https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/06/03/feature-01
سلامتی

شمالی وزیرستان میں حکام گھات لگا کر قتل کے ملزمان کے تعاقب میں

از اشفاق یوسفزئی

image

شمالی وزیرستان کے نوجوانوں کے جرگہ کا ایک رکن 25 مئی کو میرانشاہ میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے۔ [بشکریہ اشفاق یوسفزئی]

میرانشاہ، شمالی وزیرستان -- ضلع شمالی وزیرستان میں حکام نے ایک اعلیٰ سرکاری اہلکار کو گھات لگا کر قتل کرنے میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کے لیے وسیع پیمانے پر تلاش شروع کر دی ہے۔

دو مسلح نقاب پوش موٹر سائیکل سواروں نے 24 مئی کو میر علی میں اسلام آباد کی پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی کے ڈائریکٹر زبیداللہ خان، کو اس کے چچا ملک فرمان اللہ اور رشتہ دار نعمت اللہ کے ہمراہ گولی مار کر شدید زخمی کر دیا تھا۔

سوموار (1 جون) کے روز، شمالی وزیرستان میں ایک اعلیٰ پولیس اہلکار، نسیم خان نے کہا، "ہم نے تہرے قتل کے مقدمے میں تعلق کی بناء پر 12 افراد کو گرفتار کیا ہے، اور مزید ملزمان کا سراغ لگانے کے لیے تلاش جاری ہے۔ ہم دہشت گردوں کی مشتبہ پناہ گاہوں پر چھاپے مار رہے ہیں۔ عام شہری پولیس کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔"

ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا (کے پی) پولیس کا شعبۂ انسدادِ دہشت گردی تحقیقات کر رہا ہے۔

گمنامی کی شرط پر ایک سیکیورٹی اہلکار نے کہا کہ پاکستانی فوج نے علاقے میں کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا، "جون 2014 میں [شروع کیے گئے] آپریشن ضربِ عضب کے نتیجے میں پاکستانی فوج نے پہلے ہی طالبان جنگجوؤں کو سابقہ قبائلی علاقہ جات سے نکال دیاہے، مگر ابھی بھی کچھ ایسے چھوٹے چھوٹے علاقے ہیں جنہیں ہم، عوام کی مدد سے۔ جلد ہی صاف کر لیں گے".

گھات لگا کر قتل

27 مئی کو ڈان نے خبر دی تھی کہ گزشتہ پانچ ماہ کے عرصے میں شمالی وزیرستان میں پُرتشدد کارروائیوں، خصوصاً گھات لگا کر کیے گئے قتلوں میں بہت تیزی کے ساتھ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

ڈان کی جانب سے حوالہ دیئے گئے اہلکار کا کہنا تھا کہ جنوری کے بعد سے شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز پر گھات لگا کر قتل کرنے اور بندوق سے اور بم حملوں کے اکتیس واقعات درج ہو چکے ہیں۔

ہمسایہ جنوبی وزیرستان میں، 26 مئی کو ایک مسلح شخص نے تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ایک سابق کمانڈر، تحصیل خان، جو عسکریت پسندی سے تائب ہو چُکے تھے، کو زخمی اور ان کے بھائی کو قتل کر دیا تھا۔

ڈان کے مطابق، ضلعی پولیس افسر شوکت خان نے کہا کہ خان اور اس کا بھائی اعظم وارسک سے وانا جا رہے تھے جب نامعلوم حملہ آور نے فائر کھول دیا۔

ایک وقت تھا جب تحصیل خان مرحوم مُلا نذیر کی سربراہی میں ایک جنگجو گروہ میں شامل تھے اور بعد ازاں وہ امن کمیٹی (لشکر) کے ایک فعال رکن بن گئے جس نے وانا اور اس سے ملحقہ علاقوں میں امن و امان قائم رکھنے میں مدد دی۔

عسکریت پسندی سے تائب ہونے کے بعد، خان لاہور منتقل ہو گئے تھے اور پھلوں کا کاروبار شروع کر دیا تھا۔ جب مسلح شخص نے انہیں مارنے کی کوشش کی تب وہ اپنے آبائی شہر گئے ہوئے تھے۔

پشاور کے مقامی دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر (ر) محمود شاہ نے کہا کہ فوجی آپریشنوں نے ٹی ٹی پی کے بیشتر قائدین کو یا تو ہلاک کر دیا ہے یا پھر سابقہ قبائلی علاقہ جات سے بھگا دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا، "اب، وہ محض عام شہریوں کو یہ بتانے کے لیے گھات لگا کر قتل کرنے کا سہارا لے رہے ہیں کہ وہ ابھی بھی علاقے میں موجود ہیں۔ تاہم، [2018 میں] قبائلی علاقہ جات کے کے پی کے ساتھ انضمام کے بعد حکومتی اقدامات اورترقیاتی سرگرمیوں کا سلسلہ۔۔۔ خوشحالی کے ایک دور کا آغاز کرے گا۔"

انہوں نے کہا کہ جب بنیادی ڈھانچہ مکمل طور پر تیار ہو جائے گا، رہائشیوں کو ملازمتیں ملیں گی، کاروبار ترقی کریں گے اور عسکریت پسندی کا خاتمہ ہو گا۔

ان کا کہنا تھا، "دریں اثناء، رہائشیوں اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان مکمل تعاون کی ضرورت ہے۔ عوام کو چاہیئے کہ مجرموں کو جائے پناہ نہ دیں اور سیکیورٹی فورسز کو مطلع کریں۔"

دہشت گردی کی مذمت کرنا

25 مئی کو میر علی میں منعقد ہونے والے نوجوانوں کے جرگے نے دہشت گردی کی مذمت کی اور فوج سے کارروائیوں میں اضافہ کرنے کا مطالبہ کیا۔

25 سالہ محمد شکیل نے اجتماع میں کہا، "ہم ہر طرح کی عسکریت پسندی کی مذمت کرتے ہیں ۔۔۔ بلاوجہ قتل ملکی قانون کے خلاف ہے۔"

ان کا کہنا تھا، "عوام نے پچھلے دو عشروں میں عسکریت پسندوں کے ہاتھوں بہت صعوبتیں برداشت کی ہیں اور انہیں مزید برداشت نہیں کر سکتے۔"

ان کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گردوں کا واحد مقصد شمالی وزیرستان میں اپنا پچھلا اثرورسوخ دوبارہ قائم کرنے کی کوشش میں دہشت گردی اور قتل کے ذریعے عوام کو خوفزدہ کرنا ہے۔

شکیل نے کہا، "البتہ، ہم سیکیورٹی فورسز کو اپنے مکمل تعاون کا یقین دلاتے ہیں تاکہ وہ انہیں [عسکریت پسندوں کو] علاقے سے نکالیں کیونکہ عوام انہیں دوبارہ امن میں خلل ڈالتے نہیں دیکھنا چاہتے۔"

ایک اور شریک، احمد علی نے کہا کہ رہائشی دہشت گردوں سے اب مزید خوفزدہ نہیں ہیں کیونکہ وہ اپنی تخریبی سرگرمیاں کھلے عام انجام نہیں دے سکتے۔

ان کا کہنا تھا، "طالبان جنگجوؤں کی جانب سے گھات لگا کر حملے بزدلانہ کارروائیاں ہیں کیونکہ انہیں شکست ہو چکی ہے اور وہ سیکیورٹی فورسز سے آمنے سامنے نہیں لڑ سکتے۔"

کیا حکومت پاکستان بھر میں سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کافی کام کر رہی ہے؟
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 حروف باقی ہیں (حد 1500 حروف)