https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/03/05/feature-02
سلامتی

طالبان کے امن معاہدے کو خراب کرنا جاری رکھنے کی صورت میں امریکہ کا مزید انتقامی کارروائیوں کا عزم

پاکستان فارورڈ اور اے ایف پی

image

گزشتہ مارچ میں جنوب مشرقی افغانستان میں امریکہ کے خصوصی کارروائیوں کے شعبے کے ارکان آپریشن ریزولیوٹ سپورٹ کی معاونت کے لیے جنگی کارروائیاں کرتے ہوئے۔ [سینٹکام]

کابل -- بدھ (4 مارچ) کے روز امریکہ فوج کی جانب سے طالبان جنگجوؤں کے خلاف ایک فضائی حملہ کرنے کے بعد ایک امریکی فوجی ترجمان نے کہا ہے کہ امریکی فوج نے طالبان کو خبردار کیا ہے کہ سرکاری افغان افواج کے خلاف مزید کشیدگی کے جواب میں امریکہ کی طرف سے مزید ردِعمل آئے گا۔

امریکی فوج کے افغانستان کے لیے ترجمان سونی لیگیٹ نے ٹویٹ میں کہا کہ فضائی حملے میں ان طالبان جنگجوؤں کو نشانہ بنایا گیا جو ہلمند میں افغانی فوج کی ایک چوکی پر "فعال حملے کر رہے" تھے۔

ٹویٹ میں ان کا کہنا تھا، "یہ حملے کو پسپا کرنے کے لیے ایک دفاعی حملہ تھا"۔

صوبہ ہلمند میں فضائی حملے کی خبر -- جو کہ 11 روز میں پہلی خبر ہے -- افغانستان میں دیرپا امن قائم کرنے کے لیےامریکہ اور طالبان کے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کرنےکے کچھ ہی روز بعد آئی ہے۔

image

طالبان جنگجوؤں کی جانب سے ایک حملے کے بعد 4 مارچ کو افغان سیکیورٹی فورسز صوبہ قندوز میں افغان نیشنل آرمی (اے این اے) کی ایک چوکی پر پہرہ دیتے ہوئے۔ [ایس ٹی آر/ اے ایف پی]

image

ایک امریکی ایف-18 جہاز 23 جنوری 2020 کو افغانستان کے اوپر شعلے چھوڑتے ہوئے۔ امریکہ نے ان طالبان جنگجوؤں کے خلاف ایک فضائی حملہ کیا ہے جو -- حال ہی میں دستخط ہونے والے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے -- افغان فوج پر حملے کر رہے تھے۔ [سینٹکام]

تاہم، دوحا میں معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد سے، جنگجوؤں نے افغان فوج کے خلاف پرتشدد کارروائیاں تیز کر دی ہیں، جس سے کابل اور طالبان کے درمیان 10 مارچ سے شروع ہونے والے امن مذاکرات کے لیے ماحول ناسازگار بن گیا ہے۔

سوموار کے بعد سے، طالبان نے افغانستان کے 34 صوبوں میں سے 16 صوبوں میں درجنوں حملے کیے ہیں۔

لیگیٹ کا کہنا تھا کہ جنگجو گروہ نے صرف منگل (3 مارچ) کے روز ہی ہلمند میں چوکیوں پر 43 حملے کیے۔

نتیجتاً درجنوں دفاعی اہلکار اور شہری ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔

طالبان کے لیے انتباہ

لیگیٹ کا مزید کہنا تھا، "طالبان قیادت نے عالمی برادری کے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ وہ پرتشدد کارروائیوں میں کمی کریں گے اور حملوں میں اضافہ نہیں ہو گا۔ ہم طالبان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بلاضرورت حملے روک دیں اور اپنے وعدوں کی پاسداری کریں۔"

انہوں نے مزید کہا، "جیسا کہ ہم نے مظاہرہ کیا ہے، ہم ضرورت پڑنے پر اپنے ساتھیوں کا دفاع کریں گے۔"

ان کا کہنا تھا، "واضح کرنے کے لیے: ہم امن کے ساتھ عہد بستہ ہیں، تاہم، اپنے [افغان] ساتھیوں کا دفاع کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔"

لیگیٹ نے کہا جبکہ افغان حکومت اور امریکہ نے اپنے معاہدوں کی پاسداری کی ہے، طالبان "اس موقعے کو گنوانے کے متمنی اور عوام کی خواہش کو نظرانداز کرتے نظر آتے ہیں۔"

صوبائی پولیس کے ترجمان محمد زمان ہمدرد نے اے ایف پی کو بتایا، "گزشتہ دو دنوں میں، ہم نے ہلمند میں طالبان کے شدید ترین حملے دیکھے ہیں۔"

ان کا مزید کہنا تھا، "انہوں نے کئی اضلاع پر اور بہت سی فوجی چھاؤنیوں پر حملہ کیا ہے۔"

سرکاری حکام نے بدھ کے روز اے ایف پی کو بتایا کہ کسی اور جگہ، باغیوں نے دیگر صوبوں میں رات بھر کے حملوں کے ایک سلسلے میں کم از کم 20 افغان فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کو ہلاک کر دیا۔

صوبائی کونسل کے ایک رکن، صفی اللہ امیری نے کہا، "گزشتہ شب قندوز کے ضلع امام صاحب میں طالبان جنگجوؤں نے کم از کم تین فوجی چوکیوں کو حملے کا نشانہ بنایا، جس میں کم از کم 10 فوجی اور چار پولیس اہلکار ہلاک ہوئے"۔

وزارتِ دفاع کے ایک اہلکار جنہوں نے گمنامی کی شرط پر اے ایف پی سے بات کی انہوں نے مرنے والے فوجیوں کی تصدیق کی، جبکہ صوبائی پولیس کے ترجمان ہجرت اللہ اکبری نے پولیس کی اموات کی تصدیق کی۔

گورنر کے ترجمان زرگئی عبادی نے اے ایف پی کو بتایا کہ باغیوں نے منگل کی رات صوبہ اروزگان میں پولیس پر بھی حملہ کیا جس میں چھ پولیس افسران ہلاک اور سات زخمی ہوئے۔

امن کے لیے 'راستہ'

افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج کے کمانڈر، امریکی جنرل سکاٹ ملر نے منگل کے روز کابل میں افغان فوج کے ساتھ ایک ملاقات میں کہا کہ طالبان کے ساتھ معاہدہ ابھی نازک ہے۔

تولو نیوز نے ملر سے منسوب بیان میں کہا کہ طالبان نے افغان افواج کے خلاف پرتشدد کارروائیوں میں اضافہ کر دیا ہے "جس سے معاہدہ خطرے میں پڑ گیا ہے"۔ "بصورتِ دیگر ایک معاہدہ ہونا بہت مشکل ہے۔"

اسے امن کی طرف ایک اہم "راستہ" قرار دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا، "افغانستان بھر میں پرتشدد کارروائیوں میں کمی کا عرصہ افغان عوام کے لیے ایک اہم عرصہ تھا۔"

انہوں نے مزید کہا، "تمام فریقین ۔۔۔ کا فرض ہے کہ یقینی بنائیں کہ راستہ قابلِ حصول ہو۔ ہم نے افغان سیکیورٹی فورسز کے ساتھ تحمل کا مظاہرہ کیا ہے، اور ہم نے اس لیے تحمل کا مظاہرہ کیا ہے کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ یہ افغان عوام کی مرضی ہے۔"

ملر نے کہا کہ اگر طالبان اپنے فرائض سے پہلوتہی کرتے ہیں، "ہمارے پاس ضروری ردِ عمل موجود ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قوتیں افغان فوج کی معاونت جاری رکھیں گی۔

انہوں نے کہا، "ہم فضائی تعاون بھیجیں گے جب انہیں [افغان فوج کو] اس کی ضرورت ہو گی۔۔۔ وہ معاونت جاری ہے، اور ہم افغان سیکیورٹی فورسز کا دفاع کرنا جاری رکھیں گے۔"

طالبان کی غلط تشریح

امن معاہدے کی شرائط کے تحت، طالبان کی سلامتی کی ضمانتوں اور باغیوں کی جانب سے کابل میں قومی حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنے سے مشروط، امریکی اور دیگر افواج 14 ماہ کے اندر اندر افغانستان سے نکل جائیں گی۔

طالبان نے امریکہ-طالبان معاہدے میں بیان کردہ 5،000 طالبان قیدیوں کی افغان حکومت کی جانب سے رہائی سے انکار پر سوشل میڈیا کے اوپر ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔

باغیوں کے بار بار دعووں کے برعکس، معاہدے کے الفاظ بیان کرتے ہیں کہ قیدیوں کا تبادلہ "تمام متعلقہ فریقین کے تعاون اور منظوری" پر منحصر تھا۔

معاہدے میں بیان کیا گیا ہے، "امریکہ تمام متعلقہ فریقین کے ساتھ مل کر فوری طور پر ایک منصوبے پر عمل کرنے کا عہد کرتا ہے جو تمام فریقین کے تعاون اور منظوری میں اعتماد سازی کے ایک اقدام کے طور پر جنگی اور سیاسی قیدیوں کو تیزی کے ساتھ رہائی دیتا ہے۔"

صدر اشرف غنی نے، معاہدے میں بیان کردہ اپنے حق میں رہتے ہوئے، 1 مارچ کو اس مخصوص نکتے پر افغانستان کے باہمی مذاکرات کی شرط کے طور پر عمل کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس کی بجائے ان کا کہنا تھا کہ قیدیوں کے تبادلے پر گفتگو مذاکرت شروع ہو جانے کے بعد ہونی چاہیئے۔

غنی کے مؤقف کی حمایت میں، کابل کے مقامی عسکری امور کے تجزیہ کار، اسداللہ ولولجی نے کہا، "اول، طالبان کے اپنے بیانات اور افعال میں بے ایمان ہونے کے ریکارڈ کے پیشِ نظر، افغانوں کے مابین امن معاہدے سے قبل ہزاروں طالبان قیدیوں کی رہائی غیر منطقی اور غلط ہے۔"

انہوں نے کہا، "دوم، طالبان کا امریکہ کے ساتھ امن معاہدہ براہِ راست یہ بیان نہیں کرتا کہ معاہدے کے بعد طالبان قیدیوں کو رہا کر دیا جائے گا۔ یہ کہتا ہے کہ طالبان قیدیوں کی رہائی ملوث فریقین کے ساتھ تعاون کی صورت میں ہو گی۔ افغان حکومت کے ساتھ جنگ کی ایک سمت کے طور پر تعاون لازمی ہے۔"

ان کا کہنا تھا، "امریکہ کے ساتھ امن معاہدے کی تشریح کرتے ہوئے، طالبان چاہتے ہیں کہ وہ اپنی عسکری صفوں کو مضبوط کرنے کے لیے افغان جیلوں سے اپنے ارکان کو رہا کروا لیں۔"

گزشتہ ہفتے افغان حکومت نے باغیوں کے ساتھ "ابتدائی روابط" کو کھولنے کے لیے ایک وفد کو قطر روانہ کیا تھا، مگر طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے منگل کے روز کہا کہ جنگجو کابل کے نمائندوں کے ساتھ اپنے قیدیوں کی رہائی کی بات کرنے کے علاوہ ملاقات نہیں کریں گے۔

اسلام سے متصادم

کابل شہر کے ایک مکین، محمد زبیر نے کہا، "پرتشدد کارروائیوں میں ایک ہفتہ طویل کمی اور طالبان کے ساتھ امریکہ کے معاہدے نےہمیں امن اور جنگ بندی کی امید دلائی تھی، مگر بدقسمتی سے طالبان نے معاہدے کے برعکس کام کیا ۔۔۔ اور افغان فوج اور عام شہریوں پر اپنے حملوں میں اضافہ کر دیا۔"

زبیر نے مزید کہا، "ایک ہفتے پرتشدد کارروائیوں میں کمی کے بعد دوبارہ اعلانِ جنگ کر کے، طالبان نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ اپنے وعدے پورے نہیں کر رہے اور وہ افغانستان میں امن ہونے اور جنگ کے خاتمے کے خواہش مند نہیں ہیں۔"

کابل میں ایک عالمِ دین، محمد سالم حسنی نے کہا، "افغانوں کو توقع تھی کہ طالبان پرتشدد کارروائیوں میں کمی کے عرصے کو وسیع کریں گے اور فساد دوبارہ شروع نہیں کریں گے۔"

ان کا کہنا تھا، "لیکن بدقسمتی سے، طالبان نے ایک بار پھر -- اسلام کے برعکس اور افغان عوام کی مرضی کے خلاف -- فساد دوبارہ شروع کر دیا اور افغان افواج اور عوام کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیا۔"

حسنی نے مزید کہا، "افغان فوج، جو کہ سبھی مسلمان ہیں، کے خلاف جنگ حرام ہے۔"

[کابل سے سلیمان نے اس رپورٹ میں حصہ لیا۔]

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 1
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 حروف باقی ہیں (حد 1500 حروف)

کافر کے صف میں مسلمان بھی ہو اسے قتل کرنے میں کوئی حرج نہیں

جواب