دہشتگردی

کوئٹہ میں پولیس کے چھاپے کے بعد داعش کے عسکریت پسند فرار

پاکستان فارورڈ اور اے ایف پی

image

اگست میں کراچی میں پولیس کمانڈوز دیکھے جا سکتے ہیں۔ [رضوان تبسم/ اے ایف پی]

کوئٹہ -- پاکستان میں "دولتِ اسلامیہ" (داعش) کے عسکریت پسندوں کا ایک گروہ، ایسے چھاپے سے فرار ہونے کے بعد مفرور ہے جس میں گروہ کے دیگر چھہ ارکان ہلاک ہو گئے تھے۔ یہ بات حکام نے پیر (10 جنوری) کو بتائی۔

انسدادِ دہشت گردی کی پولیس نے ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے ہفتہ کے دن کوئٹہ میں ان کے ٹھکانے پر حملہ کیا اور چھہ عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا مگر "ان میں سے تقریبا چار یا پانچ فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے"۔

ایک سینئر پولیس اہلکار نے اپنا نام نہ بتانے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا کہ "ٹیمیں فرار ہونے والوں کو گرفتار کرنے کے لیے مختلف علاقوں میں چھاپے مار رہی ہیں"۔

ہلاک ہونے والوں میں داعش کی خراسان شاخ (داعش-کے) کے جونئیر کمانڈر اصغر سلیمانی بھی شامل تھے۔ ان کے سر کی قیمت دو کروڑ پاکستانی روپے (11،400 امریکی ڈالر) مقرر تھی۔

فرقہ ورانہ حملے

پاکستانی حکام نے طویل عرصے سے اپنے ملک میں داعش-کے، کی موجودگی کو مسترد کیا ہے۔

مگر گروہ نے بہت سے حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے، جن میں گزشتہ سال اقلیتی ہزارہ شیعہ گروہ سے تعلق رکھنے والے 11 کان کنوں کا قتل بھی شامل ہے۔

کوئٹہ سے 60 کلومیٹر جنوب مغرب میں، مچھ کے پہاڑی علاقے میں ایک دورافتادہ کوئلے کی کان سے اغوا کیے جانے کے بعد، کچھ کان کنوں کے سر قلم کر دیے گئے تھے۔

داعش-کے، مشرقی افغانستان کے کئی ایسے صوبوں میں، جن کی پاکستان کے ساتھ سرحد غیر محفوظ ہے، گہری جڑیں رکھتی ہے۔

اس گروہ نے اگست میں، سابقہ افغان حکومت کے سقوط کے بعد، کابل کے ہوائی اڈے کے باہر خودکش دھماکہ کیا تھا جس سے بہت سے افراد، جن میں 13 امریکی سروس ممبرز بھی شامل تھے، ہلاک ہو گئے تھے۔

گزشتہ ہفتے پاکستانی فوج کے میجر جنرل بابر افتخار نے، ان خدشات کے جواب میں کہ اس گروپ سے خطرہ بڑھ رہا ہے، صحافیوں کو بتایا کہ "پاکستان میں داعش زیادہ فعال نہیں ہے"۔

پاکستانی حکام نے 29 دسمبر کو اعلان کیا کہ پاکستان کی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں نے 2021 میں خیبر پختونخواہ میں داعش-کے، کے پانچ بڑے گروہوں کو توڑا ہے ۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500