https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/01/25/feature-01
| سلامتی

پاکستانی فوج کی جانب سے تاپی پائپ لائن کے بنیادی ڈھانچے کی حفاظت کی تیاری

از جاوید محمود

image

پاکستان کی کئی دفاعی قوتیں شام ڈھلے مشقیں کرتے ہوئے۔ [آئی ایس پی آر]

اسلام آباد -- حکام کا کہنا ہے کہ ترکمانستان-افغانستان-پاکستان-ہندوستان (تاپی) پائپ لائنکے پاکستان کے حصے کی تعمیر مارچ میں شروع ہونے جا رہی ہے، جس کے لیے پاکستانی فوج منصوبے کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے تیار ہے۔

وزارتِ توانائی کے پیٹرولیم کے شعبے کی ترجمان، دریہ عامر نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ فوج نے پاکستان میں تاپی کے بنیادی ڈھانچے کی حفاظت کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

انہوں نے کہا، "اب پاکستان میں بڑی گیس پائپ لائن کے منصوبے کی حفاظت فوج کی ذمہ داری ہو گی۔"

image

دائیں سے بائیں: تب کے پاکستانی وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی، افغان صدر اشرف غنی، ترکمن صدر قربان قلی بردی محمدوف اور ہندوستانی وزیرِ خارجہ شری ایم جے اکبر 23 فروری کو افغانستان کے صوبہ ہرات میں تاپی گیس پائپ لائن منصوبے کے افتتاح کے دوران دیکھے جا سکتے ہیں۔ ہتھیار ڈالنے والے طالبان جنگجوؤں کا کہنا ہے کہ ایران نے انہیں اس تقریب پر حملہ کرنے کا حکم دیا تھا۔ [ہوشانگ ہاشمی/اے ایف پی]

image

ترکمانستان سے ہندوستان، بذریعہ افغانستان اور پاکستان تاپی پائپ لائن کا منصوبہ بندی کردہ راستہ ایک نقشے میں دکھایا گیا ہے۔ [ آئ ایس جی ایس]

گزشتہ فروری میںتاپی میں شامل چاروں ممالکسے تعلق رکھنے والے حکام نے پائپ لائن کے افغانستان کے حصے کا باضابطہ سنگِ بنیاد رکھا تھا۔

دریہ نے کہا کہ پائپ لائن افغانستان کے ساتھ چمن بارڈر کراسنگ سے پاکستان میں داخل ہو گی اور ہندوستانی ریاست پنجاب میں فاضلکا کے قریب ختم ہونے سے قبل صوبہ پنجاب میں ملتان کی طرف جائے گی۔

انہوں نے کہا، "[پاکستان میں] اس منصوبے کی تعمیر کے لیے سنگِ بنیاد رکھنے کی تقریب اس سال مارچ یا اپریل میں منعقد کی جا رہی ہے۔"

منصوبے میں سرمایہ کاری

ترکمانستان کی مقامی، تاپی پائپ لائن کمپنی کے چیف ایگزیکٹو، محمد مراد امانوف نے تصدیق کی کہ منصوبے کا سروے پہلے ہی مکمل کیا جا چکا ہے اور پاکستانی حصے کی تعمیر کا آغاز سنہ 2019 کی پہلی سہ ماہی میں ہو گا۔

انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) کے زیرِ اہتمام 6 دسمبر کو اسلام آباد میں ہونے والی ایک تقریب میں انہوں نے کہا کہ پایۂ تکمیل کو پہنچنے پر 1،814 کلومیٹر طویل پائپ لائن ترکمانستان کی گلکینیش گیس فیلڈ سے روزانہ 33 بلین مکعب فٹ گیس سپلائی کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ تاپی منصوبہ نا صرف افغانستان، پاکستان اور ہندوستان کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرے گا بلکہ علاقائی ارتباط اور معاشی ترقی کو بھی فروغ دے گا۔

انہوں نے کہا کہ نظرِثانی شدہ 7 بلین ڈالر لاگت کے ساتھ یہ منصوبہ دو مراحل میں مکمل ہو گا۔ پہلا مرحلہ پائپ لائن بچھانے پر مشتمل ہو گا، جبکہ دوسرے مرحلے کے عملے کے ارکان گیس کی بلاتعطل سپلائی کو یقینی بنانے کے لیے چھ کمپریسر نصب کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے کے لیے بجٹ کو مارچ تک حتمی شکل دے دی جائے گی، اور وہ مرحلہ پائپ لائن بچھانے کے لیے راستہ کھولے گا۔

امانوف نے کہا کہ جرمن، اطالوی اور ترکی کمپنیوں نے پائپ لائن کی تعمیر کے لیے بولیاں دی ہیں۔

اسلامی تعاون برائے بیمہ سرمایہ کاری اور برآمدی کریڈٹ نے 300 ملین ڈالر کے قرض کی تصدیق کی ہے، جبکہ ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے 500 ملین ڈالر کی ضمانت دی ہے۔

اسلام آباد میں بینک کے ترجمان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "اے ڈی بی نے اس گیس منصوبے کی تعمیر کے لیے سرمایہ کاری میں 1 بلین ڈالر کا اعلان کیا ہے۔"

انہوں نے کہا کہ 500 ملین ڈالر کی دوسری قسط اس وقت فراہم کی جائے گی جب منصوبہ پہلے مرحلے کے لیے ابتدائی رقم استعمال کر چکا ہو گا۔

پاکستان میں تحفظ

آئی ایس ایس آئی کے چیئرمین سفارتکار (ر) خالد محمود نے 6 دسمبر کو ہونے والی تقریب کے دوران کہا کہ تاپی منصوبے کی حفاظت ایک انتہائی اہم معاملہ ہے اور اسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات میں بہتریاور پاکستان اور ہندوستانکے درمیان تعلقات میں بہتری تاپی منصوبے کے ہموار اطلاق کو یقینی بنانے میں بنیادی رہی ہیں۔

اسلام آباد کے مقامی پاکستانی ادارہ برائے تنازعہ و حفاظتی مطالعات کے مینیجنگ ڈائریکٹر، عبداللہ خان نے کہا کہ طالبان اور ایران حفاظت کی دو دیگر تشویشیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جنگجو گروپ انہیں ہدف نہ بنانے کے عوض چند ممالک سے بہت بڑی پیسے کی رقوم بٹور رہے ہیں جنہوں نے افغانستان میں بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہوئی ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "افغانستان میںتاپی منصوبہ طالبان کے لیے پیسہ کمانے کا ایک اور بڑا ذریعہ ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا، "کچھ اطلاعات ہیں کہایران تاپی منصوبے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے، لیکن اس کا انحصار طالبان کی سوچ پر ہو گا۔"

افغانستان نے تاپی منصوبے کی حفاظت کے لیے 7،000 نفوس پر مشتمل ایک طاقتور محکمہ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے، لیکن خان نے تشویش کا اظہار کیا کہ یہ پائپ لائن کی حفاظت کے لیے کافی نہیں ہو گا، جو ہرات اور قندھار صوبوں میں سے گزرے گی -- جو کہ دونوں ہی طالبان کے مضبوط گڑھ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں، پائپ لائن کو بلوچستان کے ژوب اور لورالائی علاقوں میں طالبان جنگجوؤں سے نیز جنوبی پنجاب میں مختلف کالعدم عسکری تنظیموں سے دہشت گردی کے خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔

خان نے کہا تاہم، پاکستانی فوج نے دکھایا ہے کہ یہ منصوبے کو دہشت گرد خطرات سے بچانے کی اہلیت رکھتی ہے، انہوں نے مزید کہا کہسنہ 2018 میں پاکستان میں جنگجوؤں کے حملوں میں 45 فیصد کمینشاندہی کرتی ہے کہ فوج کا حفاظت پر سخت کنٹرول ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
5
نہیں
تبصرے 3
تبصرہ کی پالیسی
Captcha

یہ توانائی کا اچھامنصوبہ ہے۔مگر تاخیر کی وجوہات نامعلوم ہے۔۔

جواب

خوب

جواب

یہ منصوبہ، جس کا طویل عرصہ سے انتظار کیا جا رہا تھا، دوستی اور دوطرفہ مفادات کا ایک رشتہ ثابت ہو گا۔

جواب