دہشتگردی

پاکستان کی جانب سے دہشتگرد حملوں میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لیے تعظیم

جاوید خان

image

4 اگست کو پشاور میں کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر محمّد علی گنڈاپور (دائیں) دہشتگرد حملوں میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کو سلامی پیش کر رہے ہیں۔ [کے پی پولیس]

پشاور – منگل (4 اگست) کو یومِ شہداء کے موقع پر ملک بھر میں دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانیں قربان کرنے والے پاکستانی پولیس اہلکاروں کو اعزاز پیش کیا گیا۔

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) مردان زاہد اللہ جان نے کہا، "دن کا آغاز خود کش حملوں، بم دھماکوں، راکٹ حملوں اور ٹارگٹ کلنگ میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کی قبروں پر سلامی سے کیا گیا۔"

انہوں نے کہا کہ ملک میں امن کی دعا اور شہید ہیروز کی روحوں کے ابدی سکون کے لیے تقریباً تمام شہروں میں قرآن خوانی کی گئی۔

حکام نے کوویڈ-19 ضوابط کی وجہ سے بڑے اجتماعات منظم کرنے سے گریز کیا۔

image

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر لکی مروت عبدالرؤف قیصرانی (درمیان) 4 اگست کو لکی مروت میں شہید پولیس اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔ [کے پی پولیس]

image

4 اگست کو پشاور کے رہائشی اور پولیس اہلکار ایک مسجد میں پولیس شہداء کے لیے دعا کر رہے ہیں۔ [کے پی پولیس]

image

4 اگست کو مردان میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر مردان زاہد اللہ جان ایک شہید پولیس اہلکار کے بیٹے سے بات کر رہے ہیں۔ [کے پی پولیس]

دیہی پشاور کے لیے سپرانٹنڈنٹ پولیس وقار احمد نے کہا، "میں نے دیگر حکام کے ہمراہ جولائی 2017 میں قلعہ عبداللہ، بلوچستان میں ایک خودکش حملے میں شہید ہونے والے ساجد خان مہمند کی قبر پر سلامی پیش کی۔"

انہوں نے مزید کہا کہ یومِ شہداء کے حوالہ سے صوبے بھر میں شہید پولیس اہلکاروں کے اعزاز میں بینرز اور ان کی بڑی تصاویر آویزاں کی گئیں۔

کے پی میں پہلی مرتبہ 2015 میں صفوات غیور کی برسی کے موقع پر شہید پولیس افسران کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔

پاکستان کے سب سے زیادہ اعزاز یافتہ پولیس اہلکاروں میں سے ایک، غیور، 4 اگست 2010 کو اپنے دفتر کے باہر ایک خودکش بم حملے میں شہید ہوئے۔

امن کے لیے قربانیاں

اب پورا ملک یومِ شہداء مناتا ہے۔

انسپکٹر جنرل پولیس خیبر پختونخوا (کے پی) ثناء اللہ عبّاسی اور کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر محمّد علی گنڈاپور نے رواں برس یہ دن منانے کے لیے غیور کی قبر پر خراجِ عقیدت پیش کیا۔

خراجِ عقیدت دیتے ہوئے کے پی کے وزیرِ اعلیٰ محمود خان نے کہا، "گزشتہ چند برسوں میں پولیس اور دیگر فورسز کی قربانیوں کی وجہ سے ملک میں امن بحال ہو چکا ہے۔"

انہوں نے کہا کہ حکومتِ کے پی شہید ہیروز کے خاندانوں اوراپنے فرائض انجام دیتے ہوئے شدید زخمی ہو جانے والوںکا خیال رکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔

خان نے کہا، "ملک میں، بطورِ خاص کے پی میں، پولیس فورس کی شجاعت بے مثال ہے، اور ہمیں اس پر فخر ہے۔"

1970 سے اب تک کے پی پولیس کے 1,800 سے زائد پولیس اہلکاروں نے خودکش حملوں، بم حملوں، ٹارگٹ کلنگ اور دہشتگردوں اور جرائم پیشہ افراد کے ساتھ دیگر مقابلوں میں جامِ شہادت نوش کیا۔

پنجاب اور دیگر صوبوں میں بھی پولیس نے اپنی جانیں قربان کرنے والے اہلکاروں کی قبروں پر سلامیاں دیں۔

راولپنڈی میں ایک ریجنل پولیس آفیسر سہیل حبیب تاجک نے کہا، "ہم نے اپنے شہداء کی قبروں پر قرآن خوانی کی اور سلامی دی کیوں کہ اس عظیم قربانی کو فراموش نہیں کر سکتے جو انہوں نے اپنے ملک کے لیے دی۔"

ہراول دستہ

پاک فوج نے بھی یومِ شہداء کے موقع پر دہشتگردی کے خلاف لڑتے ہوئے شہید ہونے والے اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

فوج کے ایک ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے ٹویٹ کیا، "اپنے فرض کی راہ میں وہ مدد کی ہر پکار پر پہلا ردِّ عمل دینے والے اور عزم اور فخر کے ساتھ ہر بلاوے پر لبّیک کہنے والے رہے ہیں۔"

پشاور سے تعلق رکھنے والے ایک سینیئر سیکیورٹی تجزیہ کار اور ایک سابق انسپکٹر جنرل پولیس ظفر اللہ خان نے کہا کہ پاکستان خوش قسمت ہے کہ اس کے پاس اس قدر بہادر سیکیورٹی فورسز ہیں جو امن کے لیے بڑی سے بڑی قربانی دینے سے دریغ نہیں کرتیں۔

انہوں نے کہا، "وہ دن بھی تھے جب تقریباً ہر روز دہشتگردی کے سانحات ہوتے تھے،لیکن ہمارے پولیس اہلکاروں اور فوجیوں کی قربانیوں نے امن بحال کر دیا۔"

پنجاب کے سابق وزیرِ اعلیٰ اور سینیئر سیاسی رہنما شہباز شریف نے ٹویٹ کیا، "پولیس اہلکار اور فوجی ایسے بے نام ہیرو ہیں جنہوں نے دہشتگردی کے خلاف جنگ کے ہراول دستے میں خود کو قربان کر دیا۔"

انہوں نے کہا، "یومِ شہدائے پولیس کے موقع پر ہم شہداء کو فرض کی راہ میں ان کی شجاعت اور ہمت پر انتہائی تعظیم پیش کرتے ہیں۔"

"قوم ہمیشہ کے لیے ان کی مقروض ہے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرہ
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500