https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2016/08/05/feature-02
دہشتگردی |

'جذبے کے ساتھ انتظامِ فوجداری' کے پی پولیس کی شجاعت کی غمّاز

عدیل سعید

image

یکم جنوری کو پشاور میں کے پی کے انسپکٹر جنرل پولیس ناصر خان درّانی ڈسٹرکٹ پولیس آفیسرز کے ایک اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں۔ افسران نے کے پی میں امنِ عامہ کی صورتِ حال کا جائزہ لیا۔ [بشکریہ عدیل سعید]

پشاور — خیبر پختونخوا (کے پی) پولیس کی ایک سالانہ اشاعت دہشتگردی کے خلاف صوبائی پولیس فورس کی دلیرانہ جنگ کے بارے میں بیان کرتی ہے۔

2001 میں افغانستان میں جنگ چھڑنے کے بعد سے صوبہ کے پی دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی اپنی جنگ کا محاذی صوبہ رہا ہے۔

سخت ترین دہشتگردی کے خلاف کے پی پولیس کی ایک دہائی سے زائد عرصہ کی جنگ سے متعلق عوام کو آگاہ کرنے کی غرض سے کے پی سنٹرل پولیس آفس نے مئی میں اپنی سالانہ ”جذبے کے ساتھ انتظامِ فوجداری“ شائع کی۔

کے پی پولیس نے مئی میں ایک بیان میں کہا، ”یہ کتاب بتاتی ہے کہ کے پی پولیس نے کیسے انسدادِ دہشتگردی کے چیلنج کا سامنا کیا اور اپنی استعداد میں اضافہ کیا۔“

2006 سے اب تک کے پی پولیس 1,204 اہلکار کھو چکی ہے لیکن دہشتگردوں کا مقابلہ کرنے میں کبھی متزلزل نہیں ہوئی۔

درایں اثناء، استعداد میں اضافہ کے لیے، ستمبر 2013 میں آغاز کرتے ہوئے انہوں نے اڑھائی برس کے عرصہ میں چھ عالمی معیار کے تربیتی اداروں کا آغاز کیا۔ اہلکار تفتیش، انٹیلی جنس، دھماکہ خیز مواد سے نمٹنے اور پولیس کے کام کے دیگر پہلوؤں کے جدید ترین طریقے سیکھتے ہیں۔

کے پی کے انسپکٹر جنرل پولیس ناصر خان درّانی نے کتاب میں اپنے تبصرہ میں کہا، ”اس کتاب کا مقصد صوبے اور اس کی پولیس فورس کو درپیش چیلنجز، ان چیلنجز کا تیزی سے ردِّ عمل دینے میں اس کی بہادری، اور متعدد اصلاحات کے تحت محکمۂ پولیس کی جانب سے کی گئی پیش رفت سے متعلق آگاہی پیدا کرنا ہے۔“

درّانی نے کتاب کے لیے اپنی تحریر میں کہا کہ کے پی پولیس چیلنجز سے بھرپور دور میں مضبوط اور بہادر رہی ہے۔

کے پی پولیس کی پذیرائی

مشاہدین افرادی قوت کو مستحکم کرنے کے کام میں وقت کے ساتھ چلنے کا سہرا کے پی پولیس کے سر رکھتے ہیں۔

پاکستان سوسائٹی آف کرمنالوجی کے پشاور سے تعلق رکھنے والے صدر فصیح الدین (جن کا ایک ہی نام ہے) نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”دہشتگردی کے خلاف لڑائی اور اصلاحات متعارف کرنے میں کے پی پولیس نے پولیس کی دیگر قیادت کے لیے ایک بے نظیر مثال قائم کی ہے۔“

انہوں نے کہا کہ یہ کتاب قارئین کو دہشتگردی کے خلاف لڑائی میں کے پی پولیس کے متعدد پرجوش لمحات یاد کراتی ہے۔

فصیح الدین نے کہا، ”عام طور پر کہا جاتا ہے کہ امتیاز نہایت قلیل فرق سے آتا ہے، لیکن کے پی پولیس کے یہاں کئی امتیازی کامیابیاں ہیں۔“

انہوں نے کہا کہ یہ کتاب کے پی پولیس کی متعدد اصلاحات کی نشاندہی کرتی ہے تاکہ قارئین، محقق اور پالیسی ساز اس سے متعلق بحث کر سکیں، انہوں نے مزید کہا کہ ایسی صاف گوئی کے پی پولیس کو بہتر بنائے گی۔

پشاور سے تعلق رکھنے والے سیکیورٹی اور شرپسندی کے صحافی شمیم شاہد نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”یہ کتاب ۔۔۔ پولیس فورس کو درپیش کمیوں کی بھی نشاندہی کرتی ہے۔“

شاہد نے کہا کہ قارئین کو ان اقدامات کی آگاہی حاصل ہوتی ہے جو درّانی نے فورس کی اصلاحات کرنے، اس کی استعداد میں اضافہ کرنے اور اسے عوام کے سامنے جوابدہ بنانے کے لیے کیے۔

پشاور سے تعلق رکھنے والے پولیس عہدیدار اور اخبار کے مقالہ نگار محمّد علی باباخیل نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”یہ کتاب ایک گراں قدر کاوش ہے۔ تعلقاتِ عامہ اعتمادِ عامہ تشکیل دینے میں معاون ہوتے ہیں۔“

انہوں نے کے پی پولیس پر اس امر کو یقینی بنانے کے لیے زور دیا کہ قانون سازوں، ججوں، سکالرز، صحافیوں اور حقوقِ انسانی کے فعالیت پنسدوں سمیت قارئین کی وسیع تعداد اس کتاب کو پڑھے۔

پشاور سے تعلق رکھنے والے ایک سیکیورٹی تجزیہ کار اور وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات کے لیے سابق سیکریٹری سیکیورٹی برگیڈیئر (ریٹائرڈ) محمود شاہ نے بھی اس جلد کی خاصی پذیرائی کی۔

شاہ نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”عوام کو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہماری پولیس فورس کی قربانیوں اور بہادری کا علم ہونا چاہیے۔“

شاہ نے کہا کہ عوامی رائے کی حوصلہ افزائی کرنے کے نتیجہ میں پولیس کو بہتر بنانے کے لیے گراں قدر تجاویز آئیں گی۔

شاہ نے تنبیہ کی کہ کے پی پولیس کو اپنی تجدید کرتے رہنا ہو گا کیوں کہ دہشتگرد ہمیشہ نئی مہارتیں اور طریقے اختیار کرتے رہتے ہیں۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
2
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی