https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/04/16/feature-02
سلامتی |

مرحوم افغان طالبان لیڈر کے اثاثوں کی نیلامی سے بے حساب دولت آشکار ہوئی

ضیاء الرحمان

image

یہ تصویر جو کہ 21 فروری کو لی گئی ہے، میں شاہراہِ ملت روڈ کراچی کے امیر قرب و جوار میں ایک رہائشی عمارت کو دکھایا گیا ہے جہاں افغان طالبان کے سابقہ سربراہ ملا اختر محمد منصور ایک فلیٹ کے مالک تھے۔[ضیاء الرحمان]

کراچی -- افغان طالبان کے مرحوم راہنما کی پاکستان میں املاک کی منصوبہ شدہ نیلامی سے ظاہر ہوتا ہے کہ عسکریت پسند مقامی کاروباروں اور سرمایہ کاری میں کس حد تک ملوث ہیں۔

کراچی کی ایک انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے 14 فروری کو مقامی اخبارات میں ایک اشتہار دیا جس میں افغان طالبان کے مرحوم سربراہ ملا اختر محمد منصورکی ملکیتی چھہ املاک کی منصوبہ شدہ نیلامی کا اعلان کیا گیا ہے۔

عدالت نے 20 فروری کو وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کو حکم دیا تھا کہ ان املاک پر قبضہ کرنے کا عمل مکمل کیا جائے۔ اس وقت سے، یہ عمل قانونی نظام میں آگے بڑھنا جاری رکھے ہوئے ہے۔

ڈان کی خبروں کے مطابق، 11 اپریل کو کراچی کی اس عدالت نے اس مقدمے کے بارے میں مزید معلومات مانگی ہیں۔

image

پاکستان کے اخبارات میں 14 فروری کو شائع ہونے والے ایک اشتہار میں، انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے کراچی میں چھہ املاک کی نیلامی کی تشہیر کی جو کہ منصور کی ملکیت تھیں۔ [ضیاء الرحمان]

image

اس تصویر میں منصور کی 9 جنوری کی چارج شیٹ دکھائی گئی ہے۔ [ضیاء الرحمان]

عدالت نے ایف آئی اے کو حکم دیا ہے کہ وہ منصور کی املاک پر قبضہ کرنے کے بارے میں اپنی پیش رفت پر رپورٹ جمع کروائے اور ان دو مفرور افراد کو ڈھونڈے جنہوں نے دہشت گردی کے لیے سرمایہ فراہم کرنے اور منی لانڈرنگ میں مبینہ طور پر منصور کی مدد کی تھی۔

ابھی تک کوئی نیلامی نہیں ہوئی ہے۔

منصور، جنہوں نے جولائی 2015 میں افغان طالبان کی قیادت سنبھالی تھی، صوبہ بلوچستان کے ضلع دالبندین میں مئی 2016 کو ایک ہوائی حملے میں ہلاک ہو گئے تھے، وہ اس وقتایران سے سفر کر رہے تھے۔

پاکستانی حکام نے ہوائی حملے کی جگہ پر، ایک پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ دریافت کرنے کے بعد، جس پر محمد ولی کا نام درج تھا، تفتیش کا آغاز کیا۔ یہ بات ایف آئی اے کے ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتائی۔

اگست 2016 میں،ایف آئی اے نے چمن، بلوچستان میں ایک قبائلی بزرگ کو گرفتار کیا، اس پر منصور کے جعلی پاکستانی کاغذات کی تصدیق کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔

اس معاملے کی حساسیت کو سامنے رکھتے ہوئے، حکام نے یہ بات کبھی نہیں بتائی کہ آیا اس شخص کو سزا ملی یا نہیں۔

جائیدادوں کا کاروبار

ایف آئی اے نے کراچی میں، منصور کی دہشت گردی کے لیے سرمایہ کاری اور منی لانڈرنگ کی سرگرمیوں کی تفتیش کی جس میں جائیدادوں کا ایک کاروبار بھی شامل ہے جو کہ کئی عرفی ناموں کے تحت چل رہا تھا۔

گزشتہ اگست میں، ایف آئی اے نے دہشت گردی کے لیے سرمایہ کاری اور منی لانڈرنگ، جعل سازی اور املاک کی فراہمی کا جھوٹا لالچ دینے سے تعلق پر منصور کے خلاف بعد از مرگ مقدمہ دائر کیا۔

اسلام آباد میں ایف آئی اے کے انسدادِ دہشت گردی کے ونگ کی طرف سے گزشتہ سال 25 جولائی کو دائر کی جانے والی فرسٹ انفرمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) کے مطابق، ایک تفتیش سے اس بات کا ثبوت ملا کہ منصور کراچی میں جائیداد کے ایک کاروبار کے مالک ہیں۔

ایف آئی اے کی تفتیش کے مطابق، منصور کے پاس دو جعلی پاکستانی شناختی کارڈ اور بینک اکاونٹ تھے اور وہ کراچی میں بہت سی املاک اور زمینوں کے مالک تھے۔

