سلامتی

قندوز میں طالبان کے حملے کے فوراً بعد عام شہریوں کی اموات کی تعداد آسمان کو چھونے لگی

از محمد قاسم

گزشتہ تین ہفتوں میں عام افغان شہریوں کی اموات کی تعداد آسمان کو چھونے لگی ہے کیونکہ طالبان نے صوبہ قندوز کے کئی اضلاع اور قندوز شہر میں حملے شروع کر دیئے ہیں۔ محکمۂ صحت کے حکام کے مطابق، 22 جون سے 12 جولائی تک، قندوز علاقائی ہسپتال میں کوئی 45 متوفی اور 670 زخمی عام شہری لائے گئے۔ [محمد قاسم/سلام ٹائمز]

قندوز -- گزشتہ تین ہفتوں میں عام افغان شہریوں کی اموات کی تعداد آسمان کو چھونے لگی ہے کیونکہ طالبان نے صوبہ قندوز کے کئی اضلاع اور قندوز شہر میں حملے شروع کر دیئے ہیں۔

قندوز علاقائی ہسپتال کے ڈائریکٹر احسان اللہ فاضلی نے کہا، 22 جون سے 12 جولائی تک، ہسپتال میں کوئی 45 متوفی اور 670 زخمی عام شہری لائے گئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ اموات کی ایک وسیع اکثریت بچوں، خواتین اور بزرگوں کی تھی۔

فاضلی نے کہا، "عام شہریوں کی اموات مارٹر گولے، بندوق کی گولیاں لگنے اور ان کے گھروں کے منہدم ہونے کے نتیجے میں ہوئیں۔"

image

4 جولائی کو قندوز شہر کے علاقے دبلولا میں طالبان کے ایک گولے سے زخمی ہونے والا ایک نوجوان 12 جولائی کو قندوز علاقائی ہسپتال میں زیرِ علاج ہے۔ [محمد قاسم]

قندوز شہر کے علاقے زر خرید کے ایک مکین، سیداللہ حق شناش، 1 جولائی کو اپنے گھر میں طالبان کا ایک گولہ لگنے کے بعد ہسپتال میں صحت یاب ہو رہے ہیں۔

بمباری میں ان کا بیٹا جاں بحق ہو گیا تھا۔

حق شناس کا کہنا تھا، "آپ کو بمشکل ہی کوئی گھرانہ ایسا ملے گا جس کے افراد نہیں مارے گئے یا زخمی نہیں ہوئے،" ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کے بہت سے ہمسائے قندوز شہر کے نسبتاً محفوظ علاقے سرِ دوارا میں بھاگ جانے پر مجبور ہو گئے تھے۔

قندوز شہر کے علاقے سہ درک کے ایک باشندے، حشمت اللہ نے کہا کہ وہ اور ان کے بھائی 3 جولائی کی رات کو اپنے گھر میں سوئے ہوئے تھے جب طالبان کا داغا گیا گولہ ان کے گھر پر گرا اور وہ زخمی ہو گئے۔

انہوں نے کہا، "وہ روزانہ لاشوں اور زخمی عام شہریوں کو ہسپتال لاتے ہیں،" ان کا مزید کہنا تھا کہ لڑائی نے عام شہریوں کی زندگیاں تباہ کر دی ہیں۔

شہر کے نواحی علاقے کندک عنایت کے ایک مکین غلام حیدر نے کہا کہ طالبان کے حملوں میں اضافے کی وجہ سے، قندوز شہر کے مضافاتی علاقوں میں مکینوں نے اپنے گھر خالی کر دیئے ہیں۔

انہوں نے کہا، "طالبان آخر عام شہریوں سے چاہتے کیا ہیں؟ جنگ اور تباہی کتنی دیر جاری رہے گی؟"

حیدر نے طالبان سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اپنے حملے روک دیں اور عام شہریوں کو واپس گھروں میں آنے دیں۔

قندوز کے قائم مقام گورنر نجیب اللہ عمرخیل نے کہا کہ گزشتہ مہینے کے دوران صوبہ قندوز کے دارالحکومت اور چند اضلاع میں 12،000 سے زائد خاندان بے گھر ہو چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے بے گھر ہونے والے خاندانوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد فراہم کرنا شروع کر دی ہے۔

16 جولائی کو ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک مقامی حکومت نے غیر سرکاری تنظیموں کے تعاون سے تقریباً 5،000 خاندانوں کو امداد فراہم کی ہے۔

حکام نے مستقبل میں امداد وصول کرنے والے مزید 3،000 گھروں کی شناخت کی ہے۔

جنگ بندی، امن مذاکرات کے مطالبے

11 جولائی کو ایک نیوز کانفرنس میں سول سوسائٹی کے کارکنوں اور قندوز شہر کے عمائدین نے طالبان کی پُرتشدد کارروائیوں کی شدید مذمت کی اور فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔

قندوز شہر میں سول سوسائٹی کی ایک تنظیم کے ڈائریکٹر، عنایت اللہ خالق نے کہا کہ طالبان نے عام شہریوں کو موت کی نیند سلایا ہے، ہزاروں کنبوں کو بے گھر کیا ہے، غربت میں اضافہ کیا ہے اور مکینوں کی رہائش گاہیں تباہ کر دی ہیں۔

بڑھتی ہوئی غربت، غذائی قلت، بے گھری اور دیگر مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے، ان کا کہنا تھا، "بدقسمتی سے، عام شہریوں کے حالات انتہائی مخدوش ہیں۔"

قندوز کے مقامی سول سوسائٹی کے ایک کارکن، عبدالمعروف راسخ نے کہا کہ عام شہریوں کو نشانہ بنانا جنگی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

تمام متحارب فریقین کو فوری جنگ بندی پر اتفاق کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ بے گھر ہونے والے خاندان بہت بڑی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، بشمول غذائی قلت اور علاج معالجہ۔

حقوقِ نسواں کی ایک کارکن، ملالائی سعد نے کہا، "لڑائی کا جاری رہنا عام شہریوں کی جانیں لے رہا ہے۔"

ان کا کہنا تھا، "اگر طالبان کا ہدف اقتدار کا حصول ہے، تو ان کے لیے لازمی ہے کہ وہ مذاکرات کی میز پر بیٹھیں اور عام شہریوں کو دانستہ طور پر ہلاک کرنے سے باز رہیں۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500