جرم و انصاف

یولاسی پولیس پراجیکٹ پولیس اور عوام میں اعتماد کو بہتر بنا رہا ہے

جاوید محمود

image

یولاسی پولیس کے مشاورتی اجلاس کے شرکاء، جو چھہ ستمبر کو مردان میں منعقد ہوا، پولیس اصلاحات، قانون کی بالادستی، انسانی حقوق اور عوام اور پولیس میں اعتماد بہتر بنانے کے طریقوں پر بات چیت ہوئی۔ ]مرکز برائے تحقیق و سیکورٹی اسٹڈیز[

اسلام آباد --اس وقت جاری یولاسی (برادری) پولیس پراجیکٹ پولیس اصلاحات کے بارے میں آگاہی پیدا کر کے، خیبرپختوانخواہ (کے پی) پولیس اور عوام کو ایک دوسرے کے قریب لا رہا ہے۔ یہ بات اس معاملے میں شامل افراد نے کہی۔

یہ منصوبہ اپریل میں شروع ہوا تھا۔

مرکز برائے تحقحق و سیکورٹی اسٹڈیز (سی آر ایس ایس) اس منصوبے کو پولیس فورس میں شفافیت اور احتساب کو بڑھانے اور شہریوں میں پولیس پر اعتماد پیدا کرنے کی کوشش کے طور پر نافذ کر رہا ہے۔

سی آر ایس ایس کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر امتیاز گل نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "ہم نے پولیس کی صلاحیتوں کی تعمیر، قانون کی حکمرانی، اداراتی اصلاحات اور سندھ اور پنجاب صوبوں میں گڈ گورنس کے منصوبوں کو پہلے ہی مکمل کر لیا ہے اور اب ہم اس پروگرام کو ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے کے پی میں کر رہے ہیں"۔

اسلام میں قائم سول سوسائٹی کی تنظیم اور تھنک ٹینک سی آر ایس ایس کے مطابق، حتمی مقصد "پولیس اور عوام میں اعتماد کی کمی سے نپٹنا اور کے پی کی پولیس کو جواب دہ اور برادری پر مرکوز فورس بننے میں مدد کرنا ہے"۔

یولاسی پولیس پراجیکٹ کے سربراہ ملک مصطفی نے مردان سے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "ہم اپریل 2016 سے پشاور، چارسدہ اور مردان میں کانفرنسیں منعقد کر رہے ہیں تاکہ عوام اور پولیس کو حالیہ پولیس اصلاحات کے بارے میں آگاہ کیا جا سکے، انسانی حقوق اور امن و سیکورٹی کو قائم رکھنے میں پولیس اور عوام کی ذمہ داری کو اجاگر کیا جا سکے"۔

کھلے عام مباحثے اور تعاون کی درخواستیں

مصطفی نے کہا کہ یولاسی پولیس پروگرام کے حصہ کے طور پر، سینئر پولیس افسران سول سوسائٹی کے نمائندوں اور سیکورٹی کے تجزیہ کاروں کے ساتھ بیٹھتے ہیں تاکہ کے پی میں جاری پولیس اصلاحات پر بات چیت کی جا سکے اور لوگوں کی بھلائی اور سیکورٹی کے لیے پولیس کے اقدامات پر روشنی ڈالی جا سکے اور سیکورٹی کو قائم رکھنے اور عسکریت پسندی کو شکست دینے میں عوام کے تعاون کو حاصل کیا جا سکے۔

پولیس افسران، مقامی راہنما، صحافی اور وکلاء دو ستمبر کو مردان میں پولیس اصلاحات اور سیکورٹی سے متعلقہ معاملات کے بارے میں ہونے والے مشاورتی اجلاس میں شریک ہونے والوں میں شامل تھے۔

مصطفی نے کہا کہ کے پی کے سپریٹنڈنٹ پولیس (سیکورٹی) صاحب زادہ سجاد احمد نے اس میٹنگ کے دوران بتایا کہ دہشت گردی سے جنگ میں کے پی کی پولیس کو کسی بھی دوسری صوبائی پولیس کے مقابلے میں زیادہ ہلاکتوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے عوام کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ پولیس کی اس قربانی کا احترام کریں۔

سینئر پولیس حکام نے ورکنگ گروپ کو یہ بھی بتایا کہ پشاور میں ماڈل پولیس اسٹیشنوں کی تعداد سات سے بڑھ کر اکیس ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عوام کی پولیس تک رسائی کو آسان بنانے اور سیکورٹی اور گورنس کو بہتر بنانے کے لیے کی جانے والی اصلاحات کا حصہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پولیس اہلکاروں نے ذرائع ابلاغ پر زور دیا ہے کہ وہ ان وششوں کی حمایت کریں اور کے پی میں نافذ کی جانے والی اصلاحات اور امن کو قائم رکھنے اور عسکریت پسندی سے جنگ کرنے میں پولیس کی قربانیوں کو اجاگر کریں۔

بہتری کے لیے تجاویز

کراچی سے تعلق رکھنے والے سندھ پولیس کے ایک سابقہ انسپکٹر جنرل شعیب سدلی نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے پولیس فورس کو جدید سامان اور ہتھیاروں سے لیس کرنا چاہیے اور انہیں مسلسل تربیت فراہم کرنی چاہیے اور سیکورٹی کو بہتر بنانے کے لیے مزید رقم مختص کرنی چاہیے۔

علاوہ ازیں، انہوں نے کہا کہ پولیس میں بھرتی اور ترقی کو میرٹ اور کارکردگی پر کیا جانا چاہیے اور سیکورٹی اور پولیس کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے انسداد دہشت گردی کے نیشنل ایکشن پلان (این اے پی) کو نافذ کیا جانا چاہیے۔

این اے پی ملک میں عسکریت پسندی پر کریک ڈاون اور دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کو ختم کرنے کے لیے پاکستان کی پولیس کا قدم ہے۔ حکومت نے اس کے نفاذ کا اعلان دسمبر 2014 میں کیا تھا۔

سدلی نے کہا کہ پولیس کو مسلسل بنیادوں پر تربیت فراہم کرنے اور سرمایے اور وسائل میں اضافے کے ساتھ ساتھ، کرمنالوجی اور قانون کے گریجوئٹس کو بھی پولیس فورس میں شامل کیا جانا چاہیے تاکہ اس کی کارکردگی بہتر ہو۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 2

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500

بہت اچھے

جواب

بہت خوب

جواب