https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2018/07/17/feature-02
انتخابات |

کے پی نے 25 جولائی کے انتخابات سے پہلے حفاظتی اقدامات سخت کر دیے

محمد آحل

image

پاکستانی سیکورٹی اہلکار 10 جولائی کو پشاور میں اس خودکش دھماکے کی جگہ پر اکٹھے ہوئے ہیں جس نے ایک انتخابی ریلی کو نشانہ بنایا تھا۔ ]عبدل مجید/ اے ایف پی[

پشاور -- خیبر پختونخواہ (کے پی) کی حکومت نے صوبہ بھر میں جوائنٹ کرائسس مینجمنٹ یونٹس (جے سی ایم یو ایس) قائم کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ سیاسی جماعتوں اور 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات میں حصہ لینے والے ان کے 21 راہنماؤں کو درپیش کسی بھی خطرے کو ٹالا جا سکے۔

یہ فیصلہ ہفتہ (14 جولائی) کو نگران وزیرِ اعلی دوست محمد خان اور ان کی کابینہ کی طرف سے سیاسی جماعتوں کے راہنماؤں سے اس ملاقات کے بعد کیا گیا جس کا مقصد پشاور، بنوں اور مستونگمیں ہونے والے ہلاکت خیز حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتِ حال کے بارے میں بات چیت کرنا تھا۔

خان نے میٹنگ کے شرکاء کو بتایا کہ چھیاسی فرنٹیئر کانسٹیبلری پلاٹونیں وفاقی کنٹرول سے واپس کے پی آ گئی ہیں جبکہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر سے 500 پولیس افسران بھی سیاسی تقریبات، راہنماؤں اور انتخابات کی حفاظت میں مدد فراہم کرنے کے لیے پہنچ رہے ہیں۔

image

کے پی کے نگران وزیرِ اعلی دوست محمد خان (بائیں سے دوسرے) اور سیاسی راہنما 14جولائی کو پشاور میں اخباری نمائندوں سے خطاب کر رہے ہیں۔ ]محمد آحل[

اس ملاقات کے بعد جاری ہونے والے حکومتی اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ "جے سی ایم یو اسی کو ڈسٹرکٹ کی سطح پر قائم کیا گیا ہے اور یہ انٹیلیجنس رپورٹیں، انتخابی مہم سے پہلے اور بعد میں سیکورٹی کے انتظامات کو یقینی بنانے میں عصابی مرکز کے طور پر کام کریں گے اور اس کے ساتھ ہی کسی ناگہانی واقعہ کی صورت میں مشترکہ ردعمل دیں گے"۔

دستاویز کے مطابق، جے سی ایم یو ایس، ہر ڈسٹرکٹ کے مختلف حصوں میں سب کمانڈ پوسٹوں کے قیام کی نگرانی بھی کریں گی تاکہ ایمرجنسی کی صورت میں ردِعمل کو تیز تر کیا جا سکے۔

اس اعلامیے میں کہا گیا کہ "جے سی ایم یو ایس میں مقامی مسلح افواج کے یونٹوں، پولیس، لیویز، سول انتظامیہ اور ریلیف ڈپارٹمنٹوں (صحت، ریسکیو 1122) کے نمائندے لازمی طور پر شامل ہونے چاہیں"۔ اس میں مزید کہا گیا کہ تمام نمائندوں کو صورتِ حال کا جائزہ لینے کے لیے فوری طور پر اور باقاعدگی سے مشترکہ میٹنگز منعقد کرنا ہوں گی۔

نئے حکم کے مطابق، سیاست دانوں کے لیے لازم ہے کہ وہ سول انتظامیہ کو کارنر میٹنگز منعقد کرنے سے پہلے مطلع کریں جس سے انتظامیہ کو سیکورٹی کے مشورے جاری کرنے کا موقع مل جائے گا۔

حکم کے مطابق، تمام سیاست دانوں کو ایک نمائندے کو منتخب کرنا ہو گا جو انتخابی مہم کے سیکورٹی کے پہلو کا انتظام کرے گا۔ نمائندہ مقامی پولیس اور سول انتظامیہ کے ساتھ قریبی طور پر مل کر کام کرے گا تاکہ سیاسی اجتماعات میں نمائںدے کی حفاظت کو مربوط بنایا جا سکے۔

سیاسی جماعتوں کے لیے لازمی ہے کہ وہ سیاسی اجتماعات کے داخلی اور خارجی راستوں پر سیکورٹی کو چیک کرنے کے لیے، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دوسرے اداروں کی مدد کرنے کے لیے پارٹی ارکان کو بھرتی کریں۔

سیکورٹی کی ضرورت

جماعتِ اسلامی کے راہنما ابراہیم خان جنہوں نے سیکورٹی کی میٹنگ میں شرکت کی، نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "نگران وزیرِ اعلی کی تشویش اور سیکورٹی کو بہتر بنانے کے انتظامات کو خوش آمدید کہتے ہیں مگر اصل مسئلہ یہ ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کو مقابلے کے یکساں مواقع فراہم کرنا ہے جو کہ سیکورٹی کو بہتر بنانے سے ہی فراہم کیے جانے ممکن ہیں"۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے پی کی ترجمان نگہت اورکزئی نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "سیکورٹی کے اقدامات کو سیاسی جماعتوں کے ساتھ مربوط کرنا اور پولیس کو کارنر میٹنگز اور بڑے اجتماعات سے پہلے معمول کے ساتھ مطلع کرنا بہت ضروری ہے"۔

انہوں نے کہا کہ جے سی ایم یو ایس کا قیام ایک حوصلہ افزاء قدم ہے مگر یہ اس صورت میں اور بھی موثر ہو سکتا ہے جب یہ صرف اس الیکشن تک محدود نہ رہے۔

الیکشن کو پرامن بنانے کے لیے اٹھائے جانے والے ہر قدم کو سراہا جاتا ہے مگر ان اقدامات کو بہت پہلے کیا جانا چاہیے تھا۔ یہ بات عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے امیدوار غلام احمد بلور نے کہی جن کے بھتیجےہارون بشیر بلور 10 جولائی کو اس خودکش دھماکے میں ہلاک ہو گئے جس میں پشاور میں ہونے والی ایک انتخابی ریلی کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "ہم خوفزدہ نہیں ہیں اور ووٹروں کے پاس دوبارہ جا رہے ہیں، یہ صرف جے سی ایم یو ایس ہی نہیں ہونی چاہیں بلکہ نگران حکومت کو بھی امیدواروں اور اس کے ساتھ ہی الیکشن کے دن ووٹ دہندگان کی حفاظت کے لیے مزید اقدامات کرنے چاہیں"۔

مختلف سیاسی جماعتوں کے حامی اتفاق کرتے ہیں۔

متحدہ مجلسِ عام کے حامی جلیل خان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "نگران حکومت کو یہ قدم بہت پہلے اٹھا لینا چاہیے تھا۔ بنوں اور پشاور کے نقصانات سے بچا جا سکتا تھا"۔

اے این پی کے حامی، سلیمان خان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "اگلی حکومت کو اس منصوبے کو جاری رکھنا چاہیے اور جے سی ایم یو ایس کو مستقل بنیادوں پر قائم کیا جانا چاہیے"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
2
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی