https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2018/11/14/feature-01
صحت |

خیبرپختونخوا میں نگہداشت صحت کے منصوبہ کی قبائلی پٹی تک توسیع

اشفاق یوسفزئی

image

یکم نومبر کو مفت علاج کے لیے اندراج کے لیے، ایک قبائلی شخص پشاور، خیبر پختونخوا میں خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں اپنا صحت انصاف کارڈ (ایس آئی سی) وصول کر رہا ہے۔ [اشفاق یوسفزئی]

پشاور – حکومتِ خیبرپختونخوا (کے پی) نے حال ہی میں غریب تر باشندوں کو مفت نگہداشت صحت فراہم کرنے والے اپنے صحت سہولت پروگرام (ایس ایس پی) میں نو انضمام شدہ قبائلی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ کیا۔

کے پی کے وزیرِ صحت ہاشم انعام اللہ خان نے 8 نومبر کو پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "ہم نے اس منصوبہ کو سابقہ فاٹا [وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات] کے خطے تک توسیع دینے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ہم شمالی اور جنوبی وزیرستان کے اضلاع کے باشندوں کو مفت نگہداشت صحت پیش کر سکیں۔"

2017 میں صوبہ کے پی میں شروع ہونے والے ایس ایس پی نے آبادی کے 69 فیصد کو مفت نگہداشت صحت کا استحقاق دیا۔ اب تک 148,000 مریضوں کا 110 معیّنہ سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں علاج کیا گیا۔ اس منصوبے کے آغاز سے اب تک حکومتِ کے پی نے 30 ملین ڈالر (4 بلین روپے) صرف کیے۔

یہ منصوبہ کے پی میں کل 2.4 ملین خاندانوں کو کور کرتا ہے، جہاں ایک خاندان کے آٹھ ارکان تک طبّی خدمات موصول کرنے کے مستحق ہیں۔

خان نے کہا، "شمالی اور جنوبی وزیرستان کے اضلاع اس لیے منتخب کیے گئے ہیں کیوں کہ وہ دہشتگردی سے تباہ حال ہیں۔"

علاج تک رسائی میں بہتری

وفاقی وزیرِ صحت عامر کیانی کے مطابق، اس اقدام سے کے پی کی شرحِ فیصد کی طرح دونوں اضلاع کی 69 فیصد آبادی مستفید ہو گی۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کارکنان ایس ایس پی کے ممکنہ استفادہ کنندگان کی نشاندہی کے لیے سروے کر رہے ہیں، جہاں ہر [اہل] خاندان کو ایک صحت انصاف کارڈ (ایس آئی سی) ملے گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ اعداد و شمار نیشنل ڈیٹابیس رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے ساتھ منسلک کیے جائیں گے تاکہ اس امر کو یقینی بنایا جا سکے کہ دہشتگردوں کے ساتھ روابط رکھنے والے خدمات سے استفادہ نہ کر سکیں۔

کیانی نے کہا، "دہشتگردوں کو معالجہ فراہم کرنا قومی ایکشن پلان کے خلاف ہے؛ لہٰذا ہر شخص کے بارے تفصیلات نفاذِ قانون کی ایجنسیوں کو دی جائیں گی۔"

2017 کی مردم شماری کے مطابق، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان کی آبادی بالترتیب 543,254 اور 679,185 ہے۔

کیانی نے کہا، "ہم اس منصوبے کے نفاذ کے لیے ایک حکمتِ عملی وضع کر رہے ہیں۔ ہم بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی جانب سے فراہم کیے گئے اعداد و شمار کی بنیاد پر استفادہ کنندگان کو منتخب کریں گے، اور یومیہ 4 ڈالر [535 روپے] سے کم آمدنی والے تمام خاندانوں کو شامل کیا جائے گا۔"

کے پی کے ہیلتھ سروسز کے ڈائریکٹر جنرل ارشد خان نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "ہم سابقہ فاٹا میں اس پروگرام کا نفاذ کریں گے۔۔۔ اور وہاں صحت کی تنصیبات کی تجدید کریں گے۔ مریضوں کو اعلیٰ پائے کے سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں خدمات حاصل ہوں گی۔"

انہوں نے کہا کہ قبائلی آبادی عسکریت پسندوں کے ہاتھوں متاثر ہوئی، جنہوں نے نہ صرف صحت اور تعلیم کی تنصیبات کو تباہ کیابلکہ طبی عملہ کو قتل کیا اور پولیو جیسی بیماریوں کے خلاف ویکسین حاصل کرنے والے خاندانوں کو دھمکیاں دیں۔

خان نے کہا کہ ایس ایس پی کے ذریعے مقامی باشندے اپنی مرضی کے کے پی کے ہسپتالوں میں معیاری علاج حاصل کر سکیں گے۔

جنوبی وزیرستان میں ایک نجی معالج ڈاکٹر جواد علی نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایس ایس پی کے پی میں کامیاب ثابت ہوا اور یہ کہ انہیں امّید ہے کہ قبائل کے ارکان باسہولت علاج حاصل کر سکیں گے۔

انہوں نے کہا، "یہاں اکثر باشندے زیادہ لاگت اور پشاور کی جانب سفر کرنے کی ضرورت کی وجہ سے خصوصی علاج کی استطاعت نہیں رکھتے، لیکن اب وہ امیروں جیسی سہولیات حاصل کر سکیں گے۔"

علی نے مزید کہا کہ مفت علاج کے ساتھ ساتھ خاتون مریضوں کو پشاور تک سفر کرنے کی لاگت کے لیے 40 ڈالر [5,300 روپے] ملیں گے۔

دہشتگردی کو ایک مفید ردِّ عمل

میرعلی، شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے ایک ڈینٹل سرجن ڈاکٹر عبدالکریم نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کی طویل لہر نے سابقہ فاٹا میں نگہداشت صحت کو بری طرح سے متاثر کیا ہے۔

انہوں نے کہا، "ہمارے پاس صحت کی 979 تنصیبات اور 8,796 عملہ کے ارکان ہیں، لیکن ملازمین، بطورِ خاص خواتین اور ماہرین [سیکیورٹی جوہات کی بنا پر] یہاں کام کرنے سے جھجک رہے تھے،" انہوں نے مزید کہا، "ایس ایس پی مقامی آبادی کے لیے ایک نعمت اور دہشتگردی کے خلاف کھڑے ہونے کا انعام ہے۔"

انہوں نے کہا کہ سابقہ فاٹا میں خواتین اور بچوں کے لیے صحت کی صورتِ حال نہایت نازک ہے، لیکن ایس آئی سیز کی تقسیم سے خواتین، بچوں اور دیگر ہسپتالوں میں علاج حاصل کرسکیں گے۔

سابقہ فاٹا ہیلتھ ڈائریکٹر ڈاکٹر پرویز خان نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام کا مقصد عوام اور نگہداشت صحت کے نظام کے خلاف عسکریت پسندوں کے حملوں کے مسئلہ کو حل کرنا ہے۔

خان نے کہا، "عسکریت پسندوں کی جانب سے پیدا کی گئی اس صورتِ حال سے سات قبائلی اضلاع کے 6 ملین سے زائد باشندے شدید متاثر ہوئے ہیں۔ صحت کی سہولیات کی فراہمی میں خلل ڈالنے کی خواہش رکھنے والے عسکریت پسندوں کو یہ ایک درست ردِّ عمل ہے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو چاہیئے کہ – نہ صرف مفلس – بلکہ کے پی کی تمام آبادی کو کور کیا جائے اور صحت کی مقامی تنصیبات اور خدمات کی فراہمی کو مستحکم کیا جائے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
0
نہیں
تبصرے 1
تبصرہ کی پالیسی
Captcha

یہ امر مایوس کن ہے کہ آپ بے کار مواد شائع کر رہے ہیں اور خبروں کی اس بین الاقوامی سائیٹ کی قدر کو برباد کر رہے ہیں۔

جواب