سفارتکاری

اقوام متحدہ کے جوہری نگہبان کو غیر اعلانیہ ایرانی مقامات کے بارے میں 'تشویش'

پاکستان فارورڈ اور اے ایف پی

image

یہاں پر ویانا میں آئی اے ای اے کا ہیڈکواٹر 23 مئی کو دکھایا گیا ہے۔ آئی اے ای اے نے 31 مئی کو اپنی تشویش کا اظہار کیا تھا کہ ایران نے ممکنہ غیر اعلانیہ جوہری سرگرمیوں کے بارے میں سوالات کا واضح جواب نہیں دیا ہے۔ اس نے مزید کہا کہ اس کے افزودہ یورینیم کے ذخائر اجازت شدہ حد سے 16 گنا زیادہ تھے۔ [الیکس ہالڈا/ اے ایف پی]

ویانا -- اقوامِ متحدہ کے جوہری نگران ادارے نے اس ہفتے کے آغاز میں اپنی تشویش کا اظہار کیا تھا کہ ایران نے ممکنہ غیر اعلانیہ جوہری سرگرمیوں کے بارے میں سوالات کا واضح جواب نہیں دیا ہے۔ اس نے مزید کہا کہ اس کے افزودہ یورینیم کے ذخائر اجازت شدہ حد سے 16 گنا زیادہ تھے۔

عالمی ادارہ برائے نیوکلیائی توانائی (آئی اے ای اے) کی طرف سے پیر (31 مئی) کو جاری کی جانے والی دو رپورٹیں، ایران کی طرف سے فروری میں ایجنسی کے کچھ معائینوں کو معطل کیے جانے کے بعد سے، ایسی پہلی اہم رپورٹیں ہیں۔

گزشتہ ہفتے آئی اے ای اے نے کہا تھا کہ اس نے ایران کے ساتھ عارضی معاہدے کو، جس نے بہت سے معائینوں کو جاری رکھنا ممکن بنایا ہے، 24 جون تک بڑھا دیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے ایسی جگہوں کے بارے میں تبادلوں کے حوالے سے، جہاں ممکنہ طور پر غیر اعلانیہ جوہری سرگرمیاں ہوئی ہیں، "تشویش ظاہر کی تھی کہ ایجنسی اور ایران کے درمیان تکنیکی بات چیت سے متوقع نتائج حاصل نہیں ہوئے ہیں"۔

image

اپریل میں، ایران نے کہا تھا کہ ایک 'چھوٹے دھماکے' نے اس کی نتنز جوہری تنصیبات، جسے یہاں فضائی نظارے میں دکھایا گیا ہے، کو متاثر کیا ہے، اس عمل کو تہران نے "تخریب کاری" قرار دیا تھا۔ [eghtesadnews.com]

یہ نتیجہ آئی اے ای اے کی جانب سے اپریل میں جگہوں پر "تعطل کو توڑنے" کے لئے شروع کی جانے والی "فعال اور مرکوز کوششوں" کے باوجود سامنے آیا ہے۔

آئی اے ای اے کا کہنا ہے کہ اس کے معائنہ کے کام کے نتائج نے "ایک واضح اشارہ قائم کیا ہے کہ جوہری مواد اور/ یا جوہری مواد سے آلودہ سامان "تین غیر اعلانیہ مقامات" پر موجود ہے اور ان سوالیہ سرگرمیوں میں سے زیادہ تر 2000 کی دہائی کے اوائل میں ہوئی ہیں۔

ایجنسی نے یہ بھی کہا کہ ایران چوتھی سائٹ کے بارے میں سوالات کے جوابات دینے میں ناکام رہا ہے جہاں قدرتی یورینیم دھاتی ڈسک کی شکل میں 2002 اور 2003 کے درمیان ممکنہ طور پر موجود تھا۔

ایک علیحدہ رپورٹ میں، آئی اے ای اے نے کہا کہ ایران کی افزودہ یورینیم کا ذخیرہ عالمی طاقتوں کے ساتھ 2015 کے معاہدے میں طے شدہ حد سے تقریباً 16 گنا زیادہ ہے۔

اس رپورٹ میں ذخیرے کی بارے میں 3,241 کلوگرام کا تخمینہ دیا گیا ہے مگر اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ مکمل مقدار کی تصدیق کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

جو حد 2015 کے معاہدے میں مقرر کی گئی تھی وہ ایک خاص مرکب کی شکل میں 300 کلوگرام یورینیم تھی، جو 202.8 کلوگرام یورینیم کے برابر ہے۔

'گہری تشویش'

عالمی طاقتوں نے اپریل میں، ایران کی طرف سے اس اعلان پر "گہری تشویش" کا اظہار کیا تھا کہ وہ یورینیم کی افزودگی کو 60 فیصد تک بڑھا دے گا۔

یہ قدم ایران کو عسکری استعمال کے لیے، 90 فیصد خالص ہونے کی حد کے قریب لے آئے گا اور اس کے ایٹمی بم بنانے کے ممکنہ "بریک آوٹ ٹائم" کو بھی مختصر کر دے گا۔

برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے اس وقت کہا تھا کہ یہ اعلان ایسے وقت پر "خاص طور پر افسوسناک" تھا جب ویانا میں 2015 کے جوہری معاہدے، جو مشترکہ جامع منصوبے (جے سی پی او اے) کے نام سے جانا جاتا ہے، کو بحال کرنے کے لئے بات چیت، جس میں امریکہ کے ساتھ بات چیت بھی شامل ہے، کا آغاز ہوا تھا۔

پیر کی رپورٹ میں، آئی اے ای اے نے اندازہ لگایا ہے کہ ایران کے یورینیم کے ذحیرے میں سے 62.8 کلوگرام کو 20 فیصد تک اور 2.4 کلوگرام کو 60 فیصد تک افزودہ کیا گیا ہے۔

نیتنز ان مرکزی تنصیبات میں سے ایک ہے جہاں ایران، یورینیم کو طے پانے والی سطح سے بڑھ کر خالص بنانے اور اسے ذخیرہ کرنے سے، 2015 کے جوہری معاہدے کی شرائط کو، مسلسل توڑنے میں مصروف ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500