صحت

طالبان کی جانب سے اسکول جانے پر پابندی کے بعد سے لڑکیوں میں ذہنی پریشانی بڑھ رہی ہے

از عمران

طالبان کی جانب سے لڑکیوں کے ہائی اسکولوں اور سرکاری یونیورسٹیوں میں جانے پر پابندی کے بعد سے افغانستان میں طالبات میں ذہنی پریشانی پھیل رہی ہے۔ ہرات ریجنل ہسپتال کے حکام نے رپورٹ کیا ہے کہ ہسپتال کے دماغی صحت کے وارڈ میں روزانہ 200 سے زیادہ مریض آتے ہیں، جن میں سے 80 فیصد کے قریب نوجوان خواتین اور لڑکیاں ہیں۔ [عمران/سلام ٹائمز]

ہرات --- طالبان کی جانب سے لڑکیوں کے ہائی اسکولوں اور سرکاری یونیورسٹیوں میں جانے پر پابندی کے بعد سے افغانستان میں طالبات میں ذہنی پریشانی پھیل رہی ہے۔

پرائیویٹ یونیورسٹیاں کھلی ہیں، لیکن اسلامی تحریک مرد اور خواتین طالب علموں کی سخت علیحدگی کا مطالبہ کرتی ہے، اور طالبات کو نقاب اور عبایہ پہننے کا حکم دیا ہے۔

اگست میں طالبان کے قبضے کے بعد سے سرکاری یونیورسٹیاں بند ہیں۔ اس کے علاوہ، افغانستان کے نئے حکمران لڑکیوں کو چھٹی جماعت کے بعد اسکول جانے کی اجازت نہیں دیتے۔

ہرات ریجنل ہسپتال کے حکام نے رپورٹ کیا ہے کہ ہسپتال کے دماغی صحت کے وارڈ میں روزانہ 200 سے زیادہ مریض آتے ہیں، جن میں سے تقریباً 80 فیصد نوجوان خواتین اور لڑکیاں ہیں، خاص طور پر یونیورسٹی اور ہائی سکول کی طالبات۔

image

قندھار میں 26 ستمبر کو افغان لڑکیوں کو اسکول میں اپنے جماعتوں سے نکلتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ طالبان نے چھٹی جماعت کے بعد، لڑکیوں پر اپنی تعلیم جاری رکھنے پر پابندی لگا دی ہے۔ [بلیمٹ کیلک/ اے ایف پی]

image

ہرات شہر میں 18 ستمبر کو گوہر شاد بیگم ہائی اسکول سے چھٹی جماعت یا اس سے نیچے کی کلاس کی طالبات نکل رہی ہیں۔ [عمران/سلام ٹائمز]

اکتوبر کے وسط میں، دماغی صحت کے وارڈ کے ڈائریکٹر، ڈاکٹر واحد احمد نورزاد نے کہا کہ پچھلے مہینے میں ان کے شعبہ میں جتنی نوجوان لڑکیاں آئی ہیں اس کی مثال نہیں ملتی۔

نورزاد نے کہاکہ "ہمارے 80 فیصد مریض متوسط طبقے کی طالبات ہیں جو اپنے اب محدود سماجی میل جول اور اپنی موجودہ صورتحال سے ہم آہنگ نہ ہونے کی وجہ سے ذہنی صحت کے مسائل کا شکار ہیں۔"

ہرات میں 11ویں جماعت کی طالبہ نسیمہ حسینی کہتی ہیں کہ وہ اپنے مستقبل کے بارے میں امید کھو چکی ہیں۔

نسیمہ نے 15 اکتوبر کو ہرات کے علاقائی ہسپتال میں آئی تھیں۔

"مجھے دن رات یہ پریشانی رہتی ہے کہ میری 11 سال کی سخت محنت کا کیا ہو گا اگر ہمارے اسکول دوبارہ نہ کھلے"۔

انہوں نے کہا کہ ان کی نیند ختم ہو گئی ہے اور ہر رات ڈراؤنے خواب آتے ہیں۔ نسیمہ نے مزید کہا کہ "پریشانی کم کرنے والی گولیاں لینے کے باوجود، میں جب بھی اسکول اور اپنے ہم جماعتوں کو یاد کرتی ہوں، روتی ہوں، اور مجھے نیند نہیں آتی"۔

غیر یقینی مستقبل

طالبان کی طرف سے لاکھوں طالبات کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے پارسا محمدی اور ان گنت دیگر افغان خواتین اور لڑکیوں کو اپنے غیر یقینی مستقبل کے بارے میں مایوسی ہوئی ہے۔

محمدی، جو ہرات یونیورسٹی میں سوشیالوجی کے چوتھے سال کی طالب علم ہیں، نے کہا کہ "مجھے لگتا ہے کہ میری ساڑھے تین سال کی پڑھائی ضائع ہو گئی ہے اور میری کوششیں رائیگاں گئی ہیں۔"

اس نے کہا کہ وہ یونیورسٹیوں کے دوبارہ کھلنے کے بارے میں سننے کی امید میں ہر روز خبریں دیکھتی ہیں لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

محمدی نے کہا کہ "میں نے ماسٹرز ڈگری حاصل کرنے اور گریجویشن کے بعد اپنے ملک کی خدمت کرنے کا ارادہ رکھتی تھی۔ لیکن طالبان کی آمد سے میرے تمام خواب چکنا چور ہو گئے ہیں۔"

"یہ بہت مایوس کن ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "اب میں مزید پڑھنے یا مستقبل کے بارے میں سوچنے کا جذبہ اور حوصلہ کھو چکی ہوں۔"

انہوں نے مزید کہا کہ اگر طالبان چاہتے ہیں کہ ان کی حکومت قائم رہے تو انہیں خواتین کے حقوق کی خلاف ورزی نہیں کرنی چاہیے اور انہیں لڑکوں کی طرح لڑکیوں کو بھی تعلیم جاری رکھنے کی اجازت دینی چاہیے۔

ذکیہ نوروزی، جنہوں نے ہرات یونیورسٹی میں معاشیات کے ماسٹرز پروگرام میں داخلہ حاصل کرنے کے لیے سخت محنت کی، نے کہا کہ طالبان کی آمد کے ساتھ ہی ان کے تمام مقاصد اور خواہشات دم توڑ گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ طالبان نے میری امیدوں اور زندگی بھر کی محنت کو تباہ کر دیا ہے۔

نوروزی نے مزید کہا کہ "ہم سے امید چھین لی گئی ہے اور ہمارے تمام خواب اور اہداف اب صرف دور کی خواہشات بن گئے ہیں۔"

کھو جانے والے مواقع

لاکھوں افغان لڑکیاں اور خواتین گزشتہ دو مہینوں سے اپنی تعلیم کے بارے میں طالبان کے فیصلے کا بے چینی کے ساتھ انتظار کر رہی ہیں۔

ہرات یونیورسٹی میں سائنس کے چوتھے سال کی طالبہ شکیلہ احمدی نے کہا کہ وہ ایک ماہ میں فارغ التحصیل ہونے والی تھیں لیکن اب وہ غیر یقینی کی صورتِ حال سے دوچار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "میں دو مہینے سے اپنی کلاسوں سے دور ہوں اور میں انتہائی بے چین ہوں۔ میں یونیورسٹی کے دوبارہ کھلنے کا انتظار کرتے کرتے تھک گئی ہوں اور مجھ میں پڑھنے کا حوصلہ ختم ہو گیا ہے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ "طالبان نے ہم سے تعلیم حاصل کرنے کا موقع چھین لیا۔ ہفتے اور مہینے گزر چکے ہیں، لیکن تعلیم اور علم کے دروازے ابھی تک ہم پر بند ہیں۔"

ہر اس گزرتے دن کے ساتھ، جب اسکول اور یونیورسٹیاں بند ہیں، لاکھوں بچیوں کو تعلیم سے محروم رکھا جا رہا ہے۔

احمدی نے کہا کہ "یہ ان کو دھوکہ دینے کے برابر ہے، خاص طور پر اب جب ہم 21 ویں صدی میں رہ رہے ہیں"۔

ہرات یونیورسٹی میں چوتھے سال کی ایک اور طالبہ زیبا وحیدی نے کہا کہ طالبان کی جانب سے لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کی وجہ سے وہ اپنی تعلیم کا ایک سمسٹر چھوڑ چکی ہیں۔

انہوں نے گلہ کرتے ہوئے کہا کہ "میں ایک مہینے میں گریجویشن کر لیتی اور اپنی ڈگری حاصل کر لیتی اگر طالبان نے یہ پابندی نہ لگائی ہوتی۔ اب میں نہیں جانتی کہ میرے لیے مستقبل میں کیا رکھا ہے"۔

وحیدی نے کہا کہ اس کے نتیجے میں بہت سے خاندان اپنی بیٹیوں کی تعلیم کے حصول کے لیے افغانستان چھوڑ چکے ہیں۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500