ایف آئی آر میں، اقوامِ متحدہ کی ایک قرارداد جس میں طالبان اور القائدہ کے خلاف پابندیوں کو لازمی قرار دیا گیا تھا، کے حوالے سے کہا گیا کہ "یہ بات ظاہر ہوئی ہے کہ اقوامِ متحدہ (یو این) سیکورٹی کونسل 1267 قرارداد کے تحت نامزد کیے جانے کے باوجود وہ جائیداد کے کاروبار میں ملوث تھا اور بعد میں پتہ چلا کہ وہ چھہ غیر منقولہ جائیدادوں کا مالک تھا"۔

رپورٹ کے مطابق، منصور کی جائیدادوں میں ایک گھر، ایک پلاٹ اور چار فلیٹ شامل ہیں جو کہ کراچی کے پوش علاقوں، گلشنِ معمار، گلزارِ ہجری اور شہید ملت روڈ میں موجود ہیں۔

انہوں نے لائف انشورنس پالیسی میں بھی سرمایہ کاری کر رکھی ہے جس کے لیے انہوں نے پہلے ہی سے 333,000 روپوں (2,160 ڈالر) کی قسطیں ادا کر رکھی ہیں۔

ان تمام املاک کی اس وقت قیمت 100 ملین روپے (649,000 ڈالر) ہے۔

'پوش' زندگی گزارنا

کئی سالوں تک، طالبان کے راہنماؤں نے خود کو اپنے مقصد کے عاجز خدمت گاروں کے طور پر پیش کیا ہے اور پنے کاروباری لین دین کو پوشیدہ رکھنے میں بہت محتاط رہے ہیں۔

تاہم، گزرتے وقت کے ساتھ اس گروہ کی بڑھتی ہوئی مجرمانہ اصلیت، افغانستان کے سب سے بڑے منشیات کے گروہ کے طور پر اس کا کردار، اس کی بھتہ خوری کی اسکیمیوں وغیرہ -- نے اس کے راہنماؤں کو بہت زیادہ مالامال کر رکھا ہے جبکہ اس کے دہشت گردانہ حملوں کے متاثرین اور گروہ کے عام ارکان انتہائی غربت میں زندگی گزار رہے ہیں۔

اعلی طالبان لیڈر جن کے کراچی سے کاروباری تعلقات ہیں، میں دوسروں کے علاوہ، ملا عبدل غنی برادر جو کہ طالبان کے سیاسی نائب اور گروپ کے دوحہ دفتر کے ڈائریکٹر تھے اور امیر معاویہ جو کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں القاعدہ کے عسکریت پسندوں کے رابطہ افسر تھے، شامل ہیں۔

افغان طالبان کے راہنماؤں نے بہت سے کاروباروں میں کثیر سرمایے سے سرمایہ کاری کی ہے جس میں جائیداد کی خرید و فروخت، تعمیراتی کاموں، کان کنی اور ٹرانسپورٹ شامل ہیں اور وہ پاکستان اور خصوصی طور پر کراچی میں ایک مالیاتی نیٹ ورک چلاتے تھے۔ کراچی میں افغان برادری کے بہت سے بزرگوں اور کابل کے تجزیہ کاروں نے اس بات کی تصدیق کی۔

کراچی میں افغان برادری کے ایک بزرگ سمیع اللہ نے کہا کہ طالبان نے پاکستان اور متحدہ عرب امارات میں کاروبار قائم کر رکھے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایسے کاروباروں میں تعمیراتی کام اور ٹرانسپورٹ کے ادارے شامل ہیں جن کے ذریعے منی لانڈرنگ کی جاتی ہے۔

خان نے کہا کہ "بظاہر ان کاروباروں کو افغانستان میں، عسکریت پسندی کی مدد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے مگر طالبان کے بہت سے راہنما خفیہ طور پر ذاتی حثیت میں اپنا کاروبار چلا رہے ہیں"۔

انہوں نے مزید کہا کہ طالبان کے کمانڈر عمومی طور پر پاکستان کے فرنٹ مین کے ذریعے ایسا کرتے ہیں۔

ایک مہاجر، اشرف زادہ جو افغانستان کے ہلمند صوبہ سے، 1990 کی دہائی میں اس وقت ہجرت کر کے کراچی آنے والے مہاجر ہیں، جب طالبان نے علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا تھا، کہا کہ "وہ طالبان منافق اور دھوکے باز ہیں۔ وہ معصوم لوگوں کا استحصال کرنے کے لیے مذہب اور جہاد کا نام استعمال کرتے ہیں مگر حقیقت میں کراچی کے امیر علاقوں میں ذاتی مالی مفادات اور لالچ کے لیے کاروبار چلا رہے ہیں"۔

زادہ نے اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہ وہ اپنے آٹھ افراد پر مشتمل خاندان کو ہلمند میں طالبان کے تشدد سے بچنے کے لیے لائے تھے، کہا کہ "ہم جو ان کے مظالم سے متاثر ہوئے ہیں اور اس شہر کی کچی آبادیوں میں نہایت برے حالات میں رہ رہے ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ "مگر افغان طالبان، غیر قانونی طریقوں سے حاصل کی جانے والی بڑی سرمایہ کاری کو استعمال کرتے ہوئے، ایک پرتعیش زندگی گزار رہے ہیں"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
1
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی