https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/08/30/feature-02
| مذہب

سیاحت میں بڑھوتری کے درمیان بدھ یاتریوں کی خیبرپختونخوا کی یاترا

از عدیل سعید

image

ایک جنوبی کوریائی بھکشو 26 اگست کو پشاور کے عجائب گھر میں نمائش پر رکھے گئے بدھ کے مجسموں کو دیکھتے ہوئے۔ [عدیل سعید]

image

خیبرپختونخوا کا دورہ کرنے والی ایک مہماتی ٹیم کے ایک رکن پشاور کے عجائب گھر میں بدھ مت کے آثار کی تصاویر بناتے ہوئے۔ [عدیل سعید]

image

بدھ یاتریوں، محققین اور سفارتکاروں پر مشتمل جنوبی کوریا کے باشندوں کی ایک مہماتی ٹیم کے ارکان نے کے پی کے اپنے چار روزہ دورے کے دوران پشاور عجائب گھر کے مختلف حصوں کی سیر کی۔ [عدیل سعید]

image

جنوبی کوریا سے تعلق رکھنے والے بدھ بھکشو خیبرپختونخوا کی اپنی چار روزہ وراثتی سیر کے دوران پشاور عجائب گھر کے ایک حصے کا دورہ کرتے ہوئے۔ [عدیل سعید]

پشاور -- خیبرپختونخوا (کے پی) کی مذہبی مصنوعات -- بہتر سیکیورٹی کے ساتھ -- خطے میں زیادہ سے زیادہ غیر ملکی سیاحوں، بشمول جنوبی کوریا کے بدھ یاتریوں کو اپنی طرف راغب کرنے میں مدد کر رہی ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ بدھ یاتریوں، محققین اور سفارتکاروں پر مشتمل جنوبی کوریا کے باشندوں کی ایک ٹیم کی جانب سے چار روزہ دورہ بطور وراثتی سیر نےعلاقے کی مذہبی سیاحت کی بھرپور صلاحیت کو نمایاں کیا ہے، جو کہ آثارِ قدیمہ کے تقریباً 6،000 مقامات پر مشتمل ہے۔

کے پی کے وزیر برائے سیاحت عاطف خان، جنہوں نے سوموار (26 اگست) کو گروپ کا پشاور کے عجائب گھر میں استقبال کیا تھا، نے کہا کہ اتوار سے بدھ (28-25 اگست) تک جنوبی کوریائی باشندوں کا دورہ ظاہر کرتا ہے کہ "پاکستان دنیا بھر میں سیاحوں کے لیے ایک ترجیحی منزل ہے۔"

image

بدھ بھکشو 25 اگست کو پشاور کے عجائب گھر میں بدھ کے مجسمے کے سامنے عبادت کرتے ہوئے۔ [عدیل سعید]

انہوں نے مزید کہا کہ یہ امن و امان کی صورتحال بہتر ہونے پر علاقے کی سیر کرنے کے لیے بین الاقوامی سیاحوں کے اعتماد کی بحالی کی عکاسی بھی کرتا ہے۔

کے پی میں ایسے مقامات کبھی تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے زیرِ اثر تھے، جو سیاحوں کو سیر کے لیے آنے سے روکتی تھی اور دسیوں ہزاروں مقامی باشندوں کو علاقے سے بھاگنے پر مجبور کرتی تھی۔

فوجی آپریشنوں اور ساتھ ہی ساتھحکومت کی جانب سے کیے جانے والے کئی اقدامات نےصوبے میں امن کی بحالی میں مدد دی ہے۔

مہم کی سربراہی پاکستان میں جنوبی کوریا کے سفیر کواک سونگ کیو کر رہے تھے۔ دیگر ارکان میں بھکشو، محققین اور سیول میں ڈونگوک یونیورسٹی کے پروفیسر شامل تھے۔

ٹیم نے دورِ جدید کے کے پی میں گندھارا، بدھ تہذیب (1500 قبل مسیح تا 535 قبل مسیح) کے مختلف تاریخی مقامات، اور صوبہ پنجاب میں ٹیکسلا کے آثارِ قدیمہ کی سیر کی۔

گندھارا کے آثارِ قدیمہ

کوریا کی مہماتی ٹیم نے پشاور کے عجائب گھر میں بدھ کے مجسموں کو دیکھ کر خوشی کا اظہار کیا۔ ان میں سے چند ایک نے مذہبی رسومات ادا کیں۔

