https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/07/26/feature-01
| صحت

ریڈ کراس نے نگہداشت صحت کے عملہ کے تحفظ کے لیے مہم کا آغاز کر دیا

اشفاق یوسفزئی

image

بین الاقوامی کمیٹی برائے ریڈ کراس (ICRC) نے 23 جولائی کو اسلام آباد میں نگہداشت صحت کے کارکنان کے خلاف تشدد کے واقعات کو کم کرنے کے لیے ایک مہم کا آغاز کیا۔ [ICRC]

اسلام آباد – بین الاقوامی کمیٹی برائے ریڈ کراس (ICRC) نے ہسپتالوں میں نگہداشت صحت کے کارکنان کے خلاف تشدد کو کم کرنے اور عملہ کے تحفظ اور مریضوں کے بہتر علاج کو یقینی بنانے کے لیے ایک مہم کا آغاز کیا۔

ریاستی وزیر برائے صحت کی قومی خدمات، ضوابط اور تعاون ڈاکٹر ظفر اقبال مرزا نے کہا کہ یہ اقدام اس لیے کیا گیا کہ کارکنانِ نگہداشت صحت ہسپتالوں میں داخل افراد کے عزیزواقارب کی جانب سے حملوں کے زیادہ زدپزیر ہو گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس مسئلہ کا عمومی طور پر مشاہدہ کیا گیا ہے اور یہ بڑھ رہا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے اس کی انسداد کے لیے کچھ نہیں کیا۔

مرزا نے منگل (23 جولائی) کو "بھروسہ کریں" کے نام سے اس اقدام کے آغاز کے لیے اسلام آباد میں منعقدہ ایک روزہ ورکشاپ میں کہا، "یہ نگہداشت صحت فراہم کنندگان کو احترام دینے اورہمارے ہسپتالوں میں بہتر خدمات کی فراہمی میں کردارادا کرنے کے لیے ایک شاندار اقدام ہے۔"

اس مہم کا مقصد نگہداشت صحت خطرے میں (HCiD) کے نام سے ایک وسیع تر عالمی کاوش کے جزُ کے طور پر پاکستان میں مسائل کی جانب توجہ مبذول کرانا ہے۔

پاکستان میں ICRC کے وفد کی سربراہ دراگانا کوجِک نے کہا کہ تشدد کے ایسے واقعات کارکنان کے ساتھ ساتھ نگہداشت موصول کرنے والے مریضوں کو بھی متاثر کرتے ہیں۔

انہوں نے تقریب کے دوران کہا، "نگہداشت صحت میں تشدد انسانیت کے لیے ایک چیلنج ہے جو نگہداشت صحت کی خدمات تک رسائی اور ان کی فراہمی کی بیخ کنی کرتا ہے اور بیماریوں کی انسداد اور خاتمہ کے لیے ضرر رساں ہے۔"

عوامی برتاؤ میں تبدیلی

اس مہم کے جزُ کے طور پر ہسپتالوں میں تشدد کے نتائج ٹی وی، ریڈیو اور سوشل میڈیا پر نشر کیے جائیں گے۔

کوجِک نے کہا، "ہمیں مریضوں کے رشتہ داروں سے پیشہ وران کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے نگہداشت صحت کی تنصیبات پر عوامی برتاؤ میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔"

پاکستان میں ICRC کی ایک ترجمان رمشہ قریشی نے کہا کہ گزشتہ برس ICRC کی جانب سے کی جانے والی ایک تحقیق سے معلوم ہوا کہ نگہداشت صحت کے کارکنان کو اکثر مریضوں کے اہلِ خانہ کی جانب سے حملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور انہوں نے طبّی تنصیبات پر ان افعال کے خاتمہ کے لیے مؤثر اقدامات تجویز کیے۔

46 صفحوں پر مبنی اس تحقیق کے مطابق، ایسے حملے طبّی عملہ کے ملازمت ترک کرنے کی بنیادی وجہ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتِ حال ایک بے ترتیب ماحول پیدا کرتی ہے، جس سے نگہداشت صحت فراہم کنندگان کے لیے موزوں ترین نگہداشت فراہم کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

خیبرپختونخوا کے سیکریٹری صحت ڈاکٹر سیّد فاروق جمیل نے ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ قانون سازوں نے ہسپتالوں کے عملہ کے تحفظ کے لیے ایک مسودہٴ قانون تیار کیا ہے۔

انہوں نے کہا، "نگہداشت صحت میں تشدد سے نمٹنا ایک کثیر جہتی ردِّ عمل بشمول تجزیہٴ مسائل، قانون سازی اور ان قوانین کے فروغ اور عملی مداخلت، وکالت اور آگاہی کا متقاضی ہے۔رویّوں میں تبدیلی پر اثرانداز ہونے کے لیے تمام فریقین کی جانب سے مستحکم کاوشیں نگہداشت صحت کے بہتر تحفظ کی یقین دہانی کے لیے کلیدی ہیں۔"

توقعات اور حقیقت میں اختلاف

پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ڈائریکٹر برائے ہنگامی نگہداشت ڈاکٹر حامد شہزاد نے کہا کہ ایک مثال یہ ہے کہ ہسپتالوں میں جب مریضوں کو ویل چیئر یا ٹرالی نہیں ملتی تو ان کے مشتعل اہلِ خانہ اور دوست بھڑک اٹھتے ہیں۔

انہوں نے کہا، "توقعات اور زمینی حقائق۔۔۔ میں مطابقت نہیں۔"

اگرچہ پاکستان میں بہتر سیکیورٹی نے دہشتگردی کے خاتمہ میں مدد کی ہے، تاہم اب بھی نگہداشت صحت کےکارکنان اور طبی ادارے خود کش حملوں اور دہشتگردی کی دیگر کاروائیوں کے بعد آنے والے متعدد مریضوں کی وجہ سے گنجائش سے زیادہ مصروف ہوتے ہیں، جس سے عملہ کے لیے اضافی تناؤ پیدا ہوتا ہے اور معیاری خدمات کی دستیابی میں رکاوٹ آتی ہے۔

حامد نے کہا، "ہمارے پاس بم حملوں، سڑک کے حادثوں، گولیاں لگنے اور دیگر بیماریوں کے متاثریں آتے ہیں، جس سے نگہداشت صحت کے کارکنان نہایت مصروف رہتے ہیں۔ ان حالات میں، مریضوں کے [اہلِ خانہ اور عزیزواقارب] اطمینان بخش ردِّ عمل نہ ملنے پر مایوس ہو کر تشدد کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
0
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha