سلامتی

ایلیٹ پولیس ٹریننگ سینٹر سے فارغ التحصیل طلباء دہشت گردی کے خلاف صفِ اول

جاوید خان

image

اکتوبر میں نوشہرہ میں تربیت حاصل کرنے والی خاتون پولیس کمانڈوز راکٹ سے داغے جانے والے گریینڈ لانچر کو استعمال کرنا سیکھ رہی ہیں۔ [جاوید خان]

image

اکتوبر میں کمانڈوز نوشہرہ میں تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ [جاوید خان]

image

نوشہرہ میں ایک کمانڈو اکتوبر میں ہیوی مشین گن استعمال کرنا سیکھ رہا ہے۔ [جاوید خان]

image

اکتوبر میں کمانڈوز نوشہرہ میں کئی منزلہ عمارت سے نیچے آنے کی تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ [جاوید خان]

image

اکتوبر میں ایک خاتون کمانڈو نوشہرہ میں تربیت کے دوران، ہیوی مشین گن چلا رہی ہے۔ [جاوید خان]

image

اکتوبر میں پولیس کمانڈوز نوشہرہ میں تربیت کے دوران جسمانی تربیت کی صلاحیتیں دکھا رہے ہیں۔ [جاوید خان]

image

اکتوبر میں ایک خاتون کمانڈو، نوشہرہ میں تربیت کے دوران ایک دیوار پر چڑھ رہی ہے۔ [جاوید خان]

image

اکتوبر میں کمانڈوز کا ایک گروہ، نوشہرہ میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ [جاوید خان]

image

اکتوبر میں خاتون کمانڈوز، نوشہرہ میں تربیت حاصل کر رہی ہیں۔ [جاوید خان]

انہوں نے کہا کہ تربیت حاصل کرنے والے 419 افراد میں سے، 219 بنیادی ایلیٹ تربیت، 81 نائب سب انسپکٹروں کی تربیت اور 40 خصوصی جنگی یونٹ (ایس سی یو) کے لیے تربیت حاصل کر رہے ہیں جو کہ ایلیٹ فورس کے اندر ایک اعلی تربیت یافتہ چھوٹا یونٹ ہے۔ باقی بہت سے دوسرے کورسوں میں تربیت حاصل کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ای پی ٹی سی انتہائی اعلی تعلیم یافتہ پیشہ ور کمانڈوز پیدا کر رہی ہے تاکہ وہ دہشت گردوں اور عادی مجرموں کے خلاف کام کر سکیں۔

ای پی ٹی سی کے پرنسپل کرنل (ریٹائرڈ) خالد جمیل نے کہا کہ "ایلیٹ فورس، کے پی پولیس کی کمانڈو فورس ہےاور اس کے اہلکاروں کو خودکش حملوں کے خلاف حفاظت، خودکش بمباروں کی شناخت، گاڑیوں سے حملوں اور شہری جنگ کے بارے میں تربیت دی جاتی ہے"۔

پشاور -- خیبر پختونخواہ (کے پی) پولیس کا ایلیٹ پولیس ٹریننگ سینٹر (ای پی ٹی سی) ایسے کمانڈوز کو تیار کرنا جاری رکھے ہوئے ہے جنہیں صوبہ بھر میں دہشت گردی اور بڑے بڑے مجرموں سے جنگ کرنے کی تربیت دی گئی ہے۔

image

اکتوبر میں خاتون کمانڈوز نوشہرہ ڈسٹرکٹ میں گرینیڈ لانچر کو استعمال کرنے کی تربیت حاصل کر رہی ہیں۔ [جاوید خان]

نوشہرہ ڈسٹرکٹ کے قصبہ حکیم آباد میں 275 ایکڑوں پر پھیلا ہوا یہ مرکز، کے پی پولیس کی ایلیٹ فورس کے پولیس افسران، جن میں مرد اور خواتین دونوں شامل ہیں، اور دوسروں کو مارشل آرٹس سیکھنے، لیکچرز میں شرکت کرنے اور جسمانی تربیت میں شرکت کرنے کے قابل بناتا ہے۔

ای پی ٹی سی جسے 2014 میں قائم کیا گیا تھا، اپنی طرح کا پہلا مرکز ہے جس میں کمانڈوز کو صوبہ اور باقی ملک میں، دہشت گردی کے چیلنج کا بہتر طور پر مقابلہ کرنے کی تربیت فراہم کی جاتی ہے۔

