دہشتگردی

بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں حملوں سے کم از کم 12 افراد جاںبحق

پاکستان فارورڈ اور اے ایف پی

15 اکتوبر کو شمالی وزیرستان میں دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلہ سے شہید ہونے والے چند سیکیورٹی اہلکار دکھائے گئے ہیں۔ [آئی ایس پی آر]

15 اکتوبر کو شمالی وزیرستان میں دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلہ سے شہید ہونے والے چند سیکیورٹی اہلکار دکھائے گئے ہیں۔ [آئی ایس پی آر]

اسلام آباد – جمعرات (15 اکتوبر) کو بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں جداگانہ عسکریت پسندانہ حملوں میں چھ سیکیورٹی اہلکاروں سمیت کم از کم 12 افراد جاںبحق ہو گئے۔

دہشتگرد گروہبلوچ راجی آجوئی سانگرنے ٹویٹ کرتے ہوئے ایک بیان میں گوادر، بلوچستان میں گھات لگا کر ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کی۔

حکام نے کہا کہ مسلح افراد کے ہاتھوں تیل کے کارکنان کے ایک قافلے سے کم از کم چھ افراد جاںبحق ہوئے۔

ایک اعلیٰ عہدیدار نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جاںبحق ہونے والوں میں نیم فوجی سپاہی اور ریاستی آئل اینڈ گیس کمپنی کے کارکنان شامل تھے۔

انہوں نے میڈیا سے بات کرنے کی اجازت نہ ہونے کی وجہ سے اپنی شناخت خفیہ رکھی جانے کی درخواست کرتے ہوئے کہا، "اموات کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے"۔

درایں اثناء، انٹرسروسز پبلک ریلیشنز نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ رزمک، شمالی وزیرستان کے قریب سڑک کنارے نصب ایک بم سے سیکیورٹی فورس کے ایک قافلے میں سے ایک افسر اور پانچ سپاہی شہید ہو گئے۔

تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)نے ذمہ داری قبول کی۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500