پشاور کے عجائب گھر میں گندھارا فن کے نمونوں کا دنیا میں اہم ترین اور سب سے بڑا انتخاب موجود ہے۔ اس میں بدھ مت کے پتھر کے مجسمے اور پینل نیز آثارِ قدیمہ کے عناصر شامل ہیں۔

سیر کے لیے آنے بھکشوؤں میں سے ایک، لم ان یوانگ نے کہا، "ہمیں پشاور کے عجائب گھر میں بدھ مت کے آثار کو دیکھ کر بہت خوشی ہوئی ہے، جو کہ ہمارے لیے تعظیم کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہیں۔"

لم نے مزید کہا، "بدھ مت کی ان گنت آثارِ قدیمہ کی املاک کے درمیان موجود ہونا میرے لیے ایک خواب کا حقیقت بننا ہے۔"

وفد کے ایک اور رکن، کم چیونگ جن نے کہا، "ہم کے پی سے توقع نہیں کر رہے تھے کہ یہ بدھ مت کے آثارِ قدیمہ کو سنبھالنے میں اس قدر زرخیز ہو گا، جو مذہب کے بہت بڑی تعداد میں پیروکاروں کو علاقے کی طرف راغب کر سکتا ہے۔"

سفیر کواک نے کہا، "اپنے منفرد عالمی ورثے، خصوصاً گندھارا تہذیب کے بطور دلچسپی کا بنیادی وسیلہ،پاکستان کوریا کے بدھ یاتریوں کے لیے ایک پرکشش منزل ہوگا۔"

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور کوریا کے درمیان ثقافتی روابط کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ کوششیں کامیاب ہو سکتی ہیں۔

عجائب گھر کی سیر کے موقع پر انہوں نے صحافیوں کو بتایا، "بدھ مت کے مشترکہ ورثے کے ذریعے پاکستان اور کوریا تاریخ میں گہرائی سے پیوست ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا کہ جنوبی کوریا کا بدھ مت کا سب سے بڑا فرقہ، جوگیئے آڈر، نومبر میں پاکستان، بشمول کے پی، میں آثارِ قدیمہ کے مقامات دیکھنے کے لیے ایک وفد بھیجے گا۔

وزیرِ سیاحت، عاطف خان نے کہا، "خیبرپختونخوا کے حکام مذہبی سیاحت کو فروغ دینا چاہتے ہیں کیونکہ صوبے میں خانقاہوں، مقدم مقامات اور بدھ کے مجسموں کے ایک انتخاب سمیت آثارِ قدیمہ کے 6،000 مقامات ہیں۔"

انہوں نے یہ کہتے ہوئے جنوبی کوریا کے ساتھ کے پی کے قدیم تعلق کو اجاگر کیا کہ ضلع صوابی کے ایک گاؤںچھوٹا لاہورسے ایک بھکشو مارالاندا (ماراناتھا)، چوتھی صدی عیسوی میں چین کے راستے کوریا گیا تھا اور وہاں بدھ مت کی تبلیغ کی تھی۔

وزیر نے مزید کہا کہ ایک کورین بھکشو، ہائیکو، نے بھی ایک قدیم راستے سے گندھارا کا سفر کیا تھا اور یہاں بدھ مت کا مطالعہ کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا بدھ مت کے لیے ایک مقدس مقام ہے اور وہ بغیر کسی خوف کے کسی بھی وقت یہاں کی سیر کر سکتے ہیں اور عبادت کر سکتے ہیں۔

سیاحت کے فروغ کے لیے کیے گئے اقدامات کو اجاگر کرتے ہوئےاور بین الاقوامی برادری کو کے پی کی زرخیز ثقافتی صلاحیت سے آگاہ کرتے ہوئے، ڈاکٹر عبدالصمد، جو کہ کے پی کے ڈائریکٹر برائے آثارِ قدیمہ اور عجائب گھر ہیں، نے کہا کہ کے پی حکومت نے پشاور عجائب گھر سے 42 مصنوعات جنوبی کوریا بھیجی تھیں۔

انہوں نے کہا، "خیبرپختونخوا اور جنوبی کوریا کا تقریباً 1،600 سال پرانا مذہبی تعلق ہے جسے دوبارہ قائم کرنے کی ضرورت ہے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
6
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha