https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/07/22/feature-02
| دہشتگردی

ڈیرہ اسماعیل خان میں خاتون خودکش بمبار کا حملہ

اے ایف پی

image

پاکستان کا امدادی عملہ 21 جولائی کو ڈیرہ اسماعیل خان میں ہونے والے خودکش حملے میں بچ جانے والوں کو لے جا رہے ہیں۔ [عادل مغل/ اے ایف پی]

پشاور -- حکام کا کہنا ہے کہ ایک خاتون خودکش بمبار نے 6 افراد کو -- جن میں دو پولیس اہلکار بھی شامل تھے -- اتوار (21 جولائی) کو شمال مغربی پاکستان میں ہلاک کر دیا، جس کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی ہے۔

یہ دھماکہ کوتلاں سیدان گاوں کے داخلی راستے پر ہوا جو کہ ڈیرہ اسماعیل خان کے مضافات میں واقع ہے۔

پولیس اپنے ان دو ساتھیوں کی لاشوں کو لے جانے میں مدد کر رہے تھے جنہیں عسکریت پسندوں نے ہفتہ (20 جولائی) کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا، جب ایک خودکش بمبار نے حملہ کر دیا۔

image

پاکستان کے سیکورٹی اہلکار، 21 جولائی کو ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک ہسپتال میں خودکش دھماکے کی جگہ کا معائنہ کر رہے ہیں۔ [عادل مغل/ اے ایف پی]

image

خیبر پختونخواہ کے انسپکٹر جنرل آف پولیس محمد نعیم خان 21 جولائی کو پشاور میں اس پولیس افسر کے تابوت کو کندھا دے رہے ہیں جو اسی دن ڈیرہ اسماعیل خان میں ہلاک ہو گیا تھا۔ [شہباز بٹ]

بمبار ہسپتال تک چل کر آئی

انہوں نے کہا کہ "خودکش بمبار، جس کی عمر 28 سال تھی، پیدل آئی اور اس نے خودکو اڑا دیا جس سے دو پولیس اہلکار اور چار شہری ہلاک اور دیگر 13 زخمی ہو گئے"۔

زخمی ہونے والوں میں آٹھ پولیس اہلکار اور پانچ شہری شامل ہیں۔

ایک اور مقامی پولیس اہلکار ملک حبیب نے بم دھماکے اور ہلاک ہونے والوں کی تعداد کی تصدیق کی۔ انہوں نے کہا کہ افسران نے بعد میں بمبار کے مسخ شدہ سر کو دریافت کیا۔

تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ترجمان محمد خرسانی نے مقامی ذرائع ابلاغ کو بھیجے جانے والے ایک بیان میں اس کی ذمہ داری قبول کی۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
1
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha