مذہب

پاکستانی میں ہولی کی تقریبات نے امن، بین المذہبی ہم آہنگی کا پیغام بھیجا ہے

ضیاء الرحمان اور شہباز بٹ

image

پشاور میں 10 مارچ کو خواتین ہولی منا رہی ہیں۔ [شہباز بٹ]

image

پشاور میں 10 مارچ کو ایک خاتون ہولی کی تقریبات کے دوران ایک شخص پر رنگ پھینک رہی ہے۔ [شہباز بٹ]

image

پشاور میں 10 مارچ کو ہولی کی تقریبات کے دوران خواتین ایک دوسرے پر رنگ پھینک رہی ہیں۔ [شہباز بٹ]

image

پشاور میں 10 مارچ کو خواتین ہولی منا رہی ہیں۔ [شہباز بٹ]

image

پشاور میں 10 مارچ کو ہولی کی تقریبات کے دوران ایک خاتون رنگ پھینک رہی ہے۔ [شہباز بٹ]

image

پشاور میں 10 مارچ کو ہونے والی ہولی کی تقریبات کے دوران ایک خاتون کو دکھایا گیا ہے۔ [شہباز بٹ]

image

پشاور میں 10 مارچ کو ایک خاتون رنگوں سے "ہولی مبارک" لکھ رہی ہے۔ [شہباز بٹ]

image

پشاور میں 10 مارچ کو ہولی کی تقریبات کے دوران دو خواتین ایک دوسرے پر رنگ لگا رہی ہیں۔ [شہباز بٹ]

اسلام آباد --پاکستان میں ہندو برادری نے 9 مارچ (پیر) کو رنگوں کا تہوار، ہولی منایا۔

یہ تہوار ہندومت کے سب سے محترم اور بڑے پیمانے پر منائے جانے والے تہواروں میں سے ایک ہے اور یہ برائی پر اچھائی کی فتح کی اہمیت اجاگر کرتا ہے۔

ملک بھر میں مندر جن میں پشاور بھی شامل ہے، رنگوں، موسیقی، خوشی اور کھانوں سے بھرے ہوئے تھے۔

پاکستان ہندو کونسل جو کہ ملک میں ہندووں کی نمائندگی کرنے والا غیر سرکاری ادارہ ہے، کے چیرمین اور پارلیمنٹ کے رکن رمیش کمار وانکوانی نے کہا کہ "خصوصی دعائیں مانگی گئیں ۔۔۔ مذہبی راہنماؤں نے اپنے خطبات میں ہولی کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور لوگوں پر زور دیا کہ وہ اچھائی اور برداشت کا راستہ اختیار کریں اور امن کو قائم رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں"۔

image

پاکستانی ہندو برادری کے ارکان پشاور میں 10 مارچ کو ہولی منا رہے ہیں۔ [شہباز بٹ]

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں امن کے قیام کے ساتھ، مذہبی تقریبات جیسے کہ ہولی باقی دنیا کے سامنے پاکستان کی ایک معتدل تصویر کی تشہر کرتی ہیں۔

ملک بھر میں مندروں میں، پاکستانی ہندووں، خصوصی طور پر بچوں نے ایک دوسرے پر رنگ پھینکے۔ باہر پولیس کے دستوں نے سیکورٹی فراہم کی۔

دوسرے مذاہب کے ارکان کی بڑی تعداد، جس میں مسلمان بھی شامل ہیں، نے مندروں کا دورہ کیا تاکہبین المذہبی ہم آہنگیکو فروغ دیا جا سکے۔

وزیراعظم عمران خان نے ٹوئٹر پر پاکستان کو ہولی کی مبارک باد دی اور امید ظاہر کی کہ "یہ تہوار ہماری ہندو برادری کے لیے سکون اور تحفظ کا ذریعہ ہو گا"۔

امن کا پیغام

اسلام آباد میں ترقیاتی شعبے سے تعلق رکھنے والے پیشہ ور ہمیر سنگھ نے کہا کہ گزشتہ کئی سالوں کے دوران، پاکستان کی ہندو برادری امن کی نشانی کے طور پر ہولی منا رہی ہے۔

پاکستان کی مذہبی اقلیتوں کو دہشت گرد گروہوں جیسے کہ تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور "دولتِ اسلامیہ" (داعش) کی طرف سے حملوں کا سامنا رہا ہے۔

مثال کے طور پر ستمبر 2013 میں، پشاور کے آل سینٹس چرچمیں مسیحی برادری کو نشانہ بنانے والے جڑواں بم دھماکوں میں 104 افراد ہلاک اور دیگر 142 زخمی ہو گئے تھے۔

تاہم، پاکستانی حکومت نے دسمبر 2014 میں نیشنل ایکشن پلان (این اے پی) کا آغاز کیا جو کہ انسدادِ دہشت گردی کی حکمتِ عملی ہے جس کا مقصد عسکریت پسندی کا خاتمہ کرنا اور اقلیتوں کی حفاظت کرنا ہے۔

وزارتِ داخلہ نے صوبائی حکومتوں سے کہا کہ وہ اقلیتوں کی عبادت گاہوں اور املاک کا پتہ لگائیں اور ان کی حفاظت کے لیے سیکورٹی کا منصوبہ بنائیں۔

سنگھ نے کہا کہ "قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے عسکریت پسندوں کے خلاف کامیاب مہم اور این اے پی کے نفاذ کے بعد، پاکستان میں غیر مسلمانوں پر حملوں کی تعداد میں قابلِ قدر کمی دیکھی گئی ہے"۔

عسکریت پسند گروہوں کے کمزور ہو جانے کے باجود، نئے مصائب ابھر کر سامنے آئے جن میں "توہینِ رسالت" کے بے بنیاد الزامات سے متعلقہ تشدد اور اقلیتی لڑکیوں کے زبردستی مسلمان کرنا شامل ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرہ
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500