا ہے کہ والدین کو چاہیئے کہ اپنے بچوں کو صرف اپنی نگرانی میں اور سب کے مل بیٹھنے کی جگہ پر انٹرنیٹ استعمال کرنے کی اجازت دیں۔

دوسری جانب، بچوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر کبھی بھی کسی سے بھی اپنی ذاتی معلومات، نجی تصاویر یا ویڈیوز کا تبادلہ نہ کریں اور کبھی بھی اجنبیوں کی جانب سے "دوستی کی درخواستیں" مت قبول کریں۔

ایف آئی اے نے والدین اور بچوں دونوں کو مشورہ دیا ہے کہ اگر وہ کسی سائبر کرائم کا شکار بنتے ہیں تو وہ خاموش نہ رہیں۔

مشورے میں یاد دہانی کروائی گئی ہے کہ کسی بھی رہنمائی کے متلاشی یا ایک سائبر کرائم کی اطلاع دینے والے کے خواہش مند کے لیے سائبر کرائم ونگ کی ہیلپ لائن 9911 دستیاب ہے۔

ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کے ریجنل ڈائریکٹر، واجد صافی نے کہا، "ایسے غیر محتاط عناصر جو نوجوانوں یا نابالغوں کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے لبھانے کی کوشش کریں، ان کی جانب سے انٹرنیٹ کے غلط استعمال کے متعلق انتباہ کرنا ایف آئی اے کی ذمہ داری ہے۔"

انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ کا غلط استعمال تشویشناک رفتار سے بڑھ رہا ہے کیونکہ سائبر کرائم کی شکایات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے، ان کا مزید کہنا تھا کہ نوجوان زیادہ حساس ہیں اور انہیں والدین اور متعلقہ محکموں کی جانب سے اضافی توجہ کی ضرورت ہے۔

واجد کے مطابق، سال کے آغاز سے لے کر مارچ تک، ایف آئی اے کے سائبر ونگ کے ریجنل دفتر کو ابھی تک 500 سے زائد شکایات موصول ہوئی ہیں جو کارروائی اور احتیاطی تدابیر کی متقاضی ہیں۔

انہوں نے تجویز کیا کہ بچوں کو سائبر کرائم سے آگاہی دیں۔

ان کا کہنا تھا، "ہمیں اپنے بچوں کو انٹرنیٹ کے خطرات اور اپنے تحفظ کے لیے اقدامات کے متعلق سکھانا چاہیئے۔"

آن لائن انتہاپسندی

ان خطرات میں انتہاپسندوں کی جانب سے آن لائن بھرتی شامل ہے۔

امن کے لیے کام کرنے والی اور اسلام آباد کی مقامی امن کی حامی غیر سرکاری تنظیم، پیمان ایلومنی ٹرسٹ کی چیئروومن، مسرت قدیم نے کہا، "سائبر کرائم سے بچاؤ کے لیے والدین اور بچوں کو یہ انتباہ جاری کرتے ہوئے ایف آئی اے نے بہت زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے۔"

قدیم کا کہنا تھا، "عوام کی توجہ سائبر کرائم کی طرف مبذول کروانے، جو کہ خصوصاً نوجوانوں کو غیر اخلاقی سرگرمیوںاور یہاں تک کہ تعصب پسندی کے گھناؤنے فعلکی طرف دھکیلتے ہوئے زندگیاں خراب کر رہا ہے، پر ایف آئی اے تحسین کی مستحق ہے۔"

انہوں نے کہا کہ امن قائم کرنے اور تعصب پسندی کو ختم کرنے کی ان کی کوششوں میں، انہیں پتہ چلا ہے کہ انٹرنیٹ نوجوانوں کے دماغوں تک رسائی کرنے اور انہیں غلط راستے پر چلانے کی آماجگاہ بن چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ کا بڑھتا ہوا استعمال انتہاپسندی جیسے مسائل کی طرف لے جا رہا ہے، حتیٰ کہ ترقی یافتہ ممالک میں بھی جہاں شرح خواندگی بہت زیادہ ہے۔

انہوں نے متنبہ کیا کہ پاکستان میں، غیر اخلاقی عناصر کے لیے نوجوانوں کے ذہنوں پر جانبدارانہ معلومات اور دلائل کے ذریعے اثر ڈالنا اور بھی آسان ہے۔

قدیم نے والدین کو ترغیب دی کہ وہ ایسے مشورے کو سنجیدگی سے لیں اور جب ان کے بچے انٹرنیٹ استعمال کر رہے ہوں تو ان پر کڑی نظر رکھیں۔

یوتھ اینٹی ٹیررازم آرگنائزیشن کے چیئرمین، پشاور کے محمد آصف نے بھی ایف آئی اے کی پہل کاری کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے کے علاوہ، دیگر سرکاری محکمہ جات اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کو آگے بڑھنا چاہیئے اور پاکستانیوں کو اس بارے میں تعلیم دینی چاہیئے کہ خود کو سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے بے جا استعمال سے کیسے محفوظ رکھنا ہے۔

ایک مقامی تاجر اور تین بچوں کے باپ، پشاور کے محمد سلمان نے کہا کہ کورونا وائرس کے لاک ڈاؤن کے جاری رہنے پر، "ہمارے بچوں نے خود کو مختلف پروگرام دیکھنے اور گیمز کھیلنے کے ذریعے موبائل فونز کے استعمال میں مشغول کر لیا ہے۔"

سلمان نے کہا کہ کورونا وائرس کے اچانک پھیلاؤ کے ساتھ، معمول کی سرگرمیاں رک گئی ہیں۔

انہوں نے کہا حتیٰ کہ بالغ بھی خود کو موبائل فونز کے استعمال میں مصروف کر رہے ہیں اور وقت گزاری کے لیے آن لائن رہتے ہیں۔

سلمان نے کہا کہ یہ قابلِ تعریف بات ہے کہ ایف آئی اے نے والدین اور ان کے بچوں کو انہیں لاحق خطرات سے متنبہ کیا ہے، ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ اپنے خاندان کی سلامتی کے لیے چوکس رہیں گے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 حروف باقی ہیں (حد 1500 حروف)