کے پی پولیس کی ایلیٹ فورس کے سبکدوش ہونے والے کمانڈنٹ محمد سید وزیر نے اکتوبر میں کہا تھا کہ "اس وقت 419 پولیس اہلکار مرد اور خواتین، کے پی بھر میںدہشت گردی اور جرائم سے جنگ کرنے کے لیے تربیت حاصل کر رہے ہیں"۔

وزیر نے کہا کہ "ابھی تک ای پی ٹی سی نے کمانڈوز کو تربیت فراہم کی ہے جس میں خاتون کمانڈوز بھی شامل ہیں"۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کورسوں میں ایس سی یو کے لیے خصوصی تربیت، بنیادی ایلیٹ کورس،آپریشنل کمانڈ کورس، وی آئی پی حفاظتی کورس، ایڈوانس سنائپر کورس اور دیگر شامل ہیں۔

پیشہ ور کمانڈوز

کے پی کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) ثناء اللہ نے کہا کہ "ای پی ٹی سی کی طرف سے ایلیٹ فورس کے تربیت کردہ عملے نے گزشتہ چند سالوں کے دوران دہشت گردوں اور دیگر تخریب کاروں کے خلاف مہمات میں اپنی شجاعت کا لوہا منوایا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ ایلیٹ فورس نے اپنے صوبہ کی حفاظت کرنے کے لیے گزشتہ سالوں میں، دہشت گردوں کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔

عباسی نے کہا کہ "ایلیٹ فورس، پولیس فورس کے بہترین یونٹس میں سے ایک ہے جس نے صوبہ اور ملک میں امن کے لیے بہت سی قربانیاں دی ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ ہیوی اور لائٹ مشین گنز اور مختلف اقسام کے پستولوں کے علاوہ، ایلیٹ فورس کے اہلکار راکٹ لانچرز، دستی بموں اور دیگر اقسام کے ہتھیاروں کے استعمال کی تربیت دی جاتی ہے۔

خصوصی تربیت

کمانڈوز کے علاوہ، ای پی ٹی سی نے سینئر پولیس افسران اور اس کے ساتھ ہی ریسیکو 1122 کے 500 ریسکیورز کو تربیت فراہم کی ہے۔

ریسکیو 1122 کے ڈائریکٹر جنرل خطیر احمد نے کہا کہ "کے پی پولیس نےریسیکو 1122 کے عملےکو پیشہ ورانہ طریقے سے بنیادی جسمانی تربیت فراہم کر رہی ہے"۔

انہوں نے کہا کہ ای پی ٹی سی میں تربیت سے ریسکیورز کی کارکردگی اور جسمانی صحت کو مزید بہتر بنانے میں مدد ملے گی جو کہ پولیس کی طرح، ہنگامی حالات میں کام کرتے ہیں"۔

ایلیٹ فورس کے ایسے کمانڈوز جو اعلی تربیت یافتہ ایس سی یو میں شامل ہوتے ہیں ان کے لیے مزید خصوصی تربیت انتظار کرتی ہے۔

ایس سی یو کے کمانڈر کرنل (ریٹائرڈ) ثناء اللہ خان نے کہا کہ "ایس سی یو، خصوصی طور پر تربیت یافتہ کمانڈوز کا دستہ ہے جنہوں نے ای پی ٹی سی سے صوبہ کے کسی بھی حصہ میں غیرمعمولی صورتِ حال سے نپٹنے کی تربیت حاصل کی ہے"۔

ایس سی یو کے 200 سے زیادہ اکران کو خودکش حملوں، یرغمال بنائے جانے کی صورتِ حال، اغوا اور دیگر حساس مہمات میں سب سے پہلے ردعمل کا اظہار کرنے والوں کا کردار ادا کرنے کی سخت ترین تربیت دی جاتی ہے۔

پشاور سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی عمران بخاری نے کہا کہ "ایلیٹ فورس اور ایس سی یو نے گزشتہ بہت سے سالوں سے صوبہ بھر میں دہشت گردوں کے خلاف مہمات میں اہم کردار ادا کیا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ ای پی ٹی سی، کے پی پولیس کے کمانڈوز کو صوبہ اور ملک میں امن کے لیے، اہم کردار ادا کرنے کے لیے خصوصی تربیت فراہم کر رہی ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرہ
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500