تعلیم

ملالہ یوسفزئی کی جانب سے افغان خواتین کی بھرپور حمایت کا مطالبہ

از پاکستان فارورڈ اور اے ایف پی

image

پاکستانی فعالیت پسند برائے تعلیمِ نسواں اور نوبل امن انعام یافتہ، ملالہ یوسفزئی امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کے ہمراہ 6 دسمبر کو واشنگٹن میں خطاب کرتے ہوئے۔ [مینوئل بالس/پول/اے ایف پی]

واشنگٹن -- انسانی حقوق کی وکیل اور نوبل امن انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی، جو 2012 میں ایک عسکریت پسند کی فائرنگ سے مرتے مرتے بچی تھیں، نے سوموار (6 دسمبر) کے روز واشنگٹن کے دورے کے دوران افغان لڑکیوں اور خواتین کی بھرپور امریکی حمایت کے لیے دلائل پیش کیے۔

24 سالہ نوجوان، جو افغان خواتین کارکناں کے ساتھ کام کرتی ہے، نے امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کے ساتھ کھڑے ہو کر اپنے بیان میں کہا "افغانستان اس وقت واحد ملک ہے جہاں لڑکیوں کو ثانوی تعلیم تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ انہیں سیکھنے سے روک دیا گیا ہے"۔

سنہ 2012 میں پاکستان کے ضلع سوات میں ایک مسلح شخص نے یوسفزئی کو اس کی اسکول بس میں گولی مار دی تھی۔ وہ انگلینڈ میں صحتیاب ہوئی، جہاں وہ اب مقیم ہے۔

یوسفزئی نے سنہ 2014 میں امن کا نوبل انعام جیتا تھا۔

مفرور باغی رہنماء جس نے اس کے قتل کا حکم دیا تھا، مُلا فضل اللہ، کو صوبہ کنڑ میں ہلاک کر دیا گیا تھا یہ واقعہ سنہ 2018 میں پیش آیا تھا۔

افغان لڑکی کی جانب سے استدعا

ستودہ نامی ایک 15 سالہ افغان لڑکی کا خط امریکی صدر جو بائیڈن کو پیش کرتے ہوئے، انہوں نے مزید کہا "یہ اس وقت افغان لڑکیوں کا پیغام ہے: ہم ایک ایسی دنیا دیکھنا چاہتی ہیں جہاں تمام لڑکیوں کو محفوظ اور معیاری تعلیم تک رسائی حاصل ہو"۔

یوسفزئی کے مطابق، ستودہ نے لکھا، "لڑکیوں کے لیے سکول اور یونیورسٹیاں جتنی زیادہ دیر بند رہیں گے، یہ [ان کے] مستقبل کے لیے اُمید کو اتنا ہی کم کرے گا۔"

خط پڑھتے ہوئے یوسفزئی نے مزید کہا، "لڑکیوں کی تعلیم امن اور سلامتی لانے کا ایک طاقتور ذریعہ ہے۔ اگر لڑکیاں نہیں سیکھیں گی تو افغانستان کو نقصان پہنچے گا۔"

افغانستان، جہاں سابقہ حکومت اگست میں گر گئی تھی، میں ثانوی سکول صرف لڑکوں کے لیے دوبارہ کھولے گئے ہیں ، اور صرف مردوں کو پڑھانے کی اجازت ہے۔

بلنکن کے ساتھ ایک نجی ملاقات سے پہلے، یوسفزئی نے کہا، "ہمیں امید ہے کہ امریکہ، یو این [اقوام متحدہ] کے ساتھ مل کر، اس بات کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کرے گا کہ لڑکیوں کو جلد از جلد ان کے سکولوں میں واپس جانے کی اجازت دی جائے"۔

بلنکن نے یوسفزئی کو "دنیا بھر کی لڑکیوں اور خواتین کے لیے ایک مثال" اور ایک ایسی شخصیت جو "اپنے کام سے، اپنی کوششوں سے، حقیقی فرق پیدا کر رہی ہے،" کے طور پر سلام پیش کیا۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500