https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/05/24/feature-01
صحت |

حملوں، جھوٹی خبروں کے بعد کے پی پولیو کے قطرے پلانے کی حکمتِ عملی میں تبدیلی لا رہا ہے

اشفاق یوسف زئی

image

پولیو کے قطرے پلانے والی خواتین کارکن 21 فروری کو پشاور کے مضافات میں چارسدہ روڈ پر خانہ بدوشوں کو قطرے پلانے کی تیاری کر رہی ہیں۔ ]محکمہ صحت کے پی[

پشاور -- خیبرپختونخواہ (کے پی) کی حکومت طبی کارکنوں پر حالیہ حملوں اور ان بے بنیاد افواہوں کے بعد کہ ویکسین سے بچوں کے لیے نقصان دہ ہے، پولیو کے قطرے پلانے کے بارے میں اپنی حکمتِ عملی تبدیل کر رہی ہے۔

کے پی کے سیکریٹری برائے صحت ڈاکٹر سید فاروق جمیل نے کہا کہ "ہم نے پشاور میں 22 اپریل کے واقعہ کے بعد، جس میں غصے کے شکار ہجوم نے بنیادی طبی یونٹ کو آگ لگا تھی، مختلف انتخابات پرغور کرنے کا فیصلہ کیا ہے"۔

کے پی کی حکومت نے 22 اپریل کو تین روزہ انسدادِ پولیو مہم کا آغاز کیا۔ اسی دن،مختلف بناوٹی ویڈیوز اور پیغامات پھیل گئے جن میں دعوی کیا گیا تھا کہ پولیو کے قطرے بچوں کو بیمار کر رہے ہیں، جس سے افراتفری پھیل گئی اور ہزاروں بچوں کو کے پی کے ہسپتالوں میں لایا گیا۔

image

پولیو کے خاتمے کے لیے وزیراعظم عمران خان کے فوکل پرسن بابر بن عطاء، 25 اپریل کو پشاور میں ایک مقامی مذہبی عالم کو قطرے پلا رہے ہیں۔ ]اشفاق محکمہ صحت کے پی[

جمیل نے کہا کہ "طبی کارکن خوف کا شکار ہیں"ان جھوٹے دعووں کے بعد کہ پولیو کے قطرے بچوں کو بیمار کر رہے ہیں۔ اب "گھر گھر جانے کی مہم انتہائی مشکل ہو گئی ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ہم نے تمام فریقین کے ساتھ مل کر کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اپنے کارکنوں کی حفاظت کے لیے ایک نئی پالیسی بنائی ہے"۔

کے پی میں اس سال پاکستان میں پیش آنے والے پولیو کے کل 15 واقعات میں سے 10 ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

مہم کی رفتار بدلنا

جمیل نے کہا کہ "اب ہم تمام بچوں تک پہنچنے کا ایک پروگرام اپنائیں گے اور اس کے ساتھ ہی اپنے کارکنوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں گے"۔

انہوں نے کہا کہ 22 اپریل کو پولیو کے بارے میں افراتفری پھیلنے کے بعد سے، عسکریت پسندوں نے کے پی میں پانچ عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ اس تشدد کے باعث طبی کارکن فیلڈ میں کام کرنے سے ڈر رہے ہیں۔

پولیو کے خاتمے کے لیے وزیراعظم عمران خان کے فوکل پرسن بابر بن عطا نے کہا کہ حکومت قطرے پلانے والوں کو درپیش خطرات کے باعث پولیو کے خلاف قطرے پلانے کی قومی اور ذیلی مہمات کی تعداد کو کم کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ "اس وقت، صوبے میں قطرے پلانے کی نو قومی مہمات جو جن میں چھہ ہفتوں کا وقفہ ہے، انجام پا رہی ہیں جبکہ قطرے پلانے کی ذیلی مہمات منتخب اضلاع میں انجام پاتی ہیں جس کا مطلب ہے کہ قطرے پلانے والا عملہ ہر گھر کا ایک مہینے میں اوسطا دس دفعہ چکر لگاتا ہے"۔

انہوں نے اور دوسرے حکام نے کہا کہ اتنا بار بار آنے کے باعث شبہات پیدا ہوئے اور کچھ شہری غصے کا شکار ہو گئے۔

کے پی کے ویکسینیشن پروگرام کے سربراہ ڈاکٹر اکرم شاہ نے کہا کہ اس مہم میں ساٹھ ہزار کارکنوں اور سیکورٹی کے عملے کے تعینات کیا گیا تھا جس سے جنگ جیسی صورت حال پیدا ہو گئی تھی اور شبہات نظر آ رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ "اب پولیو کے قطرے پلانے کی مہم کو سہ ماہی طور پر انجام دینے کا منصوبہ بنایا گیا ہے"۔

عوام میں آگاہی کو بڑھانا

کے پی پبلک ہیلتھ ایسوسی ایشن کی صدر ڈاکٹر صائمہ عابد نے کہا کہ حالیہ مہم نے طبی عملے میں خوف پیدا کر دیا ہے اور اگر ابلاغ کی حکمتِ عملی کو تبدیل نہ کیا گیا تو قطرے پلانے سے انکار بڑھ جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ "اس واقعہ نے پولیو کے کارکنوں کی زندگیوں کو مزید خطرے میں ڈال دیا ہے اور ہائی پروفائل کی مہمات ممکن نہیں ہیں۔ قطرے پلانے والوں میں تھکن اور خوف بڑھ رہا ہے اور وہ اس صورت حال میں اپنے فرائض انجام دینے کے لیے تیار نہیں ہیں"۔

عابد نے کہا کہ ایسوسی ایشن کے ارکان رضاکارانہ بنیادوں پر کام کر رہے ہیں "تاکہ بچپن کی اس بیماری کے خاتمے میں حکومت کی مدد کی جا سکے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ہم گھر گھر جانے کی بجائے جو کہ ایک خطرے کی بات بن گیا ہے، پولیو کے قطرے پلانے کی مہم کے موثر ہونے کے بارے میں عوامی آگاہی کو بڑھانے پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں"۔

شاہین بیگم جو کہ پولیو کے قطرے پلانے والی سینئر کارکن ہیں نے کہا کہ 2012 سے اب تک، طبی عملے کے ستر ارکان کو عسکریت پسندوں نے ہلاک کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "حکمتِ عملی میں تبدیلی لانے کا سوچنا عقل مندانہ ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ اکثر خاتون کارکن ہوتی ہیں جنہیں گھر گھر جاتے ہوئے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

پاکستان پیڈیاٹرکس ایسوی ایشن کے صدر پروفیسر گوہر رحمان نے بھی قطرے پلانے کی مہم کے لیے ایک مختلف حکمتِ عملی کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ "ہم موجودہ حکمتِ عملی کے تحت، پولیو کے پروگرام کے ہموار طور پر جاری رہنے کی توقع نہیں کر سکتے کیونکہ ہم گھروں پر باقاعدگی سے جاتے ہیں۔ ہمیں معمول کی ایمونائزیشن کو مظبوط بنانا چاہیے جہاں بچپن کی دس بیماریوں کے لیے ہسپتالوں میں ویکسین دی جاتی ہے"۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان، افغانستان اور نائیجیریا جہاں ابھی تک پولیو کی وباء موجود ہے۔ تمام مسلمان ممالک کو عسکریت پسندوں کی طرف سے دھمکیوں کا سامنا ہے اور وہ مطلوبہ سطح تک پولیو کے قطرے پلانے کے قابل نہیں ہوئے ہیں۔

عسکریت پسند قطرے پلانے کے خلاف ہیں اور بچوں کو بیماریوں کا نشانہ بنانا چاہتے ہیں، رحمان نے کہا۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
8
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha