https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/08/22/feature-02
| سیاست

قبائلی ضلع میں جو یو آئی -ایف کی طرف سے اقلیتی خاتون کی نامزدگی 'تاریخی' پیش رفت

عدیل سید

image

گھریلو خاتون، ثریا بی بی جو کہ سماجی خدمت کا پس منظر بھی رکھتی ہیں، 15 جولائی کو لنڈی کوتل کے علاقے میں، 20 جولائی کو ہونے والے انتخابات کی مہم کے حصہ کے طور پر، ایک ووٹ دہندہ کے ساتھ بات کر رہی ہیں۔ [عدیل سید]

پشاور -- جمعیت علمائے اسلام فضل (جے یو آئی -ایف) کی طرف سے حالیہ انتخابات میں، سابقہ قبائلی ضلع سے، ایک خاتون امیدوار کی نامزدگی کو مشاہدین کی طرف سے، خواتین کو خودمختار بنانے کے طور پر، سراہا گیا ہے۔

جے یو آئی -ایف، جس کی قیادت مولانا فضل الرحمان کرتے ہیں، پاکستان کی سب سے بڑی مذہبی جماعت ہے، نے لنڈی کوتل، خیبرپختونخواہ ضلع سے تعلق رکھنے والی 45 سالہ عیسائی خاتون، ثریا بی بی کو پارٹی ٹکٹ دی۔ وہ 20 جولائی کو منعقد ہونے والے قبائلی ضلعی انتخابات میں خیبر پختونخواہ (کے پی) اسمبلی میں اقلیتوں کے لیے مختص ایک نشست پر انتخاب لڑ رہی تھیں۔

اگرچہ جے یو آئی -ایف، بی بی کی طرف سے نشست کو جیتنے کے لیے درکار اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہیں، مگر مشاہدین اور انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں نے، ان کی نامزدگی کو، پاکستان بھر میں جمہوریت کو مضبوط بنانے اور خواتین کو خودمختار بنانے پر سراہا ہے۔

سابقہ وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) کے لیے جے یو آئی -ایف کی شاخ کے سینئر وائس پریذیڈنٹ مفتی اعجاز شینواری نے کہا کہ "ثریا بی بی کا ہمارا انتخاب اس یقین پر تھا کہ خواتین کے مسائل زیادہ پیچیدہ ہیں اور انہیں کوئی خاتون ہی بہتر طریقے سے حل کر سکتی ہے"۔

شینواری نے اگست میں کہا تھا کہ "ہماری جماعت عوام کی خدمت پر یقین رکھتی ہے اور امیدواران کا انتخاب سب سے بہتر شخص کو سامنے رکھتے ہوئے کیا جاتا ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ بی بی کو سب سے زیادہ مناسب امیدوار تصور کیا گیا کیونکہ اقلیتی برادری کو درپیش مسائل کو حل کرنے کے علاوہ، ان سے قبائلی اضلاع کی خواتین کا فائدہ ہو سکتا تھا۔

مفتی نے کہا کہ جے یو آئی- ایف میں صوبہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والی آسیہ ناصر مسیح بھی شامل ہیں جو کہ قومی اسمبلی میں اقلیتیوں کے لیے مخصوص نشست رکھنے والی خاتون ہیں۔

خواتین کی مدد

بی بی نے کہا کہ جب انہوں نے ٹکٹ کے لیے درخواست دی تو، انہیں فکر تھی کہ آیا جماعت کی قیادت ان کی خواہش پر غور کرے گی یا نہیں۔

بی بی جو کہ سماجی خدمت کا پش منظر رکھنے والی گھریلو خاتون ہیں، نے کہا کہ کے پی کی اسمبلی کے لیے انتخاب لڑنے کے لیے ان کے فیصلے کا مقصد، علاقے اور خصوصی طور پر خواتین کے مسائل حل کرنا تھا۔

اگرچہ وہ اس دوڑ میں ہار گئیں، مگر بی بی کا کہنا ہے کہ وہ اپنی پارٹی کی قیادت کی شکرگزار ہیں جس نے ان کی مدد کی اور کہا کہ یہ لوگوں کا فیصلہ تھا۔

کے پی کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن (کے پی سی ایس ڈبلیو) کی پروگرام ڈائریکٹر آمنہ درانی نے کہا کہ "مذہبی جماعت کی طرف سے ایک خاتون کو اقلیتی نشست کے لیے منتخب کرنا قبائلی اضلاع میں ایک تاریخی پیش رفت ہے اور اس کے خواتین کو خودمختار بنانے پر بہت اچھے اور دیرپا اثرات ہوں گے"۔

آمنہ نے کہا کہ بی بی کی امیدوارگی نے "خواتین تک مواقع اور اعتماد پہنچایا ہے کہ وہ ایسے علاقے کے سخت معمول سے مطابقت رکھتے ہوئے، آسانی سے اپنی آواز اٹھا سکیں، جہاں خواتین کو مردوں سے رابطہ رکھنے کی نہ تو اجازت ہے اور نہ ہی اس کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے"۔

آمنہ کے مطابق، مرد سیاست دان زیادہ تر دوسرے مردوں سے ہی رابطہ کرتے ہیں، جبکہ خواتین اکثر مردوں اور عورتوں دونوں سے ہی ملتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جے یو آئی -ایف کی طرف سے خاتون امیدوار کو موقع دینے نے علاقے میں خاتون ووٹ دہندگان کو متحرک کیا ہے۔

پشاور سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی وسیم احمد شاہ، جو عدالت اور انتخابی رپورٹنگ پر توجہ مرکوز کرتے ہیں، نے کہا کہ "مذہبی جماعت کی طرف سے خاتون امیدوار کو پارٹی کا ٹکٹ دینا نہ صرف قابلِ تعریف بلکہ علامتی ہے"۔

شاہ نے کہا کہ خاتون امیدوار کو ٹکٹ دینے سے انتخابات میں، خاتون ووٹ دہندگان کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

شاہ نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ قبائلی انتخابات میں خواتین کا ٹرن آوٹ 18.6 فیصد تھا جبکہ مردوں کا ٹرن آوٹ 31.4 فیصد تھا۔

انہوں نے کہا کہ یہ بات بہت حوصلہ افزاء ہے کہ 210,626 خواتین نے، قبائلی اضلاع میں، کے پی اسمبلی کی نشستوں کے لیے ہونے والے انتخابات میں پہلی بار، ووٹ ڈالا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ووٹ دہندگان کی تعداد میں وقت کے ساتھ اضافہ ہو گا۔

شاہ نے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ مزید خواتین، امیدوار اور شرکاء دونوں کے طور پر مقامی حکومتی انتخابات میں حصہ لیں۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
2
نہیں
تبصرے 1
تبصرہ کی پالیسی
Captcha

#Bhut Acha #Iqdam hai #Worto kilai

جواب